🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب ما جاء في الرقى
باب: جھاڑ پھونک کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3889
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ الْعَبَّاسُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ دَمٍ يَرْقَأُ"، لَمْ يَذْكُرِ الْعَبَّاسُ الْعَيْنَ وَهَذَا لَفْظُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک صرف نظر بد کے لیے یا زہریلے جانوروں کے کاٹنے کے لیے یا ایسے خون کے لیے ہے جو تھمتا نہ ہو۔ عباس نے نظر بد کا ذکر نہیں کیا ہے یہ سلیمان بن داود کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3889]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دم ان چیزوں ہی سے ہوتا ہے: بدنظری، زہریلے جانور کے ڈنک اور بہتے خون سے۔ عباس (عباس عنبری) نے بدنظری کا ذکر نہیں کیا۔ اور اس حدیث کے الفاظ سلیمان بن داود کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 939) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور ہیں، صحیح روایت شعبی عن عمران موقوفا بلفظ  «لارقیة إلا من عین أوحمة»  (دیکھئے نمبر 3884)، اور مسلم (السلام 21) کی روایت جو انس رضی اللہ عنہ سے ہے اس کے الفاظ ہیں «رخص النبي ﷺ في الرقیة من الحمة و العین والنملة» )
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
شريك عنعن
وللحديث شاهد ضعيف عند ابن أبي شيبة (393/7)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥العباس بن ذريح الكلبي
Newالعباس بن ذريح الكلبي ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← العباس بن ذريح الكلبي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة متقن
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل
Newالعباس بن عبد العظيم العنبري ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← العباس بن عبد العظيم العنبري
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع
Newسليمان بن داود العتكي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5721
يرقوا من الحمة الأذن
صحيح مسلم
5724
في الرقية من العين الحمة النملة
جامع الترمذي
2056
رخص في الرقية من الحمة العين النملة
جامع الترمذي
2056
رخص في الرقية من الحمة النملة
سنن أبي داود
3889
لا رقية إلا من عين حمة دم يرقأ
سنن ابن ماجه
3516
رخص في الرقية من الحمة العين النملة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3889 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3889
فوائد ومسائل:
بہتے خون سے دم کا مفہوم یہ ہے کہ جاری خون رُک جاتا ہے۔
امام سندھی ؒ فرماتے ہیں: اس عبارت میں گویا سوال کا جواب ہےکہ دم کے بعد کیا ہو گا تو اس کا جواب یوں دیا کہ بہتا خون رُک جائے گا۔
(عون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3889]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3516
جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہریلے ڈنک، نظر بد اور نملہ ۱؎ پر جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3516]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
نملہ ایک بیماری ہے۔
جس میں پہلو یا پسلیوں پر دانے نکل آتے ہیں۔
بیماری بڑھ جانے پر زخم بن جاتے ہیں۔
دم کرنے سے اس بیماری سے آرام آجاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3516]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5721
5721. حضرت حماد سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایوب کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان تحریر شدہ احادیث میں حضرت انس بن نضر ؓ نے حضرت انس ؓ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں دم کرنے کی اجازت دی تھی حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ پسلی کے درد کی وجہ سے مجھے داغ دیا گیا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے اس وقت حضرت ابو طلحہ، انس، بن نضر اور زید بن ثابت ؓ بھی حاضر تھے اور مجھے حضرت ابو طلحہ ؓ نے داغ دیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5721]
حدیث حاشیہ:
داغنا اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں ہے مگر بحالت مجبوری ایسے مواقع پر حد جواز کی اجازت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5721]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5721
5721. حضرت حماد سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایوب کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان تحریر شدہ احادیث میں حضرت انس بن نضر ؓ نے حضرت انس ؓ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں دم کرنے کی اجازت دی تھی حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ پسلی کے درد کی وجہ سے مجھے داغ دیا گیا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے اس وقت حضرت ابو طلحہ، انس، بن نضر اور زید بن ثابت ؓ بھی حاضر تھے اور مجھے حضرت ابو طلحہ ؓ نے داغ دیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5721]
حدیث حاشیہ:
(1)
قبل ازیں پسلیوں کے درد کا علاج بذریعہ عود ہندی بیان ہوا تھا کہ اسے منہ کی ایک جانب ڈالا جائے اور اس حدیث میں ایک دوسرا علاج بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کو اس بیماری کی وجہ سے داغ دیا گیا تھا، جبکہ حضرت زید بن ثابت اور حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہم جیسے اکابر صحابۂ کرام بھی موجود تھے۔
داغنے کا عمل حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔
(2)
اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علاج پسند نہ تھا، تاہم بامر مجبوری اسے اختیار کیا گیا۔
بہرحال مجبوری کے وقت اس کے ذریعے سے علاج کرنا مباح اور جائز ہے۔
اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا علاج ممکن ہو تو پھر اس طریقۂ علاج سے بچنا چاہیے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5721]

Sunan Abi Dawud Hadith 3889 in Urdu