علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب لباس الغليظ
باب: موٹے کپڑے پہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4037
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتْ الْحَرُورِيَّةُ أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: ائْتِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا جَمِيلًا جَهِيرًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُهُمْ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ لَقَدْ" رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مَنِ الْحُلَلِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: اسْمُ أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خوارج نکلے تو میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ”تم ان لوگوں کے پاس جاؤ“ تو میں یمن کا سب سے عمدہ جوڑا پہن کر ان کے پاس گیا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! اور پوچھا: یہ کیا پہنے ہو؟ ابن عباس نے کہا: تم مجھ میں کیا عیب نکالتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے سے اچھا جوڑا پہنے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4037]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حروریہ (خارجیوں) کا ظہور ہوا اور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا، تو انہوں نے (مجھ سے) کہا کہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں۔ تو میں نے ایک خوبصورت یمنی حلہ زیب تن کیا۔ ابوزمیل رحمہ اللہ نے کہا: ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بڑے خوبرو اور وجیہ جوان تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں ان لوگوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے «مَرْحَبًا» ”مرحبا“ کہا اور بولے: ”اے ابن عباس! یہ حلہ کیسا ہے؟“ (یعنی آپ نے اسے کیونکر زیب تن کیا ہے؟) تو انہوں نے جواب دیا: ”تم مجھ پر کیا اعتراض کرتے ہو، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی خوبصورت حلہ زیب تن کیے دیکھا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ابوزمیل کا نام سماک بن ولید حنفی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5676) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الببيهقي (8/ 179 وسنده حسن)
أخرجه الببيهقي (8/ 179 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4037
| رأيت على رسول الله أحسن ما يكون من الحلل |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4037 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4037
فوائد ومسائل:
مصلحت کے پیش نظر عمدہ اور قیمتی لباس پہننا مستحب ہے بشرطیہ کہ انسان کے خودرائی اور تکبر میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو۔
مصلحت کے پیش نظر عمدہ اور قیمتی لباس پہننا مستحب ہے بشرطیہ کہ انسان کے خودرائی اور تکبر میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4037]
Sunan Abi Dawud Hadith 4037 in Urdu
سماك بن الوليد الحنفي ← عبد الله بن العباس القرشي