سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب إذا اجتمع داعيان أيهما أحق
باب: جب دو آدمی ایک ساتھ دعوت دیں تو کون زیادہ حقدار ہے کہ اس کی دعوت قبول کی جائے۔
حدیث نمبر: 3756
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ، فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا، فَإِنَّ أَقْرَبَهُمَا بَابًا أَقْرَبَهُمَا جِوَارًا، وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبْ الَّذِي سَبَقَ".
ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دیں تو ان میں سے جس کا مکان قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ جس کا مکان زیادہ قریب ہو گا وہ ہمسائیگی میں قریب تر ہو گا، اور اگر ان میں سے کوئی پہل کر جائے تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداو، (تحفة الأشراف: 15556)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/408) (ضعیف)» (اس کے راوی ابو خالد دالانی مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں نیز بہت غلطیاں کرتے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو خالد الدالاني عنعن
والحديث ضعفه الحافظ في التلخيص (196/3ح 1561)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
إسناده ضعيف
أبو خالد الدالاني عنعن
والحديث ضعفه الحافظ في التلخيص (196/3ح 1561)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3756
| إذا اجتمع الداعيان فأجب أقربهما بابا فإن أقربهما بابا أقربهما جوارا وإن سبق أحدهما فأجب الذي سبق |
بلوغ المرام |
899
| إذا اجتمع داعيان فاجب اقربهما بابا فإن سبق احدهما فاجب الذي سبق |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3756 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3756
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم دیگر صحیح احادیث سے بھی یہ ترتیب ثابت ہے۔
اور اکثر علماء کا عمل بھی اسی پر ہے۔
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم دیگر صحیح احادیث سے بھی یہ ترتیب ثابت ہے۔
اور اکثر علماء کا عمل بھی اسی پر ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3756]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 899
ولیمہ کا بیان
اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب دو آدمیوں نے دعوت طعام دی ہو تو جس کا دروازہ متصل و قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو اور ان میں سے جو پہلے دعوت دے اس کی دعوت قبول کر لو۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اس کی سند ضعیف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 899»
اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب دو آدمیوں نے دعوت طعام دی ہو تو جس کا دروازہ متصل و قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو اور ان میں سے جو پہلے دعوت دے اس کی دعوت قبول کر لو۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اس کی سند ضعیف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 899»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب إذا اجتمع داعيان أيهما أحق، حديث:3756.* أبو خالد الدارلاني عنعن.» تشریح:
1. مصنف رحمہ اللہ نے یہ روایت موقوفًا بیان کی ہے جبکہ سنن ابی داود میں مرفوعاً مذکور ہے۔
2.مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم دیگر صحیح احادیث سے بھی یہ ترتیب ثابت ہے‘ نیز مسند احمد کے محققین نے اسے سنداً حسن قرار دیا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۳۸ /۴۵۲)
«أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب إذا اجتمع داعيان أيهما أحق، حديث:3756.* أبو خالد الدارلاني عنعن.»
1. مصنف رحمہ اللہ نے یہ روایت موقوفًا بیان کی ہے جبکہ سنن ابی داود میں مرفوعاً مذکور ہے۔
2.مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم دیگر صحیح احادیث سے بھی یہ ترتیب ثابت ہے‘ نیز مسند احمد کے محققین نے اسے سنداً حسن قرار دیا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۳۸ /۴۵۲)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 899]
حميد بن عبد الرحمن الحميري ← اسم مبهم