سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب كيف الرقى
باب: جھاڑ پھونک کیسے ہو؟
حدیث نمبر: 3890
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ يَعْنِي لِثَابِتٍ:" أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ الْبَاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے ثابت سے کہا: کیا میں تم پر دم نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور کیجئے، تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرمانے والے شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے نہیں کوئی شفاء دینے والا سوائے تیرے تو اسے ایسی شفاء دے جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3890]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جناب ثابت بنانی سے کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (سکھایا ہوا) دم نہ کروں؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ تو انہوں نے کہا: «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! دکھوں کے دور کرنے والے! شفاء عنایت فرما، تو ہی شافی ہے، تیرے سوا کوئی شفاء نہیں دے سکتا، اسے شفاء دے ایسی شفاء جو کوئی بیماری نہ رہنے دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 38 (5742)، سنن الترمذی/الجنائز 4 (973)،سنن النسائی/الیوم واللیلة (1022)، (تحفة الأشراف: 1034)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/151) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5742)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3890
| اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما |
Sunan Abi Dawud Hadith 3890 in Urdu
عبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري