سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب في خبر الجساسة
باب: جساسہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4325
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ:" إِنَّهُ حَبَسَنِي، حَدِيثٌ كَانَ يُحَدِّثُنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا، قَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعْرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ خَرَجَ نَبِيُّ الْأُمِّيِّينَ بَعْدُ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَطَاعُوهُ أَمْ عَصَوْهُ؟ قُلْتُ: بَلْ أَطَاعُوهُ، قَالَ: ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء پڑھنے میں دیر کی، پھر نکلے تو فرمایا: ”مجھے ایک بات نے روک لیا، جسے تمیم داری ایک آدمی کے متعلق بیان کر رہے تھے، تو میں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں تھا، تمیم کہتے ہیں کہ ناگاہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی ہے، تو میں نے پوچھا: تم کون ہو؟ وہ بولی: میں جساسہ ۱؎ ہوں، تم اس محل کی طرف جاؤ، تو میں اس محل میں آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک شخص ہے جو اپنے بال کھینچ رہا ہے، وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، اور آسمان و زمین کے درمیان میں اچھلتا ہے، میں نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ تو اس نے کہا: میں دجال ہوں، کیا امیوں کے نبی کا ظہور ہو گیا؟ میں نے کہا: ہاں (وہ ظاہر ہو چکے ہیں) اس نے پوچھا: لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے، تو اس نے کہا: یہ بہتر ہے ان کے لیے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4325]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر فرما دی۔ پھر تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے تمیم داری رضی اللہ عنہ کی باتوں نے روک لیا تھا۔ وہ بیان کر رہے تھے کہ سمندری جزیروں میں سے ایک جزیرے میں ایک آدمی تھا، اور میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی تھی۔ پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں «الْجَسَّاسَةُ» ”جساسہ“ ہوں، اس محل میں چلے جاؤ، میں وہاں گیا تو اس میں ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہا تھا اور زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور اوپر نیچے اچھل رہا تھا۔ میں نے کہا: ”تم کون ہو؟“ اس نے کہا: ”میں دجال ہوں۔ کیا عربوں کا نبی آ گیا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”کیا ان لوگوں نے اس کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی؟“ میں نے کہا: ”نہیں بلکہ اطاعت کی ہے۔“ اس نے کہا: ”یہ ان کے لیے بہتر ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18039) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جساسہ ایک عورت ہے اور اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ وہ ایک دابہ ہے بظاہر دونوں روایتیں متعارض ہیں اس تعارض کو حسب ذیل طریقے سے دفع کیا جاتا ہے: ۱- ہو سکتا ہے کہ دجال کے پاس دو جساسہ ہوں ایک دابہ ہو اور دوسری عورت ہو، ۲- یا وہ شیطانہ ہو جو کبھی دابہ کی شکل میں ظاہر ہوتی رہی ہو اور کبھی عورت کی شکل میں کیونکہ شیطان جو شکل چاہے اپنا سکتا ہے، ۳- یا اسے مجازاً دابہ کہا گیا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول «وما من دابّۃ فی الارض إلا علی اللہ رزقھا» میں ہے، اگلی روایت کے الفاظ «فرقنا منھا ان تکون شیطانۃ» سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5484)
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (4326)
مشكوة المصابيح (5484)
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (4326)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4325
| تميم الداري عن رجل كان في جزيرة من جزائر البحر فإذا أنا بامرأة تجر شعرها قال ما أنت قالت أنا الجساسة اذهب إلى ذلك القصر فأتيته فإذا رجل يجر شعره مسلسل في الأغلال ينزو فيما بين السماء والأرض فقلت من أنت قال أنا الدجال خرج |
Sunan Abi Dawud Hadith 4325 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← فاطمة بنت قيس الفهرية