🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب مَا جَاءَ فِي الْخَزِّ
باب: خز (اون اور ریشم سے بنے لباس) پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4038
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْمَاطِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيُّ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا بِبُخَارَى عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ عَلَيْهِ عِمَامَةُ خَزٍّ سَوْدَاءُ، فَقَالَ: كَسَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" هَذَا لَفْظُ عُثْمَانَ وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِهِ.
سعد بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو بخارا میں ایک سفید خچر پر سوار دیکھا وہ سیاہ خز ۱؎ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اس نے کہا: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4038]
جناب عبداللہ بن سعد اپنے والد سعد (سعد رازی اشتکی) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے بخارا میں ایک شخص کو دیکھا جو اپنے سفید خچر پر سوار تھا اور اس کے سر پر سیاہ خز کی پگڑی تھی۔ اس نے کہا: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنائی تھی۔ یہ لفظ عثمان (عثمان بن محمد انماطی) کے ہیں اور اس کی روایت میں «أَخْبَرَنَا» ہمیں خبر دی کے لفظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة الحاقة 67 (3321)، (تحفة الأشراف: 15578) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: خز: ایک قسم کا ریشمی اونی کپڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3321)
سعد بن عثمان،لم يوثقه غير ابن حبان فھو مجهول كما في التحرير (2250)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4039
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ أَوْ أَبُو مَالِكٍ وَاللَّهِ يَمِينٌ أُخْرَى مَا كَذَّبَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْخَزَّ وَالْحَرِيرَ، وَذَكَرَ كَلَامًا، قَالَ: يُمْسَخُ مِنْهُمْ آخَرُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَعِشْرُونَ نَفْسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَكْثَرُ لَبِسُوا الْخَزَّ مِنْهُمْ أَنَسٌ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ.
عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کہتے ہیں مجھ سے ابوعامر یا ابو مالک نے بیان کیا اور اللہ کی قسم انہوں نے جھوٹ نہیں کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو خز اور حریر (ریشم) کو حلال کر لیں گے پھر کچھ اور ذکر کیا، فرمایا: ان میں سے کچھ قیامت تک کے لیے بندر بنا دیئے جائیں گے اور کچھ سور۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بیس یا اس سے زیادہ لوگوں نے خز پہنا ہے ان میں سے انس اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4039]
عبدالرحمن بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یقیناً میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو خز اور ریشم کو حلال سمجھیں گے۔ پھر کچھ بیان کیا۔ اس کے بعد فرمایا: کئی ان میں سے قیامت تک کے لیے بندر بنا دیے جائیں گے اور کئی خنزیر۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے بیس یا زیادہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ خز پہنتے تھے۔ ان میں سیدنا انس بن مالک اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما کا نام بھی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، خ تعلیقًا/ الأشربة 6 (5590)، (تحفة الأشراف: 12161) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (5590)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں