یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب في السارق تعلق يده في عنقه
باب: چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4411
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْنَا فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي الْعُنُقِ لِلسَّارِقِ أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ؟ قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ".
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4411]
عبدالرحمن بن محیریز سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ: ”کیا چور کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دینا سنت ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کے متعلق حکم دیا تو اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحدود 17 (1447)، سنن النسائی/قطع السارق 15 (4985)، سنن ابن ماجہ/الحدود 23 (2587)، (تحفة الأشراف: 11029)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/19) (ضعیف)» (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور عبدالرحمن بن محیریز مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1447) نسائي (4985) ابن ماجه (2587)
حجاج بن أرطاة مدلس و عنعن وقال النسائي : ’’ الحجاج بن أرطاة ضعيف ولا يحتج به‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
إسناده ضعيف
ترمذي (1447) نسائي (4985) ابن ماجه (2587)
حجاج بن أرطاة مدلس و عنعن وقال النسائي : ’’ الحجاج بن أرطاة ضعيف ولا يحتج به‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥فضالة بن عبيد الأنصاري، أبو محمد | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن محيريز الجمحي عبد الرحمن بن محيريز الجمحي ← فضالة بن عبيد الأنصاري | له رؤية | |
👤←👥مكحول بن أبي مسلم الشامي، أبو مسلم، أبو عبد الله، أبو أيوب مكحول بن أبي مسلم الشامي ← عبد الرحمن بن محيريز الجمحي | ثقة فقيه كثير الإرسال | |
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة الحجاج بن أرطاة النخعي ← مكحول بن أبي مسلم الشامي | صدوق كثير الخطأ والتدليس | |
👤←👥عمر بن علي المقدمي، أبو حفص، أبو جعفر عمر بن علي المقدمي ← الحجاج بن أرطاة النخعي | ثقة وكان يدلس كثيرا | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← عمر بن علي المقدمي | ثقة ثبت |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4411 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4411
فوائد ومسائل:
بعض فقہاء عبرت کے لئے اس عمل کے قائل ہیں، جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
(نيل الأوطار:153/4)
بعض فقہاء عبرت کے لئے اس عمل کے قائل ہیں، جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
(نيل الأوطار:153/4)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4411]
Sunan Abi Dawud Hadith 4411 in Urdu
عبد الرحمن بن محيريز الجمحي ← فضالة بن عبيد الأنصاري