🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ یعنی آپ آڈیو ، ویڈیو بھیجیں ہم ان شاء اللہ ٹیکسٹ/ پی ڈی ایف میں بنا دیں گے۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب ما جاء في الذهب للنساء
باب: عورتوں کے سونا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4239
حَدَّثَنَ حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مَيْمُونٍ الْقَنَّادِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيًانَ:" أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ رُكُوبِ النِّمَارِ وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَلْقَ مُعَاوِيَةَ.
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتوں کی کھال پر سواری کرنے اور سونا پہننے سے منع فرمایا ہے مگر جب «مقطّع» یعنی تھوڑا اور معمولی ہو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوقلابہ کی ملاقات معاویہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة 40 (5152)، (تحفة الأشراف: 11461)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/92، 93، 95، 98، 99) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ رخصت عورتوں کے لئے ہے مردوں کے لئے سونا مطلقا حرام ہے چاہے کم ہو یا زیادہ،عورتوں کے لئے جنس سونا حرام نہیں، سونے کی اتنی مقدار جس میں زکاۃ واجب نہیں وہ اپنے استعمال میں لا سکتی ہیں، البتہ اس سے زائد مقدار ان کے لئے بھی درست نہیں کیونکہ بسا اوقات بخل کے سبب وہ زکاۃ سے گریز کرنے لگتی ہیں جو ان کے گناہ اور حرج میں پڑ جانے کا سبب بن جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4395)
وله شاھد عند النسائي (5162 وسنده صحيح)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن أبي سفيان الأموي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← معاوية بن أبي سفيان الأموي
ثقة
👤←👥ميمون القناد
Newميمون القناد ← عبد الله بن زيد الجرمي
مقبول
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← ميمون القناد
ثقة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← خالد الحذاء
ثقة حجة حافظ
👤←👥حميد بن مسعدة السامي، أبو علي، أبو العباس
Newحميد بن مسعدة السامي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4239
ركوب النمار وعن لبس الذهب إلا مقطعا
سنن ابن ماجه
3656
ينهى عن ركوب النمور
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4239 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4239
فوائد ومسائل:
سونے کے بارے میں تمام روایات کے مجموعے سے چند باتیں واضح ہو تی ہیں۔
اول یہ کہ اس کا جواز تو ضرور ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں اس کے استعمال کی جو صورتیں ہیں وہ سخت محلِ نظر ہیں، مثلاََ زیورات بنانے اور استعمال کرنے کا شوق تو عام ہے، لیکن اس کی زکوۃ ادا کرنے کی طرف توجہ بہت کم ہے، چند فیصد عورتیں ہی اس کا اہتمام کرتی ہیں، ظاہر بات ہے کہ اس طرح کا زیور جہنم ہی کا ایندھن ہے اَعَاذَنَا الله منه ثانیاََ اصحابِ حیثیت لوگوں کی خواتین کو نئے نئے زیورات بنانے کا اتنا شوق ہوتا ہے کہ وہ خاندان کی ہر تقریب اور شادی پر کپڑوں کی طرح زیورات کا بھی نیا سیٹ تیار کروانا ضروری سمجھتی ہیں، اسی لیئے کئی کئی سو تولہ سونا زیورات کی شکل میں اُمراء کے گھروں میں پڑا ہے، جس کی مجوموعی مالیت اربوں سے متجاوز ہوکر شائد کھربوں میں پہنچتی ہو۔
یوں قوم کا اتنا بڑا سرمایہ کسی مصرف میں نہیں آتا۔
اگر کم از کم اتنے برے سرمائے کی زکوۃ ہی نکالی جاتی رہے تو غریب عوام کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے اور اس کے انجماد کے مضرات کچھ کم ہو سکتے ہیں۔
ثالثاََ شادی کے موقعے پر حسبِ استطاعت زیورات کا بنانا ضروری سمجھ لیا گیا ہے اور اس کے بغیر شادی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔
اس تصور نے بھی کمتر حیثیت کے لوگوں کو مصیبت میں ڈالا ہوا ہے۔
ان تمام مفاسد کا حل یہی ہے جو اس حدیث میں اور دیگر روایات میں بیان ہوا ہے کہ سونے کے استعمال کو کم سے کم کیا جائے چند تولہ سونا (ساڑھے سات تولہ سے کم) زکوۃ سے بھی مستثنی ہے۔
جس کے پاس ساڑھے سات تولہ یا اس کے زیادہ ہو وہ زکوۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرے، اس طرح اسے شادی کے لیئے ضروری نہ سمجھا جائے اور اس کے لیئے بھی جہاد کیا جائے۔
وما علينا إلا البلاغ
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4239]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3656
چیتے کی کھال سواری پر رکھ کر بیٹھنے کا بیان۔
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چیتوں کی کھال پر سواری کرنے سے منع فرماتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3656]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
چیتے کی کھال گھوڑے کی کاٹھی پر ڈال کر اس پر سوار ہونا منع ہے کیونکہ اس میں تکبر کا اظہار ہے اور غیر مسلم عجمیوں کی عادت ہے۔

(2)
درندوں کے شکار کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کا گوشت نہیں کھایا جاتا۔
اور محض اظہار فخر کے لیے ان کی کھالیں حاصل کرنے کےلیے انہیں قتل کرنا ظلم ہے۔

(3)
جس درندے سے لوگوں کی جان و مال کو خطرہ ہو اسے قتل کرنا جائز ہے جیسے بعض شیر و غیرہ آدم خور بن جاتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3656]

Sunan Abi Dawud Hadith 4239 in Urdu