علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب ما جاء في الرقى
باب: جھاڑ پھونک کا بیان۔
حدیث نمبر: 3886
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَال: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟، فَقَالَ: اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 22 (2200)، (تحفة الأشراف: 10903) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2200)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5732
| لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك |
سنن أبي داود |
3886
| لا بأس بالرقى ما لم تكن شركا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3886 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3886
فوائد ومسائل:
ایسے دم جن کے الفاظ مفہوم و معنی میں واضح ہوں، شرک کا شائبہ نہ ہو اور تجربے سے مفید ثابت ہو ئے ہوں، ان سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے۔
ایسے دم جن کے الفاظ مفہوم و معنی میں واضح ہوں، شرک کا شائبہ نہ ہو اور تجربے سے مفید ثابت ہو ئے ہوں، ان سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3886]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5732
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم جاہلیت کے دور میں دم کرتے تھے، سو ہم نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا دم مجھ پر پیش کرو، مجھے سناؤ، دم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اس میں شرک نہ ہو۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5732]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ روایت اس کی کھلی دلیل ہے کہ صرف وہ دم،
منتر ممنوع ہیں،
جن میں شرک پایا جاتا ہے،
یا معنی کا پتہ نہ ہونے کی صورت میں شرک کا خطرہ ہے۔
فوائد ومسائل:
یہ روایت اس کی کھلی دلیل ہے کہ صرف وہ دم،
منتر ممنوع ہیں،
جن میں شرک پایا جاتا ہے،
یا معنی کا پتہ نہ ہونے کی صورت میں شرک کا خطرہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5732]
Sunan Abi Dawud Hadith 3886 in Urdu
جبير بن نفير الحضرمي ← عوف بن مالك الأشجعي