سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب ما جاء في المحاربة
باب: اللہ و رسول سے محاربہ (جنگ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4368
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ زَادَ ثُمَّ نَهَى، عَنِ الْمُثْلَةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ خِلَافٍ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَسَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ ثَابِتٍ جَمِيعًا، عَنْ أَنَسٍ لَمْ يَذْكُرَا مِنْ خِلَافٍ وَلَمْ أَجِدْ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ قَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ إِلَّا فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے ”پھر آپ نے مثلہ سے منع فرما دیا“ اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر۔ شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4368]
قتادہ رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مذکورہ بالا کی مانند روایت کی اور مزید کہا: ”پھر مثلہ سے منع کر دیا گیا۔“ اور اس روایت میں ”الٹی اطراف کا“ ذکر نہیں کیا۔ شعبہ رحمہ اللہ نے بواسطہ قتادہ اور سلام بن مسکین رحمہ اللہ نے ثابت رحمہ اللہ سے اور انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ ان دونوں نے بھی ”الٹی اطراف“ کا ذکر نہیں کیا۔ اور حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کی روایت کے علاوہ مجھے کسی کی حدیث میں یہ نہیں ملا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ان کے ہاتھ اور پاؤں الٹی اطراف سے کاٹے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (4364)، (تحفة الأشراف: 1385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/177) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1501، 5685)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4368 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4368
فوائد ومسائل:
یہ سزا قرآنی حکم کے مطابق ہے۔
قرآن مجید کی نص سورہ مائدہ کی آیت33 میں یہ حکم بصراحت موجود ہے اور اس عمل کو مثلہ بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ حد شرعی ہے اور ان لوگوں سے قصاص کا معاملہ کیا گیا تھا۔
اور مثلہ جس کی ممانعت آئی ہے وہ قتل کر دینے کے بعد نعش کے اعضاء کاٹنا ہے جو اسلام میں کسی طرح جائز نہیں۔
یہ سزا قرآنی حکم کے مطابق ہے۔
قرآن مجید کی نص سورہ مائدہ کی آیت33 میں یہ حکم بصراحت موجود ہے اور اس عمل کو مثلہ بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ حد شرعی ہے اور ان لوگوں سے قصاص کا معاملہ کیا گیا تھا۔
اور مثلہ جس کی ممانعت آئی ہے وہ قتل کر دینے کے بعد نعش کے اعضاء کاٹنا ہے جو اسلام میں کسی طرح جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4368]
Sunan Abi Dawud Hadith 4368 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري