سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3982
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ:" أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: 0 إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ 0".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «إنه عمل غير صالح» (بصیغہ ماضی) یعنی: ”اس نے ناسائشہ کام کیا“ (سورۃ ہود: ۴۶) پڑھتے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3982]
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کرتے ہوئے سنا ﴿إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ﴾ [سورة هود: 46] یعنی ” «عَمِلَ» فعل ماضی اور «غَيْرَ» مفعول بہ یعنی منصوب۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/القراء ات سورة ھود 2 (2931)، (تحفة الأشراف: 15768)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/294، 322، 454، 459، 460) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (2932 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (2932 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أسماء بنت يزيد الأنصارية، أم سلمة، أم عامر | صحابي | |
👤←👥شهر بن حوشب الأشعري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو الجعد شهر بن حوشب الأشعري ← أسماء بنت يزيد الأنصارية | صدوق كثير الإرسال والأوهام | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← شهر بن حوشب الأشعري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2931
| يقرؤها إنه عمل غير صالح |
جامع الترمذي |
2932
| قرأ هذه الآية إنه عمل غير صالح |
سنن أبي داود |
3982
| يقرأ إنه عمل غير صالح |
مسند اسحاق بن راهويه |
13
| انه قراها: عمل غير صالح |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3982 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3982
فوائد ومسائل:
اس آیت کریمہ میں جمہور کی قراءت یوں ہے: یعنی عمل ان کی خبر مرفوع۔
اور غیراس کی صفت ہے لہذا وہ بھی مرفوع ہے۔
یہ آیت کریمہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارے میں ہے کہ اس عمل کے صالح نہیں ہیں۔
فعل ماضی میں اس کا ترجمعہ ہو گا۔
اس نے غیرصالح (برے) عمل کیے ہیں۔
اس آیت کریمہ میں جمہور کی قراءت یوں ہے: یعنی عمل ان کی خبر مرفوع۔
اور غیراس کی صفت ہے لہذا وہ بھی مرفوع ہے۔
یہ آیت کریمہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارے میں ہے کہ اس عمل کے صالح نہیں ہیں۔
فعل ماضی میں اس کا ترجمعہ ہو گا۔
اس نے غیرصالح (برے) عمل کیے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3982]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 13
قرآن مجید کی مختلف قرآت کا ثبوت
”سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ نے اس (سورہ ہود کی آیت: 46) «عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» کو اس طرح پڑھا «عَمَلَ غَيْرُ صَالِحٍ» ”اس نے اچھے عمل نہیں کیے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب العلم/حدیث: 13]
”سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ نے اس (سورہ ہود کی آیت: 46) «عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» کو اس طرح پڑھا «عَمَلَ غَيْرُ صَالِحٍ» ”اس نے اچھے عمل نہیں کیے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب العلم/حدیث: 13]
فوائد: مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی مختلف قرأت کا ثبوت ملتا ہے:
جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا:
«اِنَّهُ عَمِلَ غَيْرُ صَالِحٍ»
یعنی «عَمِلَ» فعل ماضی «غَيْرَ» مفعول بہ یعنی منصوب۔
فعل ماضی میں اس کا ترجمہ یوں ہو گا:
”اس نے غیر صالح عمل کیے ہیں۔“
لیکن جمہور کی قرأت ہے:
«اِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ»
«عَمَلٌ» : «اِنَّ» کی خبر مرفوع اور «غَيْرُ» اس کی صفت ہے۔
یہ آیت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا:
«اِنَّهُ عَمِلَ غَيْرُ صَالِحٍ»
یعنی «عَمِلَ» فعل ماضی «غَيْرَ» مفعول بہ یعنی منصوب۔
فعل ماضی میں اس کا ترجمہ یوں ہو گا:
”اس نے غیر صالح عمل کیے ہیں۔“
لیکن جمہور کی قرأت ہے:
«اِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ»
«عَمَلٌ» : «اِنَّ» کی خبر مرفوع اور «غَيْرُ» اس کی صفت ہے۔
یہ آیت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
[مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 13]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2931
سورۃ ہود کی قرأت کا بیان۔
ام سلمہ ۱؎ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے «إنه عمل غير صالح» ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2931]
ام سلمہ ۱؎ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے «إنه عمل غير صالح» ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2931]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ ام المومنین ام سلمہ نہیں ہیں،
بلکہ انصاریہ صحابیہ ہیں،
لیکن مسند احمد کی بعض روایات میں ”ام المومنین“ کا اضافہ سے مزی نے اس حدیث کو دونوں ترجمہ میں ذکرکیا ہے۔
2؎:
نوح علیہ السلام کے بیٹے نے غیرصالح عمل کیا۔
نوٹ:
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
ملاحظہ ہو:
الصحیحة رقم: 2809)
وضاحت:
1؎:
یہ ام المومنین ام سلمہ نہیں ہیں،
بلکہ انصاریہ صحابیہ ہیں،
لیکن مسند احمد کی بعض روایات میں ”ام المومنین“ کا اضافہ سے مزی نے اس حدیث کو دونوں ترجمہ میں ذکرکیا ہے۔
2؎:
نوح علیہ السلام کے بیٹے نے غیرصالح عمل کیا۔
نوٹ:
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
ملاحظہ ہو:
الصحیحة رقم: 2809)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2931]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2932
سورۃ ہود کی قرأت کا بیان۔
ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھی: «إنه عمل غير صالح» ۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2932]
ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھی: «إنه عمل غير صالح» ۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2932]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
ملاحظہ ہو:
الصحیحة رقم: 2809)
نوٹ:
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
ملاحظہ ہو:
الصحیحة رقم: 2809)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2932]
Sunan Abi Dawud Hadith 3982 in Urdu
شهر بن حوشب الأشعري ← أسماء بنت يزيد الأنصارية