سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب في التمر
باب: کھجور کا بیان۔
حدیث نمبر: 3831
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 26 (2046)، سنن الترمذی/الأطعمة 17 (1815)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 38 (3327)، (تحفة الأشراف: 16942)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 26 (2105) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ اس وقت کھجور ہی عربوں کی اصل خوراک تھی، اگر گھر اس سے خالی ہو تو ظاہر ہے گھر والوں کو بھوکا رہنا پڑے گا۔ طیبی کہتے ہیں: شاید اس سے مقصود قنات کی ترغیب ہے یعنی جو اس پر قناعت کر لے وہ بھوکا نہیں رہ سکتا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مقصود کھجور کی فضیلت ظاہر کرنی ہے، نئی تحقیقات سے کھجور کی افادیت اور اہمیت واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2046)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5337
| بيت لا تمر فيه جياع أهله |
صحيح مسلم |
5336
| لا يجوع أهل بيت عندهم التمر |
جامع الترمذي |
1815
| بيت لا تمر فيه جياع أهله |
سنن أبي داود |
3831
| بيت لا تمر فيه جياع أهله |
سنن ابن ماجه |
3327
| بيت لا تمر فيه جياع أهله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3831 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3831
فوائد ومسائل:
فائدہ: علامہ طیبی کہتے ہیں۔
کہ اس فرمان میں جن علاقوں میں کھجور زیادہ ہوتی ہے۔
وہاں کے لوگوں کو بالخصوص ترغیب دی گئی ہے۔
کہ اس سے خوب استفادہ کیا کریں۔
اور دیگر مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اس مبارک پھل سے فائدہ اٹھایا کریں۔
نیز اس کی کاشت بڑھانا مادی لحاظ سے بھی بہت نفع آور ہے۔
فائدہ: علامہ طیبی کہتے ہیں۔
کہ اس فرمان میں جن علاقوں میں کھجور زیادہ ہوتی ہے۔
وہاں کے لوگوں کو بالخصوص ترغیب دی گئی ہے۔
کہ اس سے خوب استفادہ کیا کریں۔
اور دیگر مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اس مبارک پھل سے فائدہ اٹھایا کریں۔
نیز اس کی کاشت بڑھانا مادی لحاظ سے بھی بہت نفع آور ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3831]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1815
کھجور کی فضیلت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1815]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1815]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں کی اصل غذا صرف کھجورتھی،
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کھجور کی اہمیت بتانا مقصود ہو،
آج بھی جس علاقہ اور جگہ کی کوئی خاص چیز ہوتی ہے جو وہاں کے لوگوں کی اصل غذا ہو تو اس کی طرف نسبت کرکے اس کی اہمیت واضح کی جاتی ہے۔
حدیث کے ظاہری معانی کے پیش نظرکھجورکے فوائد کی بناپر گھرمیں ہروقت کھجورکی ایک مقدار ضرور رہنی چاہئے۔
وضاحت:
1؎:
یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں کی اصل غذا صرف کھجورتھی،
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کھجور کی اہمیت بتانا مقصود ہو،
آج بھی جس علاقہ اور جگہ کی کوئی خاص چیز ہوتی ہے جو وہاں کے لوگوں کی اصل غذا ہو تو اس کی طرف نسبت کرکے اس کی اہمیت واضح کی جاتی ہے۔
حدیث کے ظاہری معانی کے پیش نظرکھجورکے فوائد کی بناپر گھرمیں ہروقت کھجورکی ایک مقدار ضرور رہنی چاہئے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1815]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5337
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! وہ گھر جس میں کھجوریں موجود نہیں، اس کے باشندے بھوکے ہیں، اے عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہیں، اس کے مالک بھوکے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو تین مرتبہ فرمائی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5337]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عربوں کی عمومی خوراک کھجوریں تھیں اور وہ لوگ انہیں پر گزارہ کر لیتے تھے،
اس لیے جو گھر ان سے محروم ہو وہ ہمیشہ بھوک کے خطرہ سے دوچار رہتا ہے،
اس لیے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
گھر میں عام طور پر کھائے جانے والے غلہ یا پھل کا کچھ نہ کچھ ذخیرہ رہنا چاہیے اور یہ توکل کے منافی نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
عربوں کی عمومی خوراک کھجوریں تھیں اور وہ لوگ انہیں پر گزارہ کر لیتے تھے،
اس لیے جو گھر ان سے محروم ہو وہ ہمیشہ بھوک کے خطرہ سے دوچار رہتا ہے،
اس لیے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
گھر میں عام طور پر کھائے جانے والے غلہ یا پھل کا کچھ نہ کچھ ذخیرہ رہنا چاہیے اور یہ توکل کے منافی نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5337]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق