🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب ما جاء في إسبال الإزار
باب: تہ بند (لنگی) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4086
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ؟، ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا وضو کر کے آؤ وہ گیا اور وضو کر کے دوبارہ آیا، پھر آپ نے فرمایا: جاؤ اور وضو کر کے آؤ تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کو وضو کا حکم دیتے ہیں پھر چپ ہو رہتے ہیں آخر کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جو اپنا تہ بند ٹخنے کے نیچے لٹکائے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم (638)، (تحفة الأشراف: 14241) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (638)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥أبو جعفر الأنصاري، أبو جعفر
Newأبو جعفر الأنصاري ← عطاء بن يسار الهلالي
مقبول
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو جعفر الأنصاري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد
Newأبان بن يزيد العطار ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← أبان بن يزيد العطار
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
638
يصلي وهو مسبل إزاره وإن الله لا يقبل صلاة رجل مسبل إزاره
سنن أبي داود
4086
يصلي وهو مسبل إزاره وإن الله لا يقبل صلاة رجل مسبل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4086 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4086
فوائد ومسائل:
1: امام نووی رحمتہ نے ریاض الصالحین میں اس حدیث کو صحیح مسلم کی شروط پر صحیح کہا ہے۔

2: مردوں کے لئے تہ بند اور شلوار کا لٹکانا بہت قبیح اور گناہ کا کام ہے جو ان کی عبادت کی قبولیت پر اثر انداز ہوجاتا ہے۔
نماز میں اور نماز کے علاوہ ہر حال میں اس سے پچنا واجب ہے اور عورتو ں کو نماز میں پاوں ڈھانپنا لازم ہے اور جب غیر محرم کی نظر پڑتی ہو تو اس کا اہتمام اور بھی واجب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4086]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 638
نماز میں کپڑا ٹخنے سے نیچے لٹکانے کے حکم کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا کر دوبارہ وضو کرو، چنانچہ وہ گیا اور اس نے (دوبارہ) وضو کیا، پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: جا کر پھر سے وضو کرو، چنانچہ وہ پھر گیا اور تیسری بار وضو کیا، پھر آیا تو ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بات ہے! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھر آپ خاموش رہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنا تہہ بند ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 638]
638۔ اردو حاشیہ:
➊ تہبند، چادر اور شلوار کا ٹخنوں سے نیچے لٹکائے رکھنا علامت تکبر ہے۔ اس لیے یہ سخت ممنوع اور کبیرہ گناہ ہے۔
➋ تاہم کیا یہ عمل ناقص وضو بھی ہے؟ اس میں اختلاف ہے، کیونکہ اس حدیث کے صحت میں اختلاف ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ  سمیت اکثر علماء کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے ان کے نزدیک ٹخنوں کے نیچے کپڑا لٹکنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، مگر جن کے نزدیک یہ حدیث صحیح یا حسن درجے کی ہے، ان کے نزدیک وضو ٹوٹ جائے گا، جیسا کہ اس حدیث سے مستفادہ ہوتا ہے۔ اور بعض کے نزدیک یہ ایک تہدیدی حکم ہے جس کا مقصد لوگوں کو اسبال ازار سے روکنا ہے، وضو اس سے نہیں ٹوٹے گا۔ بہرحال ایک مومن نمازی کی شلوار ہمیشہ اور ہر وقت ٹخنوں سے اوپر ہی رہنی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 638]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 638
... آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنا تہہ بند ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا [ابوداود 638]
کیا شلوار (چادر وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ الجواب:
وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ اس کی تو مجھے دلیل معلوم نہیں، لیکن میری تحقیق میں وہ حدیث بلحاظ سند حسن ہے جس میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس شخص کو (دوبارہ) وضو کرنے کا حکم دیا جس کا اِزار ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہوا تھا۔ دیکھئے سنن ابی داود کتاب الصلوٰۃ، باب الاسبال فی الصلوۃ (ح 638) وغیرہ۔
اس روایت کے ایک راوی ابو جعفر المؤذن ہیں، جنھیں بعض محدثین مجہول یعنی مجہول الحال قرار دیتے ہیں جبکہ درج ذیل محدثین نے انھیں ثقہ، صحیح الحدیث یا حسن الحدیث قرار دیاہے:
1- ابن حبان، دیکھئے موارد الظمان: 2406
2- الترمذی: حسن لہ: 3448
3- النووی، صحح لہ فی ریاض الصالحین
4- ابن حجر قواہ فی تخریج الاذکار
5- روی عنہ یحیی بن أبي کثیر وھو لا یحدث إلاعن ثقۃ عند أبي حاتم الرازي
اتنی توثیق کے بعد اس راوی کو مجہول کہنا غلط ہے، لہٰذا یہ روایت حسن ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 229 اور 230) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 229]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، ابوداود 638
کیا ازار لٹکانے سے وضوء یا نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: «اذهب فتوضا» جاؤ وضوء کرو۔ وہ گیا اور وضوء کر کے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے وضوء کرنے کو کہا۔ پھر ایک آدمی کے دریافت کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «آن صلى و هو مسبل إزاره وإن الله لا يقبل صلاة رجل مسل» یہ اپنا تہبند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور بے شک اللہ تعالیٰ (ٹخنوں سے نیچے) تہبند لٹکانے والے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتے۔
[ضعيف: ضعيف أبو داود 124، كتاب الصلاة: باب الإسبال فى الصلاة، أبو داود 638، بيهقي 241/2، أحمد 379/5]
اس کی سند میں ابو جعفر راوی ہے کہ جس سے بیان کرنے والا یحیٰی بن ابی کثیر ہے اور وہ انصاری مدنی موذن ہے جو کہ مجہول ہے جیسا کہ امام ابن قطانؒ نے یہی کہا ہے اور تقریب التہذیب میں حافظ ابن حجرؒ رقمطراز ہیں کہ اس کی حدیث کمزور ہے۔
شیخ البانیؒ بیان کرتے ہیں کہ جس نے مذکورہ حدیث کی سند کو صحیح کہا اسے وہم ہوا ہے۔ [المشكاة 761، 238/1]
امام شوکانیؒ اور امام منذریؒ نے بھی ابو جعفر راوی کو مجہول قرار دیا ہے۔ [نيل الأوطار 599/1، مختصر سنن أبى داود 324/1]
چونکہ یہ روایت ضعیف ہے اس لیے قابل حجت نہیں علاوہ ازیں کسی محدث نے بھی اسبال اِزار کو نواقض وضوء یا مبطلات صلاۃ میں شامل نہیں کیا لہذا ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکانے والے کا وضو اور نماز تو قائم رہے گی لیکن اس ممنوع فعل کے ارتکاب کی وجہ سے وہ سزا کا مستحق ضرور ہوگا۔

