سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب في الرجل يأخذ حقه من تحت يده
باب: کیا کسی آدمی کا ماتحت اس کے مال سے اپنا حق لے سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 3534
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ، قَالَ:" كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ، كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ".
یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے (بڑے ہونے پر) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے (میں نے حساب کیا تو) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا (جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہٰ دے کر آپ سے اینٹھ لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں (میں واپس نہ لوں گا) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3534]
جناب یوسف بن ماہک مکی کا بیان ہے کہ فلاں آدمی کئی یتیموں کا سرپرست تھا اور میں اس کا خرچ لکھا کرتا تھا۔ ان یتیموں نے اسے ایک ہزار درہم کا مغالطہ دیا جو اس نے ان کو ادا کر دیا۔ پھر میں نے (کاتب نے) ان کے مال میں دوگنا پایا۔ میں نے اس سے کہا: ”وہ ہزار جو انہوں نے تجھ سے (مغالطہ دے کر) لیے ہیں نکال لو۔“ اس (ولی) نے کہا: ”نہیں۔ مجھے میرے والد نے بیان کیا ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا: ” «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ» ”جو تجھے امین بنائے، تو اس کی امانت اسے واپس کر دے اور جو تیری خیانت کرے، تو اس کی خیانت نہ کر۔“”“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15708)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/414) (صحیح)» (اس کا راوی فلاں مبہم تابعی ہے، لیکن اگلی حدیث اور دوسرے شواہد کے بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی 423)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حميد الطويل مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 125
إسناده ضعيف
حميد الطويل مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 125
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3534
| أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك |
Sunan Abi Dawud Hadith 3534 in Urdu
اسم مبهم ← اسم مبهم