🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب لباس الغليظ
باب: موٹے کپڑے پہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4037
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتْ الْحَرُورِيَّةُ أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: ائْتِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا جَمِيلًا جَهِيرًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُهُمْ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ لَقَدْ" رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مَنِ الْحُلَلِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: اسْمُ أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خوارج نکلے تو میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا: تم ان لوگوں کے پاس جاؤ تو میں یمن کا سب سے عمدہ جوڑا پہن کر ان کے پاس گیا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! اور پوچھا: یہ کیا پہنے ہو؟ ابن عباس نے کہا: تم مجھ میں کیا عیب نکالتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے سے اچھا جوڑا پہنے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4037]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حروریہ (خارجیوں) کا ظہور ہوا اور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا، تو انہوں نے (مجھ سے) کہا کہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں۔ تو میں نے ایک خوبصورت یمنی حلہ زیب تن کیا۔ ابوزمیل رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بڑے خوبرو اور وجیہ جوان تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں ان لوگوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے «مَرْحَبًا» مرحبا کہا اور بولے: اے ابن عباس! یہ حلہ کیسا ہے؟ (یعنی آپ نے اسے کیونکر زیب تن کیا ہے؟) تو انہوں نے جواب دیا: تم مجھ پر کیا اعتراض کرتے ہو، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی خوبصورت حلہ زیب تن کیے دیکھا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوزمیل کا نام سماک بن ولید حنفی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5676) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الببيهقي (8/ 179 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سماك بن الوليد الحنفي، أبو زميل
Newسماك بن الوليد الحنفي ← عبد الله بن العباس القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← سماك بن الوليد الحنفي
صدوق يغلط
👤←👥عمر بن يونس الحنفي، أبو حفص
Newعمر بن يونس الحنفي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن خالد الكلبي، أبو ثور، أبو عبد الله
Newإبراهيم بن خالد الكلبي ← عمر بن يونس الحنفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4037
رأيت على رسول الله أحسن ما يكون من الحلل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4037 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4037
فوائد ومسائل:
مصلحت کے پیش نظر عمدہ اور قیمتی لباس پہننا مستحب ہے بشرطیہ کہ انسان کے خودرائی اور تکبر میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4037]

Sunan Abi Dawud Hadith 4037 in Urdu