یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب في أخذ الشارب
باب: مونچھیں کتروانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4200
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا صَدُقَةُ الدَّقِيقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْقَ الْعَانَةِ وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ وَقَصَّ الشَّارِبِ وَنَتْفَ الْإِبِطِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَنَسٍ، لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وُقِّتَ لَنَا وَهَذَا أَصَحُّ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیر ناف کے بال مونڈنے، ناخن کاٹنے، مونچھیں تراشنے اور بغل کے بال اکھاڑنے کی چالیس دن میں ایک بار کی تحدید فرما دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جعفر بن سلیمان نے ابوعمران سے اور انہوں نے انس سے روایت کیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں «وقَّتَ لنا» کے بجائے «وُقِّتَ لنا» بصیغہ مجہول ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4200]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے حد مقرر کر دی تھی کہ ”زیرِ ناف کی صفائی، ناخن تراشنے، مونچھیں کاٹنے اور بغلوں کے بال اکھیڑنے کا عمل چالیس دن میں ایک بار (ضرور) کر لیا جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس روایت کو جعفر بن سلیمان نے بواسطہ ابو عمران، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا۔ اور کہا: ”ہمارے لیے یہ حد مقرر کی گئی تھی۔“ اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ اور صدقہ دقیقی قوی راوی نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطھارة 16 (258)، سنن الترمذی/الأدب 14 (2758)، سنن النسائی/الطھارة 14 (14)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 8 (295)، (تحفة الأشراف: 1070)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/122، 203، 255) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2758)
صدقة بن موسي الدقيقي : ضعيف و قال الھيثمي : ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 286/5) وحديث مسلم (258) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 149
إسناده ضعيف
ترمذي (2758)
صدقة بن موسي الدقيقي : ضعيف و قال الھيثمي : ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 286/5) وحديث مسلم (258) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 149
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4200
| وقت لنا رسول الله حلق العانة تقليم الأظفار قص الشارب نتف الإبط أربعين يوما مرة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4200 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4200
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندَا ضعیف ہے، تاہم چالیس دن کی مدت کی بابت صحیح مسلم میں روایت موجود ہے۔
دیکھیئے: (صحیح مسلم، الطھارة، باب خصال الفطرة، حدیث: 658) علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو بھی صحیح قرار دیا ہے۔
دیکھیئے: (صحیح أبو داود، کتاب وہاب مذکور) لہذا معلوم ہوا کہ چالیس دن کی مدت زیادہ سے زیادہ ہے۔
اس سے آگے بڑھنا جائز نہیں۔
یہ روایت سندَا ضعیف ہے، تاہم چالیس دن کی مدت کی بابت صحیح مسلم میں روایت موجود ہے۔
دیکھیئے: (صحیح مسلم، الطھارة، باب خصال الفطرة، حدیث: 658) علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو بھی صحیح قرار دیا ہے۔
دیکھیئے: (صحیح أبو داود، کتاب وہاب مذکور) لہذا معلوم ہوا کہ چالیس دن کی مدت زیادہ سے زیادہ ہے۔
اس سے آگے بڑھنا جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4200]
Sunan Abi Dawud Hadith 4200 in Urdu
عبد الملك بن حبيب الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري