سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب مَا جَاءَ فِي الْخَزِّ
باب: خز (اون اور ریشم سے بنے لباس) پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4038
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْمَاطِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيُّ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا بِبُخَارَى عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ عَلَيْهِ عِمَامَةُ خَزٍّ سَوْدَاءُ، فَقَالَ: كَسَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" هَذَا لَفْظُ عُثْمَانَ وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِهِ.
سعد بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو بخارا میں ایک سفید خچر پر سوار دیکھا وہ سیاہ خز ۱؎ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اس نے کہا: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4038]
جناب عبداللہ بن سعد اپنے والد سعد (سعد رازی اشتکی) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے بخارا میں ایک شخص کو دیکھا جو اپنے سفید خچر پر سوار تھا اور اس کے سر پر سیاہ خز کی پگڑی تھی۔“ اس نے کہا: ”یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنائی تھی۔“ یہ لفظ عثمان (عثمان بن محمد انماطی) کے ہیں اور اس کی روایت میں «أَخْبَرَنَا» ”ہمیں خبر دی“ کے لفظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة الحاقة 67 (3321)، (تحفة الأشراف: 15578) (ضعیف الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: خز: ایک قسم کا ریشمی اونی کپڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3321)
سعد بن عثمان،لم يوثقه غير ابن حبان فھو مجهول كما في التحرير (2250)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
إسناده ضعيف
ترمذي (3321)
سعد بن عثمان،لم يوثقه غير ابن حبان فھو مجهول كما في التحرير (2250)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3321
| كسانيها رسول الله |
سنن أبي داود |
4038
| كسانيها رسول الله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4038 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4038
فوائد ومسائل:
اون اور ریشم کے مرکب لباس کو خز کہا جاتا ہے۔
(ابن الأثیر) جبکہ علامہ منذری رضی اللہ کا کہنا ہے کہ خرگوش کے بالوں سے بنے لباس کو خز کہتے ہیں اور اصلایہ لفظ نر خرگوش پر بولا جاتا ہے۔
بعض مواقع پر مطلقا ریشم کے معنی بھی مستعمل ہے۔
خالص ریشم کا استعمال مردوں کے لئے حرام ہے۔
مخلوط اور مرکب میں اختلاف ہے، جبکہ کئی صحابہ وتابعین سے مروی ہے کہ وہ حضرات اس قسم کا لباس استعمال کرتے تھے جن روایات میں منع کا بیان ہے، وہ اس معنی میں ہیں کہ غیر مسلم اور مرفہ الحال لوگوں سے مشابہت نہ ہو۔
خرگوش یا اس قسم کی دیگر اشیا سے بنے لباس پہننا جائز ہے، جیسے کہ آج کل کا مصنوعی ریشم ہے۔
اون اور ریشم کے مرکب لباس کو خز کہا جاتا ہے۔
(ابن الأثیر) جبکہ علامہ منذری رضی اللہ کا کہنا ہے کہ خرگوش کے بالوں سے بنے لباس کو خز کہتے ہیں اور اصلایہ لفظ نر خرگوش پر بولا جاتا ہے۔
بعض مواقع پر مطلقا ریشم کے معنی بھی مستعمل ہے۔
خالص ریشم کا استعمال مردوں کے لئے حرام ہے۔
مخلوط اور مرکب میں اختلاف ہے، جبکہ کئی صحابہ وتابعین سے مروی ہے کہ وہ حضرات اس قسم کا لباس استعمال کرتے تھے جن روایات میں منع کا بیان ہے، وہ اس معنی میں ہیں کہ غیر مسلم اور مرفہ الحال لوگوں سے مشابہت نہ ہو۔
خرگوش یا اس قسم کی دیگر اشیا سے بنے لباس پہننا جائز ہے، جیسے کہ آج کل کا مصنوعی ریشم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4038]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3321
سورۃ الحاقہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد رازی سے روایت ہے کہ ان کے باب عبداللہ نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو بخارا میں خچر پر سوار سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے دیکھا وہ کہتا تھا: یہ وہ عمامہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہنایا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3321]
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد رازی سے روایت ہے کہ ان کے باب عبداللہ نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو بخارا میں خچر پر سوار سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے دیکھا وہ کہتا تھا: یہ وہ عمامہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہنایا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3321]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
باب سے اس حدیث کا ظاہری تعلق نہیں ہے،
اسے صرف یہ بتانے کے لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے مذکورہ حدیث کی سند میں جس میں عبدالرحمن بن سعد کا ذکرہے اس سے یہی عبدالرحمن بن عبداللہ بن سعد رازی مراد ہیں۔
نوٹ:
(سند میں سعد بن عثمان الرازی الدشتکی مقبول راوی ہیں،
لیکن متابعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ لین الحدیث ہیں)
وضاحت:
1؎:
باب سے اس حدیث کا ظاہری تعلق نہیں ہے،
اسے صرف یہ بتانے کے لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے مذکورہ حدیث کی سند میں جس میں عبدالرحمن بن سعد کا ذکرہے اس سے یہی عبدالرحمن بن عبداللہ بن سعد رازی مراد ہیں۔
نوٹ:
(سند میں سعد بن عثمان الرازی الدشتکی مقبول راوی ہیں،
لیکن متابعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ لین الحدیث ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3321]
Sunan Abi Dawud Hadith 4038 in Urdu
سعد بن عثمان الرازي ← اسم مبهم