سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب في ذكر البصرة
باب: بصرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4308
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحِ بْنِ دِرْهَمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: انْطَلَقْنَا حَاجِّينَ فَإِذَا رَجُلٌ فَقَالَ لَنَا: إِلَى جَنْبِكُمْ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا الْأُبُلَّةُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ يَضْمَنُ لِي مِنْكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ لِي فِي مَسْجِدِ الْعَشَّارِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا وَيَقُولَ: هَذِهِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعْتُ خَلِيلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مِنْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ لَا يَقُومُ مَعَ شُهَدَاءِ بَدْرٍ غَيْرُهُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْمَسْجِدُ مِمَّا يَلِي النَّهْرَ.
صالح بن درہم کہتے ہیں کہ ہم حج کے ارادہ سے چلے تو اچانک ہمیں ایک شخص ملا ۱؎ جس نے ہم سے پوچھا: کیا تمہارے قریب میں کوئی ایسی بستی ہے جسے ابلّہ کہا جاتا ہو؟ ہم نے کہا: ہاں، ہے، پھر اس نے کہا: تم میں سے کون اس بات کی ضمانت لیتا ہے کہ وہ وہاں مسجد عشار میں میرے لیے دو یا چار رکعت نماز پڑھے؟ اور کہے: اس کا ثواب ابوہریرہ کو ملے کیونکہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اللہ قیامت کے دن مسجد عشّار سے ایسے شہداء اٹھائے گا جن کے علاوہ کوئی اور شہداء بدر کے ہم پلہ نہ ہوں گے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسجد نہر ۲؎ کے متصل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13501) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: اس سے مراد نہر فرات ہے۔
۲؎: اس سے مراد نہر فرات ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم بن صالح ضعفه الدار قطني والجمهور وقال الحافظ ابن حجر : فيه ضعف (تق: 186)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
إسناده ضعيف
إبراهيم بن صالح ضعفه الدار قطني والجمهور وقال الحافظ ابن حجر : فيه ضعف (تق: 186)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4308
| يبعث من مسجد العشار يوم القيامة شهداء لا يقوم مع شهداء بدر غيرهم |
صالح بن درهم الباهلي ← أبو هريرة الدوسي