پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب ما جاء في الرقى
باب: جھاڑ پھونک کا بیان۔
حدیث نمبر: 3887
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ، فَقَالَ لِي:" أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ".
شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” «نملہ» ۱؎ کا منتر اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3887]
سیدہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میں ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم اسے نملہ (بچوں کی پسلیوں پر نکلنے والی پھنسیوں) کا دم کیوں نہیں سکھا دیتی ہو جیسے کہ اسے لکھنا سکھایا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/372) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «نملہ» ایک بیماری ہے جس میں جسم کے دونوں پہلؤوں میں پھنسیوں کے مانند دانے نکلتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4561)
أخرجه أحمد (6/372) والنسائي في الكبريٰ (7543) وللحديث طرق عند النسائي في الكبريٰ (7542) والحاكم (4/414)
مشكوة المصابيح (4561)
أخرجه أحمد (6/372) والنسائي في الكبريٰ (7543) وللحديث طرق عند النسائي في الكبريٰ (7542) والحاكم (4/414)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3887
| ألا تعلمين هذه رقية النملة كما علمتيها الكتابة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3887 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3887
فوائد ومسائل:
1) یہ دم کیا تھا؟ کسی مستند حدیث میں اسکے الفاظ نقل نہیں ہو ئے ہیں۔
تاہم اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی دم تجربے سے مُفید ثابت ہو چکا ہو تو اور اس میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں اور ان کا معنی و مفہوم واضح ہوتو اس دم کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔
عورتوں کا لکھنا پڑھنا سیکھنا سکھانا جائز ہے۔
1) یہ دم کیا تھا؟ کسی مستند حدیث میں اسکے الفاظ نقل نہیں ہو ئے ہیں۔
تاہم اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی دم تجربے سے مُفید ثابت ہو چکا ہو تو اور اس میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں اور ان کا معنی و مفہوم واضح ہوتو اس دم کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔
عورتوں کا لکھنا پڑھنا سیکھنا سکھانا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3887]
Sunan Abi Dawud Hadith 3887 in Urdu
أبو بكر بن سليمان العدوي ← الشفاء بنت عبد الله القرشية