سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا
باب: دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4399
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أُتِيَ عُمَرُ بِمَجْنُونَةٍ قَدْ زَنَتْ فَاسْتَشَارَ فِيهَا أُنَاسًا فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ، مُرَّ بِهَا عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قَالُوا: مَجْنُونَةُ بَنِي فُلَانٍ زَنَتْ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ، قَالَ: فَقَالَ ارْجِعُوا بِهَا ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا بَالُ هَذِهِ؟ تُرْجَمُ، قَالَ: لَا شَيْءَ قَالَ: فَأَرْسِلْهَا قَالَ: فَأَرْسَلَهَا قَالَ: فَجَعَلَ يُكَبِّرُ"
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا، تو اسے لے کر لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے واپس لے چلو، پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، کہا: کیوں نہیں؟ ضرور معلوم ہے، تو بولے: پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے؟ بولے: کوئی بات نہیں، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر اسے چھوڑیئے، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اور لگے اللہ اکبر کہنے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4399]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کیا تھا۔ تو انہوں نے اس کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور پھر حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دیا جائے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس عورت کے پاس سے گزرے، انہوں نے پوچھا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے کہا کہ یہ بنو فلاں کی پاگل عورت ہے اور اس نے زنا کیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے۔ تو انہوں نے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: ”اسے واپس لے جاؤ“ اور خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں چلے آئے اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! کیا آپ نہیں جانتے کہ تین طرح کے آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: پاگل مجنون حتیٰ کہ صحت مند ہو جائے، سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ جاگ جائے اور بچے سے حتیٰ کہ عقلمند (بالغ) ہو جائے۔“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ کہا: ”تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس مجنون عورت کو رجم کیا جانے لگا ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”(اب تو) اس پر کچھ نہیں ہو گا۔“ کہا کہ: ”پھر اسے چھوڑ دیں۔“ چنانچہ انہوں نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اور راوی نے کہا کہ پھر وہ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے“ کہنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10196)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الحدود 1 (عقیب 1423)، مسند احمد (1/155، 158) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کہ اللہ نے انہیں اس غلطی سے بچا لیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن والموقوف عند ابن الجعد (مسند علي بن الجعد : 741) عن علي رضي اللّٰه عنه قال لعمر رضي اللّٰه عنه : ’’ أما بلغك أن القلم قد و ضع عن ثلاثة : عن المجنون حتي يفيق و عن الصبي حتي يعقل و عن النائم حتي يستيقظ ‘‘ وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن والموقوف عند ابن الجعد (مسند علي بن الجعد : 741) عن علي رضي اللّٰه عنه قال لعمر رضي اللّٰه عنه : ’’ أما بلغك أن القلم قد و ضع عن ثلاثة : عن المجنون حتي يفيق و عن الصبي حتي يعقل و عن النائم حتي يستيقظ ‘‘ وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4399 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4399
فوائد ومسائل:
1) ارشاد باری تعالی ہے: (وفوقَ كُلِّ ذِي علمٍ عليمٌ) (يوسف:٧٦) ہرعلم والے سے بڑھ کرعلم والےہوتےہیں۔
یہ حقیقت صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ میں بھی تھی۔
اور کوئی بھی صحابی انفرادی طور پرسارے علم شریعت اور علم نبوت کا جامعہ اور محیط نہ تھا، البتہ مجموعی طور پرعلم شریعت پورے کا پورا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں موجود اور منشرتھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دواوین سنت میں جمع کیا جاتا رہا۔
اور پھر یہی حال اجتہاد کا ہے کہ تمام صحابہ یا ان کے بعد ائمہ اکرام یا قاضی حضرات اس وصف میں برابر نہیں تھے، اس لئے کسی بھی صاحب دین کے لئے روا نہیں کہ ائمہ اربعہ یا دیگر علماء امت کے متعلق یہ گمان رکھے کہ بس وہی شریعت کے کامل ترین عالم تھے یا انہی کا فتوی اور قول دین میں حرف آخر ہے۔
اصحاب علم پر واجب ہے کہ غیر منصوص مسائل میں حسب صلا حیت مختلف ائمہ اور علماء کے فتوے اور قول جاننے کی کوشش کریں تاکہ صاحب بصیرت ہو کر فتوے دیں اور فیصلہ کریں۔
(2) اصحاب علم پر واجب ہے کہ دیگر حکام علماء یا قاضیوں سے اگر کوئی غلطی ہو رہی ہو تو انہیں آگاہ کریں اور دلائل سے قائل کریں۔
اسی طرح صاحب منصب کو بھی چاہیے کہے کہ حق کے قبول میں دریغ نہ کرے۔
(3) مجنون پاگل یا چھوٹا نابالغ بچہ کوئی جرم کرے یا سوتے میں کوئی جرم ہوجائے تو اس پر شرعی حد نہیں۔
1) ارشاد باری تعالی ہے: (وفوقَ كُلِّ ذِي علمٍ عليمٌ) (يوسف:٧٦) ہرعلم والے سے بڑھ کرعلم والےہوتےہیں۔
یہ حقیقت صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ میں بھی تھی۔
اور کوئی بھی صحابی انفرادی طور پرسارے علم شریعت اور علم نبوت کا جامعہ اور محیط نہ تھا، البتہ مجموعی طور پرعلم شریعت پورے کا پورا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں موجود اور منشرتھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دواوین سنت میں جمع کیا جاتا رہا۔
اور پھر یہی حال اجتہاد کا ہے کہ تمام صحابہ یا ان کے بعد ائمہ اکرام یا قاضی حضرات اس وصف میں برابر نہیں تھے، اس لئے کسی بھی صاحب دین کے لئے روا نہیں کہ ائمہ اربعہ یا دیگر علماء امت کے متعلق یہ گمان رکھے کہ بس وہی شریعت کے کامل ترین عالم تھے یا انہی کا فتوی اور قول دین میں حرف آخر ہے۔
اصحاب علم پر واجب ہے کہ غیر منصوص مسائل میں حسب صلا حیت مختلف ائمہ اور علماء کے فتوے اور قول جاننے کی کوشش کریں تاکہ صاحب بصیرت ہو کر فتوے دیں اور فیصلہ کریں۔
(2) اصحاب علم پر واجب ہے کہ دیگر حکام علماء یا قاضیوں سے اگر کوئی غلطی ہو رہی ہو تو انہیں آگاہ کریں اور دلائل سے قائل کریں۔
اسی طرح صاحب منصب کو بھی چاہیے کہے کہ حق کے قبول میں دریغ نہ کرے۔
(3) مجنون پاگل یا چھوٹا نابالغ بچہ کوئی جرم کرے یا سوتے میں کوئی جرم ہوجائے تو اس پر شرعی حد نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4399]
Sunan Abi Dawud Hadith 4399 in Urdu
الحصين بن جندب المذحجي ← عبد الله بن العباس القرشي