Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب في الشرب قائما
باب: کھڑے ہو کر پانی پینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3717
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 14 (2024)، (تحفة الأشراف: 1367)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأشربة 11 (1879)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 21 (3424)، مسند احمد (3/118، 147، 214)، سنن الدارمی/الأشربة 24 (2173) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2024)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو
Newمسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة مأمون
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5274
زجر عن الشرب قائما
صحيح مسلم
5275
نهى أن يشرب الرجل قائما فقلنا فالأكل فقال ذاك أشر أو أخبث
جامع الترمذي
1879
نهى أن يشرب الرجل قائما فقيل الأكل قال ذاك أشد
سنن أبي داود
3717
نهى أن يشرب الرجل قائما
سنن ابن ماجه
3424
نهى عن الشرب قائما
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3717 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3717
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین ہے۔
پانی بھی حتی الامکان بیٹھ کر پیناچاہیے۔
یہ نہی تنزہیی ہے۔
اور بلاوجہ کھڑے ہوکر پینا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
اس موضوع میں کئی احادیث آئی ہیں۔
ان تمام کو پیش نظر رکھا جائے۔
تو پتہ چلتا ہے کہ اسلام آرام سے بیٹھ کر پینے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا۔
البتہ اگر ضرورت ہو تو کھڑے ہوکر پینا بھی جائز ہے۔
جیسے اگلی روایت سے واضح ہوتا ہے۔
لیکن اسے معمول نہیں بنایا جا سکتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3717]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3424
کھڑے ہو کر پینے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3424]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
بعض علماء نے ممانعت کو کراہت پرمحمول کیا ہے۔
یعنی بیٹھ کرپینا بہتر ہے۔
بعض نے کھڑے ہوکر پینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص قرار دیا ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے جائز تھا۔
ہمیں منع کی حدیث پرعمل کرنا چاہیے احتیاط اس میں ہے کہ کھڑے ہوکر پینے سے اجتناب کیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3424]