یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب في ذكر البصرة
باب: بصرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4308
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحِ بْنِ دِرْهَمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: انْطَلَقْنَا حَاجِّينَ فَإِذَا رَجُلٌ فَقَالَ لَنَا: إِلَى جَنْبِكُمْ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا الْأُبُلَّةُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ يَضْمَنُ لِي مِنْكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ لِي فِي مَسْجِدِ الْعَشَّارِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا وَيَقُولَ: هَذِهِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعْتُ خَلِيلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مِنْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ لَا يَقُومُ مَعَ شُهَدَاءِ بَدْرٍ غَيْرُهُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْمَسْجِدُ مِمَّا يَلِي النَّهْرَ.
صالح بن درہم کہتے ہیں کہ ہم حج کے ارادہ سے چلے تو اچانک ہمیں ایک شخص ملا ۱؎ جس نے ہم سے پوچھا: کیا تمہارے قریب میں کوئی ایسی بستی ہے جسے ابلّہ کہا جاتا ہو؟ ہم نے کہا: ہاں، ہے، پھر اس نے کہا: تم میں سے کون اس بات کی ضمانت لیتا ہے کہ وہ وہاں مسجد عشار میں میرے لیے دو یا چار رکعت نماز پڑھے؟ اور کہے: اس کا ثواب ابوہریرہ کو ملے کیونکہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اللہ قیامت کے دن مسجد عشّار سے ایسے شہداء اٹھائے گا جن کے علاوہ کوئی اور شہداء بدر کے ہم پلہ نہ ہوں گے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسجد نہر ۲؎ کے متصل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4308]
ابراہیم بن صالح بن درہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ حج کے لیے روانہ ہوئے تو اتفاق سے ہم سے ایک آدمی نے پوچھا: ”تمہارے قریب پہلو میں ابلہ نامی کوئی بستی ہے؟“ ہم نے کہا: ”ہاں۔“ تو اس نے کہا: ”تم میں سے کون میرا ضامن بنتا ہے کہ وہ میرے لیے مسجد عشار میں دو یا چار رکعتیں پڑھے اور کہے کہ یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے ہیں؟ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اللہ عزوجل قیامت کے دن مسجد عشار سے شہداء کو اٹھائے گا۔ شہدائے بدر کے ساتھ ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں اٹھے گا۔““ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مسجد دریا کے کنارے پر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13501) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: اس سے مراد نہر فرات ہے۔
۲؎: اس سے مراد نہر فرات ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم بن صالح ضعفه الدار قطني والجمهور وقال الحافظ ابن حجر : فيه ضعف (تق: 186)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
إسناده ضعيف
إبراهيم بن صالح ضعفه الدار قطني والجمهور وقال الحافظ ابن حجر : فيه ضعف (تق: 186)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4308
| يبعث من مسجد العشار يوم القيامة شهداء لا يقوم مع شهداء بدر غيرهم |
Sunan Abi Dawud Hadith 4308 in Urdu
صالح بن درهم الباهلي ← أبو هريرة الدوسي