🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ذكر الفتن ودلائلها
باب: فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4242
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ فِي ذِكْرِهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ، ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَنُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي وَإِنَّمَا أَوْلِيَائِي الْمُتَّقُونَ ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً فَإِذَا قِيلَ: انْقَضَتْ تَمَادَتْ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ فَإِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ غَدِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے آپ نے فتنوں کے تذکرہ میں بہت سے فتنوں کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا بھی ذکر فرمایا تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسی نفرت و عداوت اور قتل و غارت گری ہے کہ انسان ایک دوسرے سے بھاگے گا، اور باہم برسر پیکار رہے گا، پھر اس کے بعد فتنہ سراء ہے جس کا فساد میرے اہل بیت کے ایک شخص کے پیروں کے نیچے سے رونما ہو گا، وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہ ہو گا، میرے اولیاء تو وہی ہیں جو متقی ہوں، پھر لوگ ایک شخص پر اتفاق کر لیں گے جیسے سرین ایک پسلی پر (یعنی ایسے شخص پر اتفاق ہو گا جس میں استقامت نہ ہو گی جیسے سرین پہلو کی ہڈی پر سیدھی نہیں ہوتی)، پھر «دھیماء» (اندھیرے) کا فتنہ ہو گا جو اس امت کے ہر فرد کو پہنچ کر رہے گا، جب کہا جائے گا کہ فساد ختم ہو گیا تو وہ اور بھڑک اٹھے گا جس میں صبح کو آدمی مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں گے، ایک خیمہ اہل ایمان کا ہو گا جس میں کوئی منافق نہ ہو گا، اور ایک خیمہ اہل نفاق کا جس میں کوئی ایماندار نہ ہو گا، تو جب ایسا فتنہ رونما ہو تو اسی روز، یا اس کے دو سرے روز سے دجال کا انتظار کرنے لگ جاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 7368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/133) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5398، 5403)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمير بن هانئ العنسي، أبو الوليد
Newعمير بن هانئ العنسي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥العلاء بن عتبة اليحصبي، أبو محمد
Newالعلاء بن عتبة اليحصبي ← عمير بن هانئ العنسي
ثقة
👤←👥عبد الله بن سالم الأشعري، أبو يوسف
Newعبد الله بن سالم الأشعري ← العلاء بن عتبة اليحصبي
ثقة رمي بالنصب
👤←👥عبد القدوس بن الحجاج الخولاني، أبو المغيرة
Newعبد القدوس بن الحجاج الخولاني ← عبد الله بن سالم الأشعري
ثقة
👤←👥يحيى بن عثمان القرشي، أبو زكريا، أبو سليمان، أبو عمرو
Newيحيى بن عثمان القرشي ← عبد القدوس بن الحجاج الخولاني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4242
أوليائي المتقون فتنة الدهيماء لا تدع أحدا من هذه الأمة إلا لطمته لطمة فإذا قيل انقضت تمادت يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا يصير الناس إلى فسطاطين فسطاط إيمان لا نفاق فيه وفسطاط نفاق لا إيمان فيه فإذا كان ذاكم فانتظروا الدجال من يومه أو من غده
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4242 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4242
فوائد ومسائل:
1) پہلے فتنے کو(اَحلاس) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ(حلس) کی جمع ہے۔
جس کے معنی ٹاٹ اور چٹائی کے ہیں جو گھر میں بچھی رہتی ہے اور جلدی اُٹھائی نہیں جاتی۔
اس فتنے کو اس سے مشابہت دی گئی ہے کہ اس کی مدت طویل ہو گی اور اس میں میل کچیل اور کالک بھی ہو گی۔

2) مال و دولت اور فراغ دستی۔
۔
۔
۔
۔
۔
میں اگر اللہ عزوجل کا شکر نہ ہواور مال کا حق ادا نہ کیا جائے تو یہ بہے بڑا فتنہ ہے۔

3) جاہل، نااہل اور نا معقول لوگوں کو اپنا حاکم بنانا اور ان پر راضی رہنا بھی ایک فتنہ ہے جو کسی کے لیئے کسی خیر کا باعث نہیں بن سکتے۔

4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دوست اور ولی وہی لوگ ہیں جو اصول قرآن و سنت کے مطابق متقی ہوں۔

5) لوگوں کا دو خیموں اور فریقوں میں تقسیم ہونا۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
جیسے کہ مو جودہ دور میں دائیں بازو اور با ئیں بازو کی اصطلاح رائج رہی ہے۔
جو شائد آگے چل کر مزید حقیقی معنوں میں استعمال ہو۔
واللہ اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4242]