🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ
باب: کیا کسی آدمی کا ماتحت اس کے مال سے اپنا حق لے سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ، وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تمہارے پاس امانت رکھی اسے امانت (جب وہ مانگے) لوٹا دو اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت (دھوکے بازی) کی ہو تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3535]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تجھے امین بنائے، تو اس کی امانت اسے ادا کر دے اور جو تیری خیانت کرے، تو اس کی خیانت نہ کر۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 38 (1264)، (تحفة الأشراف: 12836، 18623)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 57 (2639) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بظاہر اس حدیث اور ہند رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مابین اختلاف ہے، لیکن درحقیقت ان دونوں کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ خائن وہ ہے جو ناحق کسی دوسرے کا مال ظلم و زیادتی کے ساتھ لے، رہا وہ شخص جسے اپنا حق لینے کی شرعاً اجازت ہو وہ خائن نہیں ہے، جیسا کہ ہند رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شوہر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے مال سے عام دستور کے مطابق لینے کی اجازت دی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1264)
شريك القاضي عنعن وقيس بن الربيع ضعيف وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء 81/4) وقال المناوي: ضعفه الجمھور(فيض القدير119/3ح2835)
وللحديث شواھد كثيرة كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 125

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
5689

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين
Newعثمان بن عاصم الأسدي ← أبو صالح السمان
ثقة ثبت سنى
👤←👥قيس بن الربيع الأسدي، أبو محمد
Newقيس بن الربيع الأسدي ← عثمان بن عاصم الأسدي
صدوق تغير لما كبر وأدخل عليه ابنه ما ليس من حديثه
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← قيس بن الربيع الأسدي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥طلق بن غنام النخعي، أبو محمد
Newطلق بن غنام النخعي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة
👤←👥أحمد بن إبراهيم الدورقي، أبو عبد الله
Newأحمد بن إبراهيم الدورقي ← طلق بن غنام النخعي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← أحمد بن إبراهيم الدورقي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1264
أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك
سنن أبي داود
3535
أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك
بلوغ المرام
752
أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3535 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3535
فوائد ومسائل:
فائدہ: عام قسم کے معاملات میں اگرکوئی کسی پر زیادتی کرے۔
تو ادلے کا بدلہ لیا جا سکتا ہے۔
قرآن کریم نے (وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُه) (الشوریٰ:40) بُرائی کا بدلہ ویسی ہی بُرائی ہے۔
کے قاعدے سے اس کی اجازت دی ہے۔
مگر ایسے حقوق جن میں حدود لاگو ہوتی ہیں۔
ان کا فیصلہ کرنا حاکم کا کام ہے۔
اس طرح خیانت کا معاملہ بھی خاص ہے۔
اگر کسی نے ظلم سے حق مار لیا ہو۔
اور واپس کرنے سے انکاری ہو اور پھر اتفاق سے اس کی کوئی امانت یا عاریت مظلوم کے ہاتھ آجائے۔
تو کیا وہ اپنا حق رکھ کر واپس کرے۔
یا امانت پوری طرح واپس کردے۔
احادیث مندرجہ بالا خیانت کی اجازت نہں دیتیں۔
اور خیانت ہمیشہ دھوکے اور چوری سے ہوتی ہے۔
تو کسی مسلمان کو اس کی عام اجازت نہیں دی جا سکتی۔
البتہ اگر صراحت کردے کہ میں اپنا فلاں حق وصول کررہا ہوں تو جائز ہوگا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3535]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 752
ادھار لی ہوئی چیز کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے تمہارے پاس امانت رکھی ہو تو اسے امانت واپس کر دو اور جس نے تیرے ساتھ خیانت کی تو اس کے ساتھ خیانت نہ کر۔“ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ابوحاتم رازی نے اسے منکر سمجھا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 752»
تخریج:
«أخرجه أبواداود، البيوع، باب في الرجل يأخذ حقه من تحت يده، حديث:3535، الترمذي، البيوع، حديث:1264، والحاكم:2 /46 وصححه علي شرط مسلم، ووافقه الذهبي.* حميد الطويل عنعن، وانظر علل الحديث لابن أبي حاتم:1 /375، وللحديث شواهد.»
تشریح:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم اس میں جو مسئلہ بیان ہوا ہے وہ دیگر دلائل کی روشنی میں درست ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 752]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1264
خرید و فروخت (بیع و شرائط) سے متعلق ایک اور باب۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے امانت لوٹاؤ ۱؎ اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ (بھی) خیانت نہ کرو“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1264]
اردو حاشہ:
وضاخت:


1؎:
یہ حکم واجب ہے اس لیے کہ ارشاد باری ہے:
﴿إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾  (النساء: 58)

2؎:
یہ حکم استحبابی ہے اس لیے کہ ارشاباری ہے:
﷜ ﴿وَجَزَاء سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا﴾ (الشورى: 40) (برائی کی جزاء اسی کے مثل بُرائی ہے) نیز ارشاد ہے:
﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُواْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ﴾ (النحل: 126) یہ دونوں آیتیں اس بات پردلالت کررہی ہیں کہ اپنا حق وصول کرلینا چاہئے،
ابن حزم کا قول ہے کہ جس نے خیانت کی ہے اس کے مال پر قابوپانے کی صورت میں اپنا حق وصول لینا واجب ہے،
اور یہ خیانت میں شمارنہیں ہوگی بلکہ خیانت اس صورت میں ہوگی جب وہ اپنے حق سے زیادہ وصول کرے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1264]

Sunan Abi Dawud Hadith 3535 in Urdu