یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب في أكل اللحم
باب: گوشت کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3778
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صَنِيعِ الْأَعَاجِمِ، وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس طرح زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3778]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ، کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، بلکہ دانتوں سے کاٹ کر اور نوچ کر کھاؤ، اس طرح یہ زیادہ لذت دیتا ہے اور خوب ہضم ہوتا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ روایت قوی نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17251) (ضعیف)» (اس کے راوی ابو معشر سندھی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو معشر نجيح : ضعيف (تقريب التهذيب: 7100)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
إسناده ضعيف
أبو معشر نجيح : ضعيف (تقريب التهذيب: 7100)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3778
| لا تقطعوا اللحم بالسكين فإنه من صنيع الأعاجم وانهسوه فإنه أهنأ وأمرأ |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3778 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3778
فوائد ومسائل:
فائدہ: امام ابود ائود نے اس روایت کے ضعیف ہونے کا تذکرہ اس لئے بھی فرمایا کہ پتہ چل جائے کہ یہ روایت صحیحین اس روایت کے مقابلے میں نہیں آسکتی۔
جس میں چھری سے کاٹنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
(عون المبعود) امام بخاری نے پانچ مختلف ابواب میں یہ حدیث بیان کی ہے۔
انہوں نے اس روایت سے چھری سے کاٹ کر گوشت کھانے کے جواز پر استدلال کیا ہے۔
دیکھئے۔
(فتح الباري، کتاب الوضو، باب من لم یتوضأ من لحم الشاة والسویق وکتاب الجهاد و السیر، باب ما یذکر في السکین)
فائدہ: امام ابود ائود نے اس روایت کے ضعیف ہونے کا تذکرہ اس لئے بھی فرمایا کہ پتہ چل جائے کہ یہ روایت صحیحین اس روایت کے مقابلے میں نہیں آسکتی۔
جس میں چھری سے کاٹنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
(عون المبعود) امام بخاری نے پانچ مختلف ابواب میں یہ حدیث بیان کی ہے۔
انہوں نے اس روایت سے چھری سے کاٹ کر گوشت کھانے کے جواز پر استدلال کیا ہے۔
دیکھئے۔
(فتح الباري، کتاب الوضو، باب من لم یتوضأ من لحم الشاة والسویق وکتاب الجهاد و السیر، باب ما یذکر في السکین)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3778]
Sunan Abi Dawud Hadith 3778 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق