علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب في الانتعال
باب: جوتا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4137
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے ایک جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو جب تک اس کا تسمہ درست نہ کر لے ایک ہی پہن کر نہ چلے، اور نہ ایک موزہ پہن کر چلے، اور نہ بائیں ہاتھ سے کھائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4137]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو جب تک اسے درست نہ کر لے ایک جوتے میں نہ چلے، نہ ایک موزے میں چلے اور نہ بائیں ہاتھ سے کھائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس20 (2099)، (تحفة الأشراف: 2717)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 327) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2099)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5500
| من انقطع شسع نعله فلا يمش في نعل واحدة حتى يصلح شسعه لا يمش في خف واحد لا يأكل بشماله لا يحتب بالثوب الواحد لا يلتحف الصماء |
صحيح مسلم |
5502
| لا تمش في نعل واحد لا تحتب في إزار واحد لا تأكل بشمالك لا تشتمل الصماء لا تضع إحدى رجليك على الأخرى إذا استلقيت |
سنن أبي داود |
4137
| إذا انقطع شسع أحدكم فلا يمش في نعل واحدة حتى يصلح شسعه لا يمش في خف واحد لا يأكل بشماله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4137 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4137
فوائد ومسائل:
ایک جوتا پہننے سے جسم کا توازن بگڑنے کے علاوہ آدمی برا بھی لگتا ہے۔
ایک جوتا پہننے سے جسم کا توازن بگڑنے کے علاوہ آدمی برا بھی لگتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4137]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5500
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ”جب تم میں سے کسی کا تسمہ ٹوٹ جائے، یا جس کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک جوتا پہن کر نہ چلے، حتی کہ اپنا تسمہ درست کروائے، (اور دوسری جوتی پہن لے) اور ایک موزے میں نہ چلے اور اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور ایک کپڑے میں گوٹھ نہ مارے اور گونگلی بکل نہ مارے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5500]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
لا يجتبی بالثواب الواحد میں لا يجتبی،
جملہ خبریہ ہے،
یعنی وہ ایک کپڑے میں گوٹھ نہیں مارتا ہے،
لیکن جملہ انشائیہ کے معنی میں ہے کہ وہ ایسا نہ کرے۔
فوائد ومسائل:
لا يجتبی بالثواب الواحد میں لا يجتبی،
جملہ خبریہ ہے،
یعنی وہ ایک کپڑے میں گوٹھ نہیں مارتا ہے،
لیکن جملہ انشائیہ کے معنی میں ہے کہ وہ ایسا نہ کرے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5500]
Sunan Abi Dawud Hadith 4137 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري