پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب الرجل يدعى فيرى مكروها
باب: غیر شرعی امور کی موجودگی میں دعوت میں شرکت کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3755
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ:" أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعُوهُ، فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْهُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ، فَتَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَدَّكَ؟، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا".
سفینہ ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا بنایا (اور بھیج دیا) تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرما لیتے چنانچہ انہوں نے آپ کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا ہاتھ دروازے کے دونوں پٹ پر رکھا، تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر کے ایک کونے میں ایک منقش پردہ لگا ہوا ہے، (یہ دیکھ کر) آپ لوٹ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جا کر ملئیے اور دیکھئیے آپ کیوں لوٹے جا رہے ہیں؟ (علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا اور پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے یا کسی نبی کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی آرائش و زیبائش والے گھر میں داخل ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3755]
سیدنا سفینہ ابوعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا تیار کیا (اور ان کے گھر بھیج دیا)، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیں اور وہ بھی ہمارے ساتھ تناول فرما لیں (تو بہت خوب ہے)“ چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ دروازے کی چوکھٹ پر رکھا اور ایک منقش پردہ دیکھا جو گھر کی ایک جانب میں لگایا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو لیے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں اور معلوم کریں کہ کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس لوٹایا ہے“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کس وجہ سے واپس آ گئے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لائق نہیں یا کہا کہ نبی کو لائق نہیں کہ نقش و نگار والے گھر میں داخل ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأطعمة 56 (3360)، (تحفة الأشراف: 4483)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/220، 221، 222) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3360 وسنده حسن)
أخرجه ابن ماجه (3360 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سفينة مولى النبي، أبو البختري، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سعيد بن جمهان الأسلمي، أبو حفص سعيد بن جمهان الأسلمي ← سفينة مولى النبي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← سعيد بن جمهان الأسلمي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3755
| ليس لي أو لنبي أن يدخل بيتا مزوقا |
سنن ابن ماجه |
3360
| ليس لي أن أدخل بيتا مزوقا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3755 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3755
فوائد ومسائل:
1۔
گھروں میں دیواروں کو غیر ضروری رنگا رنگ منقش پردوں وغیرہ سے مزین کرنا اسلامی ثقافت کے منافی ہے۔
2۔
اور اسی طرح جس دعوت میں غیرشرعی بات کا ارتکاب ہواس میں بھی شرکت درست نہیں۔
بالخصوص ایسی شخصیات کےلئے جو عوام کے ہاں شرعی امور میں معتبر ہوں۔
ان کی شرکت اور پھر منکرات پر ان کی خاموشی ایک لحاظ سے رضا مندی سمجھی جاسکتی ہے۔
جو ان کے حق میں بہت بڑا عیب ہے۔
3۔
اور ایسے ہی گھر جن کی تعمیر ہی منکرات وفواحش اورغیر شرعی کاموں کےلئے ہوتی ہے۔
وہاں جانا حرام ہے۔
1۔
گھروں میں دیواروں کو غیر ضروری رنگا رنگ منقش پردوں وغیرہ سے مزین کرنا اسلامی ثقافت کے منافی ہے۔
2۔
اور اسی طرح جس دعوت میں غیرشرعی بات کا ارتکاب ہواس میں بھی شرکت درست نہیں۔
بالخصوص ایسی شخصیات کےلئے جو عوام کے ہاں شرعی امور میں معتبر ہوں۔
ان کی شرکت اور پھر منکرات پر ان کی خاموشی ایک لحاظ سے رضا مندی سمجھی جاسکتی ہے۔
جو ان کے حق میں بہت بڑا عیب ہے۔
3۔
اور ایسے ہی گھر جن کی تعمیر ہی منکرات وفواحش اورغیر شرعی کاموں کےلئے ہوتی ہے۔
وہاں جانا حرام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3755]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3360
(دعوت میں) خلاف شرع بات دیکھ کر مہمان کے لوٹ جانے کا بیان۔
سفینہ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ضیافت کی اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے، چنانچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی، آپ لوٹ آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور پوچھئے: اللہ کے رسول! آپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3360]
سفینہ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ضیافت کی اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے، چنانچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی، آپ لوٹ آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور پوچھئے: اللہ کے رسول! آپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3360]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانے کی دعوت دینا اور دعوت قبول کرنا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
(2)
پردے سے مراد وہ کپڑا ہے جو گھر میں زینت کےلیے لٹکایا جائے۔
دروازے یا کھڑکی پر اس لیے لٹکایا ہوا کپڑا کہ باہر سے کسی کی نظر اندر نہ پڑے، مطلوب ہے۔
(3)
سادگی شرعاً مطلوب ہے۔
بے جا تکلفات سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(4)
نامناسب چیز سامنے آنے پر فوراً تنبیہ کرنا مناسب ہے بشرطیکہ تاخیر میں کوئی حکمت نہ ہو۔
(5)
اگر دعوت دینے والا کسی ناجائز کام کا ارتکاب کرے تو کھانا کھائے بغیر واپس چلے جانا جائز ہے البتہ اگر وہ اس غلطی کا ازالہ کردے تو واپس نہ جائیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
کھانے کی دعوت دینا اور دعوت قبول کرنا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
(2)
پردے سے مراد وہ کپڑا ہے جو گھر میں زینت کےلیے لٹکایا جائے۔
دروازے یا کھڑکی پر اس لیے لٹکایا ہوا کپڑا کہ باہر سے کسی کی نظر اندر نہ پڑے، مطلوب ہے۔
(3)
سادگی شرعاً مطلوب ہے۔
بے جا تکلفات سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(4)
نامناسب چیز سامنے آنے پر فوراً تنبیہ کرنا مناسب ہے بشرطیکہ تاخیر میں کوئی حکمت نہ ہو۔
(5)
اگر دعوت دینے والا کسی ناجائز کام کا ارتکاب کرے تو کھانا کھائے بغیر واپس چلے جانا جائز ہے البتہ اگر وہ اس غلطی کا ازالہ کردے تو واپس نہ جائیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3360]
Sunan Abi Dawud Hadith 3755 in Urdu
سعيد بن جمهان الأسلمي ← سفينة مولى النبي