------------------
کیا ازار لٹکانے والے امام کے پیچھے نماز درست ہے؟
(ابن بازؒ) علماء کے دو اقوال میں سے زیادہ صحیح یہی ہے کہ ازار لٹکانے والے شخص اور اس طرح کے دیگر نافرمانوں کے پیچھے نماز درست ہے.... لیکن مسئولین کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کو امام بنانے سے احتراز کریں۔ [مجلة الدعوة رقم 913]
۲؎ . حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «امرت ان أسجد على سبعة ولا أكف شعرا ولا ثوبا» مجھے سات (ہڈیوں) پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے (اور یہ بھی کہ) میں بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں۔
[مسلم 490، كتاب الصلاة: باب أعضاء السجود والنهى عن كف الشعر والثوب و عقص الرأس فى الصلاة، نسائي 210/2، ابن ماجة 1040، ابن خزيمة 782]
امام ابن خزیمہؒ نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے کہ «باب الزجر عن كف الثياب فى الصلاة» نماز میں کپڑے سمیٹنے سے ڈانٹ کا بیان۔ [صحيح ابن خزيمة 383/1]
(نوویؒ) اس سے اجتناب کی ترغیب دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ «فلا خير فيه» اس میں خیر نہیں ہے۔ [كما فى المدونة الكبرى 96/1]
مزید فرماتے ہیں کہ اس ممانعت کے باوجود اگر کوئی اس طرح نماز پڑھ لے گا تو اس کی نماز تو جائے گی لیکن اس نے یہ برا کیا۔ [شرح مسلم 209/4]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 352]

Sunan Abi Dawud Hadith 4086 in Urdu