🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب في التمر
باب: کھجور کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3831
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 26 (2046)، سنن الترمذی/الأطعمة 17 (1815)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 38 (3327)، (تحفة الأشراف: 16942)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 26 (2105) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ اس وقت کھجور ہی عربوں کی اصل خوراک تھی، اگر گھر اس سے خالی ہو تو ظاہر ہے گھر والوں کو بھوکا رہنا پڑے گا۔ طیبی کہتے ہیں: شاید اس سے مقصود قنات کی ترغیب ہے یعنی جو اس پر قناعت کر لے وہ بھوکا نہیں رہ سکتا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مقصود کھجور کی فضیلت ظاہر کرنی ہے، نئی تحقیقات سے کھجور کی افادیت اور اہمیت واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2046)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥مروان بن محمد الطاطري، أبو حفص، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newمروان بن محمد الطاطري ← سليمان بن بلال القرشي
ثقة
👤←👥الوليد بن عتبة الأشجعي، أبو العباس
Newالوليد بن عتبة الأشجعي ← مروان بن محمد الطاطري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5337
بيت لا تمر فيه جياع أهله
صحيح مسلم
5336
لا يجوع أهل بيت عندهم التمر
جامع الترمذي
1815
بيت لا تمر فيه جياع أهله
سنن أبي داود
3831
بيت لا تمر فيه جياع أهله
سنن ابن ماجه
3327
بيت لا تمر فيه جياع أهله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3831 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3831
فوائد ومسائل:
فائدہ: علامہ طیبی کہتے ہیں۔
کہ اس فرمان میں جن علاقوں میں کھجور زیادہ ہوتی ہے۔
وہاں کے لوگوں کو بالخصوص ترغیب دی گئی ہے۔
کہ اس سے خوب استفادہ کیا کریں۔
اور دیگر مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اس مبارک پھل سے فائدہ اٹھایا کریں۔
نیز اس کی کاشت بڑھانا مادی لحاظ سے بھی بہت نفع آور ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3831]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1815
کھجور کی فضیلت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1815]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں کی اصل غذا صرف کھجورتھی،
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کھجور کی اہمیت بتانا مقصود ہو،
آج بھی جس علاقہ اور جگہ کی کوئی خاص چیز ہوتی ہے جو وہاں کے لوگوں کی اصل غذا ہو تو اس کی طرف نسبت کرکے اس کی اہمیت واضح کی جاتی ہے۔
حدیث کے ظاہری معانی کے پیش نظرکھجورکے فوائد کی بناپر گھرمیں ہروقت کھجورکی ایک مقدار ضرور رہنی چاہئے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1815]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5337
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! وہ گھر جس میں کھجوریں موجود نہیں، اس کے باشندے بھوکے ہیں، اے عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہیں، اس کے مالک بھوکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو تین مرتبہ فرمائی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5337]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عربوں کی عمومی خوراک کھجوریں تھیں اور وہ لوگ انہیں پر گزارہ کر لیتے تھے،
اس لیے جو گھر ان سے محروم ہو وہ ہمیشہ بھوک کے خطرہ سے دوچار رہتا ہے،
اس لیے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
گھر میں عام طور پر کھائے جانے والے غلہ یا پھل کا کچھ نہ کچھ ذخیرہ رہنا چاہیے اور یہ توکل کے منافی نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5337]