🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ
باب: اللہ و رسول سے محاربہ (جنگ) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4364
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ قَوْمًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ قَالَ مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ" فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسُمِرَ أَعْيُنُهُمْ وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ"، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: فَهَؤُلَاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل، یا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی چند اونٹنیاں دلوائیں، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں، وہ (اونٹنیاں لے کر) چلے گئے جب وہ صحت یاب ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹ ہانک لے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح ہی صبح اس کی خبر مل گئی، چنانچہ آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو روانہ کیا، تو ابھی دن بھی اوپر نہیں چڑھنے پایا تھا کہ انہیں پکڑ کر لے آیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئیے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں، اور وہ گرم سیاہ پتھریلی زمین میں ڈال دیئے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا، ابوقلابہ کہتے ہیں: ان لوگوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تھے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4364]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل یا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی (اور وہ بیمار ہو گئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چند اونٹنیاں عنایت فرمائیں اور حکم دیا کہ وہ ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ وہ (باہر چراگاہ میں) چلے گئے۔ جب تندرست ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا اور جانور ہنکا لے گئے۔ دن کے پہلے پہر ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خبر مل گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب میں اپنے آدمی بھیجے۔ جب دن خوب چڑھ آیا تو انہیں لے آیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالے گئے۔ ان کی آنکھوں میں گرم لوہے کی سلاخیں پھیری گئیں اور پتھریلی زمین پر پھینک دیے گئے۔ وہ پانی مانگتے تھے مگر نہ دیا گیا۔ ابوقلابہ نے کہا: ان لوگوں نے چوری کی، قتل کیے، ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔ (یعنی ان کے ساتھ اس سخت ترین معاملے کی وجہ ان کے یہی قصور تھے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 66 (223)، الجہاد 152 (3018)، صحیح مسلم/القسامة 2 (1671)، الطب 6 (2042)، سنن النسائی/الطہارة 191 (306)، المحاربة 7 (4029)، (تحفة الأشراف: 945)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 55 (72)، الأطعمة 38 (1845)، مسند احمد (3 / 07 1، 177، 198، 205، 287) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (233) صحيح مسلم (1671)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4365
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ: فَأَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَكَحَلَهُمْ وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَمَا حَسَمَهُمْ.
اس سند سے بھی ایوب سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلائیوں کو گرم کرنے کا حکم دیا تو وہ گرم کی گئیں، پھر انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں پھیر دیں، ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ ڈالے، اور ان کو یکبارگی ہی نہیں مار ڈالا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4365]
جناب ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلاخوں کا حکم دیا، انہیں گرم کیا گیا اور پھر ان کی آنکھوں میں پھیر دیا اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے اور انہیں داغ نہ دیا (کہ خون ہی بند ہو جائے اور انہیں یکدم قتل نہ کیا گیا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 945) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4364)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً فَأُتِيَ بِهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ذَلِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب میں کچھ مخبر بھیجے تو انہیں پکڑ کر لایا گیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں آیت کریمہ «إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا» جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں (سورۃ المائدہ: ۳۳) اتاری۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4366]
جناب ابوقلابہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب میں مخبروں (کھوجیوں) کو بھیجا تو انہیں لے آیا گیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلے میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا﴾ [سورة المائدة: 33] جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد پھیلائیں (ان کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا سولی چڑھا دیے جائیں یا الٹی اطراف سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔) [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4364)، (تحفة الأشراف: 945) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4364)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4367
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمْ يَكْدِمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ عَطَشًا حَتَّى مَاتُوا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں انس کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین کو اپنے منہ سے کاٹتا تھا یہاں تک کہ وہ سب (پیاس سے تڑپ تڑپ کر) مر گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4367]
جناب ثابت، قتادہ اور حمید نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی، کہا: الٹی طرف سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے۔ (حدیث کے) شروع میں کہا: وہ اونٹوں کو ہانک لے گئے اور اسلام سے مرتد ہو گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا کہ وہ پیاس کے مارے اپنے منہ سے زمین کو کاٹ رہا تھا حتیٰ کہ وہ (اسی حالت میں) مر گئے۔۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/ الطہارة 55 (72)، سنن النسائی/ المحاربة 7 (4039) (تحفة الأشراف: 317، 1156) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (72 وسنده حسن) والنسائي (4039 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4368
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ زَادَ ثُمَّ نَهَى، عَنِ الْمُثْلَةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ خِلَافٍ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَسَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ ثَابِتٍ جَمِيعًا، عَنْ أَنَسٍ لَمْ يَذْكُرَا مِنْ خِلَافٍ وَلَمْ أَجِدْ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ قَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ إِلَّا فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے پھر آپ نے مثلہ سے منع فرما دیا اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر۔ شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4368]
