🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب في كراهية الرشوة
باب: رشوت کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3580
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے، اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3580]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 9 (1337)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 2 (2313)، (تحفة الأشراف: 8964)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 190، 194، 212) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3753)
أخرجه الترمذي (1337 وسنده حسن) وابن ماجه (2313 وسنده حسن) وللحديث شواھد عند ابن حبان (1196)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة إمام مكثر
👤←👥الحارث بن عبد الرحمن القرشي، أبو عبد الرحمن
Newالحارث بن عبد الرحمن القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث
Newمحمد بن أبي ذئب العامري ← الحارث بن عبد الرحمن القرشي
ثقة فقيه فاضل
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن يونس التميمي ← محمد بن أبي ذئب العامري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1337
الراشي والمرتشي
سنن أبي داود
3580
لعن رسول الله الراشي والمرتشي
سنن ابن ماجه
2313
لعنة الله على الراشي والمرتشي
المعجم الصغير للطبراني
986
الراشي والمرتشي في النار
بلوغ المرام
707
لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الراشي والمرتشي
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3580 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3580
فوائد ومسائل:
فائدہ: کسی دوسرے کا حق مارنے کےلئے کسی حاکم قاضی یا اہلکار کو کچھ دینا رشوت اور حرام ہے۔
لیکن اگر کوئی ہلکار ظاہم ہو اور حقداروں کے حقوق بھی اس کے پاس محفوظ نہ رہتے ہوں یا وہ لوگوں سے طلب کرتا ہو یا اسے دینا پڑتا ہو تواصل عزیمت یہی ہے کہ اسے کچھ نہ دیا جائے۔
اور وہ معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہوئے اس ظاہم سے چھٹکارے کی سبیل کی جائے۔
اور اگر یہ ممکن نہ ہو اور صرف اور صرف اپنے جائز حق کےلئے شدید مجبوری کی صورت میں کبھی کچھ دینا پڑ جائے۔
تو اس پر کثرت سے استفغار کرے۔
لینے والے کے حق میں یہ یقیناً رشوت اور حرام ہے۔
بلکہ صاحب حق کو مجبور کرنے کی سزا کا بھی مستحق ہے۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3580]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2313
ظلم اور رشوت پر وارد وعید کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2313]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رشوت دینے کی ضرورت تبھی پیش آتی ہے جب کوئی شخص غلط موقف پر ہونے کے باوجود اپنے حق میں فیصلہ کرانا چاہتاہے۔
اس طرح رشوت دینے والا حق دار کا حق بھی مارتا ہے اور قاضی کو بھی گناہ پر آمادہ کرتا ہے۔
یہ دگنا گناہ اسے اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔

(2)
رشوت لینے والا دنیا کے معمولی سے مفاد کے لیے ایک بے گناہ پر ظلم کرتا ہے اور اس سے اس کا حق چھین لیتا ہے حالانکہ اسے مقرر ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ دوسروں کو ظلم سے روکے۔
اس لحاظ سے اس کا گناہ دوسرے ظالم سے کہیں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے اس لیے وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔

(3)
لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے محروم ہونا اللہ کا کسی بندے کو اس کے کسی جرم کی وجہ سے اپنی رحمت سے محروم کرنا ہے۔
لعنت کا مطلب کسی کو یہ بددعا دینا بھی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائے۔

(4)
«راشی» رشوت دینے والے کو «مرتشی» رشوت لینے والے کو اور «رائش» ان دونوں کے درمیان معاملہ طے کرانے والے کو کہتے ہیں۔
یہ سب بڑے گناہ گار ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2313]

Sunan Abi Dawud Hadith 3580 in Urdu