سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ذكر الفتن ودلائلها
باب: فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4242
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ فِي ذِكْرِهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ، ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَنُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي وَإِنَّمَا أَوْلِيَائِي الْمُتَّقُونَ ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً فَإِذَا قِيلَ: انْقَضَتْ تَمَادَتْ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ فَإِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ غَدِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے آپ نے فتنوں کے تذکرہ میں بہت سے فتنوں کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا بھی ذکر فرمایا تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایسی نفرت و عداوت اور قتل و غارت گری ہے کہ انسان ایک دوسرے سے بھاگے گا، اور باہم برسر پیکار رہے گا، پھر اس کے بعد فتنہ سراء ہے جس کا فساد میرے اہل بیت کے ایک شخص کے پیروں کے نیچے سے رونما ہو گا، وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہ ہو گا، میرے اولیاء تو وہی ہیں جو متقی ہوں، پھر لوگ ایک شخص پر اتفاق کر لیں گے جیسے سرین ایک پسلی پر (یعنی ایسے شخص پر اتفاق ہو گا جس میں استقامت نہ ہو گی جیسے سرین پہلو کی ہڈی پر سیدھی نہیں ہوتی)، پھر «دھیماء» (اندھیرے) کا فتنہ ہو گا جو اس امت کے ہر فرد کو پہنچ کر رہے گا، جب کہا جائے گا کہ فساد ختم ہو گیا تو وہ اور بھڑک اٹھے گا جس میں صبح کو آدمی مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں گے، ایک خیمہ اہل ایمان کا ہو گا جس میں کوئی منافق نہ ہو گا، اور ایک خیمہ اہل نفاق کا جس میں کوئی ایماندار نہ ہو گا، تو جب ایسا فتنہ رونما ہو تو اسی روز، یا اس کے دو سرے روز سے دجال کا انتظار کرنے لگ جاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4242]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں اور آزمائشوں کا ذکر فرمایا اور بہت تفصیل سے بیان کیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ» ”احلاس کے فتنے“ کا بھی ذکر کیا۔ تو کہنے والے نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! احلاس کا فتنہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھاگم بھاگ اور غارت گری! پھر «فِتْنَةُ السَّرَّاءِ» ”وسعت و فراخی (مال و زر) کا فتنہ“ آئے گا جس کا ظہور میرے اہل بیت کے ایک فرد کے پاؤں تلے سے ہو گا۔ اس کا دعویٰ ہو گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہیں ہو گا۔ بلاشبہ میرے ولی اور دوست صرف متقی لوگ ہیں۔ پھر لوگ ایک آدمی پر صلح کر لیں گے جیسے کہ «كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ» ”سرین ہو پسلی پر!“ (یعنی نامعقول اور نااہل ہو گا جس طرح کہ سرین ایک پسلی پر نہیں ٹک سکتی) پھر ایک فتنہ اٹھے گا «فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ» ”گھٹا ٹوپ اندھیرا!“ اس امت میں سے کوئی نہیں بچے گا مگر اسے اس کا طمانچہ پڑ کر رہے گا۔ پس جب سمجھا جائے گا کہ یہ فتنہ ختم ہو گیا وہ اور بڑھ جائے گا۔ آدمی صبح کرے گا تو مومن ہو گا اور شام ہو گی تو کافر ہو جائے گا حتیٰ کہ لوگ دو خیموں (فریقوں) میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک خیمہ ایمان کا، جس میں کوئی نفاق نہیں ہو گا، اور دوسرا نفاق کا جس میں کوئی ایمان نہ ہو گا، اور جب یہ احوال ہوں تو دجال کا انتظار کرنا، آج آیا کہ کل۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 7368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/133) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5398، 5403)
مشكوة المصابيح (5398، 5403)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4242
| أوليائي المتقون فتنة الدهيماء لا تدع أحدا من هذه الأمة إلا لطمته لطمة فإذا قيل انقضت تمادت يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا يصير الناس إلى فسطاطين فسطاط إيمان لا نفاق فيه وفسطاط نفاق لا إيمان فيه فإذا كان ذاكم فانتظروا الدجال من يومه أو من غده |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4242 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4242
فوائد ومسائل:
1) پہلے فتنے کو(اَحلاس) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ(حلس) کی جمع ہے۔
جس کے معنی ٹاٹ اور چٹائی کے ہیں جو گھر میں بچھی رہتی ہے اور جلدی اُٹھائی نہیں جاتی۔
اس فتنے کو اس سے مشابہت دی گئی ہے کہ اس کی مدت طویل ہو گی اور اس میں میل کچیل اور کالک بھی ہو گی۔
2) مال و دولت اور فراغ دستی۔
۔
۔
۔
۔
۔
میں اگر اللہ عزوجل کا شکر نہ ہواور مال کا حق ادا نہ کیا جائے تو یہ بہے بڑا فتنہ ہے۔
3) جاہل، نااہل اور نا معقول لوگوں کو اپنا حاکم بنانا اور ان پر راضی رہنا بھی ایک فتنہ ہے جو کسی کے لیئے کسی خیر کا باعث نہیں بن سکتے۔
4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دوست اور ولی وہی لوگ ہیں جو اصول قرآن و سنت کے مطابق متقی ہوں۔
5) لوگوں کا دو خیموں اور فریقوں میں تقسیم ہونا۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
جیسے کہ مو جودہ دور میں دائیں بازو اور با ئیں بازو کی اصطلاح رائج رہی ہے۔
جو شائد آگے چل کر مزید حقیقی معنوں میں استعمال ہو۔
واللہ اعلم
1) پہلے فتنے کو(اَحلاس) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ(حلس) کی جمع ہے۔
جس کے معنی ٹاٹ اور چٹائی کے ہیں جو گھر میں بچھی رہتی ہے اور جلدی اُٹھائی نہیں جاتی۔
اس فتنے کو اس سے مشابہت دی گئی ہے کہ اس کی مدت طویل ہو گی اور اس میں میل کچیل اور کالک بھی ہو گی۔
2) مال و دولت اور فراغ دستی۔
۔
۔
۔
۔
۔
میں اگر اللہ عزوجل کا شکر نہ ہواور مال کا حق ادا نہ کیا جائے تو یہ بہے بڑا فتنہ ہے۔
3) جاہل، نااہل اور نا معقول لوگوں کو اپنا حاکم بنانا اور ان پر راضی رہنا بھی ایک فتنہ ہے جو کسی کے لیئے کسی خیر کا باعث نہیں بن سکتے۔
4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دوست اور ولی وہی لوگ ہیں جو اصول قرآن و سنت کے مطابق متقی ہوں۔
5) لوگوں کا دو خیموں اور فریقوں میں تقسیم ہونا۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
جیسے کہ مو جودہ دور میں دائیں بازو اور با ئیں بازو کی اصطلاح رائج رہی ہے۔
جو شائد آگے چل کر مزید حقیقی معنوں میں استعمال ہو۔
واللہ اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4242]
Sunan Abi Dawud Hadith 4242 in Urdu
عمير بن هانئ العنسي ← عبد الله بن عمر العدوي