قتادہ رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مذکورہ بالا کی مانند روایت کی اور مزید کہا: پھر مثلہ سے منع کر دیا گیا۔ اور اس روایت میں الٹی اطراف کا ذکر نہیں کیا۔ شعبہ رحمہ اللہ نے بواسطہ قتادہ اور سلام بن مسکین رحمہ اللہ نے ثابت رحمہ اللہ سے اور انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ ان دونوں نے بھی الٹی اطراف کا ذکر نہیں کیا۔ اور حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کی روایت کے علاوہ مجھے کسی کی حدیث میں یہ نہیں ملا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں الٹی اطراف سے کاٹے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (4364)، (تحفة الأشراف: 1385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/177) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1501، 5685)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4369
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبِدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ،قَالَ أَحْمَدُ هُوَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ نَاسًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَاقُوهَا وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، قَالَ: وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ، وَهُمُ الَّذِينَ أَخْبَرَ عَنْهُمْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْحَجَّاجَ حِينَ سَأَلَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ کر انہیں ہنکا لے گئے، اسلام سے مرتد ہو گئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن چرواہے کو قتل کر دیا، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ پکڑے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی، اور انہیں لوگوں کے متعلق انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کو خبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4369]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر ڈاکہ ڈالا اور انہیں ہانک لے گئے، اسلام سے مرتد ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کیا جو صاحبِ ایمان تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تعاقب کروایا اور انہیں پکڑ لیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیریں، کہا کہ ان ہی لوگوں کے معاملے میں آیتِ محاربہ ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [سورة المائدة: 33] اتری اور یہی وہ لوگ تھے جن کے بارے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے حجاج بن یوسف کو بتایا تھا جب کہ اس نے ان سے یہ پوچھا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المحاربة 7 (4046)، (تحفة الأشراف: 7275، 18898) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (4046)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4370
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَطَّعَ الَّذِينَ سَرَقُوا لِقَاحَهُ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ بِالنَّارِ عَاتَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ".
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان لوگوں کے (ہاتھ پاؤں) کاٹے جنہوں نے آپ کے اونٹ چرائے تھے اور ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائیاں پھیریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس سلسلہ میں عتاب فرمایا: اور آیت محاربہ «إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا» جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی پر چڑھا دئیے جائیں (سورۃ المائدہ: ۳۳) اخیر تک نازل فرمائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4370]
جناب ابو الزناد سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنیاں چوری کرنے والوں کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر عتاب فرمایا اور یہ آیت نازل کی ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا...﴾ [سورة المائدة: 33] [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4370]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المحاربة 7 (4047)، (تحفة الأشراف: 7275، 18898) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4047)
السند مرسل وابن عجلان عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4371
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ يَعْنِي حَدِيثَ أَنَسٍ.
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ یہ حدود کے نازل کئے جانے سے پہلے کی ہے یعنی انس رضی اللہ عنہ کی روایت۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4371]
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ عمل احکامِ حدود نازل ہونے سے پہلے کا ہے، یعنی جو حدیثِ انس میں مذکور ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الطب 6 (5686)، (تحفة الأشراف: 19291) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5686)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4372
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة المائدة آية 33 ـ 34 نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُشْرِكِينَ، فَمَنْ تَابَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ الَّذِي أَصَابَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا أو تقطع أيديهم وأرجلهم من خلاف أو ينفوا من الأرض» سے «غفور رحيم» تک مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کر لے تو ایسا نہ ہو گا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہو جائے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4372]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ- إِلَى قَوْلِهِ- غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة المائدة: 33-34] ان لوگوں کی سزا جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں، یا سولی چڑھا دیے جائیں یا الٹے طور سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیاوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لیے بڑا بھاری عذاب ہے۔ ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر اختیار پا لو تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم والا ہے۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ تو جو ان میں سے قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کر لے یہ آیت اس کے حق میں اس بات کی مانع نہیں ہے کہ جو جرم اس نے کیا ہے اس کی سزا اس پر لاگو نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المحاربة 7 (4051)، (تحفة الأشراف: 6251) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سنن نسائی میں یہاں عبارت اس طرح ہے: «فمن تاب منهم قبل أن يقدر عليه لم يكن عليه سبيل، وليست هذه الآية للرجل المسلم، فمن قتل وأفسد في الأرض وحارب الله ورسوله ثم لحق بالكفار قبل أن يقدر عليه لم يمنعه ذلك أن يقام فيه الحد الذي أصابه» ۔
۲؎: یہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب ہے، جمہور علماء کی رائے اس کے خلاف ہے، نیز اس کے راوی علی بن حسین کے بارے میں کلام ہے، ان کا حافظہ کمزور تھا اس لئے انہیں وہم ہو جاتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4051 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں