🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب في وقت العشاء الآخرة
باب: عشاء کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 421
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، يَقُولُ: ارْتَقَبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ فَأَخَّرَ حَتَّى ظَنَّ الظَّانُّ أَنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ، وَالْقَائِلُ مِنَّا، يَقُولُ: صَلَّى، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ، حَتَّى خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لَهُ كَمَا قَالُوا، فَقَالَ لَهُمْ:" أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ، وَلَمْ تُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عشاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا لیکن آپ نے تاخیر کی، یہاں تک کہ گمان کرنے والوں نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تشریف لائیں گے، اور ہم میں سے بعض کہنے والے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں، ہم اسی حال میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، لوگوں نے آپ سے بھی وہی بات کہی جو پہلے کہہ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم لوگ اس نماز کو دیر کر کے پڑھو، کیونکہ تمہیں اسی کی وجہ سے دوسری امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 421]
جناب عاصم بن حمید سکونی سے روایت ہے، انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ (ایک بار) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز عشاء کے لیے انتظار کرتے رہے مگر آپ نے تاخیر کر دی حتیٰ کہ بعض نے یہ بھی گمان کیا کہ شاید آپ نہیں آئیں گے اور کچھ کہنے لگے کہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے۔ بہرحال ہم اسی حالت میں تھے کہ آپ تشریف لے آئے تو اصحاب کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے وہی کچھ کہا جو پہلے کہہ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نماز کو خوب اندھیرے میں پڑھو، بلاشبہ تمہیں تمام امتوں پر اس کے ذریعے سے فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 11319)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/237) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (612)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاذ بن جبل الأنصاري، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عاصم بن حميد السكوني
Newعاصم بن حميد السكوني ← معاذ بن جبل الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥راشد بن سعد المقرائي
Newراشد بن سعد المقرائي ← عاصم بن حميد السكوني
ثقة
👤←👥حريز بن عثمان الرحبي، أبو عون، أبو عثمان
Newحريز بن عثمان الرحبي ← راشد بن سعد المقرائي
ثقة رمي بالنصب
👤←👥عثمان بن كثير القرشي، أبو عمرو
Newعثمان بن كثير القرشي ← حريز بن عثمان الرحبي
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← عثمان بن كثير القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
421
أعتموا بهذه الصلاة فإنكم قد فضلتم بها على سائر الأمم ولم تصلها أمة قبلكم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 421 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 421
421۔ اردو حاشیہ:
➊ گذشتہ حدیث امامت جبرائیل سنن ابوداود حدیث نمبر: 393 میں گزرا ہے کہ یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور اس حدیث میں آیا ہے کہ تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔ تو ان دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ سابقہ انبیائے کرام علیھم السلام کی نمازوں کے اوقات میں اسی طرح کی وسعت ہوا کرتی تھی اور ان اوقات کے اول و آخر ہوا کرتے تھے یا یہ کہ وہ لوگ اتنی تاخیر سے نہ پڑھتے تھے جیسے کہ اس روز آپ نے پڑھائی۔ «والله أعلم»
➋ نما ز عشاء کو تاخیر سے پڑھنا یقیناً افضل ہے لیکن اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے جماعت کی نماز چھوڑنا ہرگز جائز نہیں ہے۔
➌ دین و شریعت کی اصل غرض و غایت اللہ تعالیٰ کا تقرب اور حصول اجر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین میں یہ وصف بہت نمایاں ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس کے حریص بن گئے تھے لہٰذا داعی حضرات کو چاہیے کہ اپنی دعوت میں اسی پہلو کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا کریں۔ «والله أعلم»
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 421]

Sunan Abi Dawud Hadith 421 in Urdu