🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب في السارق تعلق يده في عنقه
باب: چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4411
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْنَا فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي الْعُنُقِ لِلسَّارِقِ أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ؟ قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ".
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4411]
عبدالرحمن بن محیریز سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ: کیا چور کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دینا سنت ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کے متعلق حکم دیا تو اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحدود 17 (1447)، سنن النسائی/قطع السارق 15 (4985)، سنن ابن ماجہ/الحدود 23 (2587)، (تحفة الأشراف: 11029)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/19) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور عبدالرحمن بن محیریز مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1447) نسائي (4985) ابن ماجه (2587)
حجاج بن أرطاة مدلس و عنعن وقال النسائي : ’’ الحجاج بن أرطاة ضعيف ولا يحتج به‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فضالة بن عبيد الأنصاري، أبو محمدصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن محيريز الجمحي
Newعبد الرحمن بن محيريز الجمحي ← فضالة بن عبيد الأنصاري
له رؤية
👤←👥مكحول بن أبي مسلم الشامي، أبو مسلم، أبو عبد الله، أبو أيوب
Newمكحول بن أبي مسلم الشامي ← عبد الرحمن بن محيريز الجمحي
ثقة فقيه كثير الإرسال
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة
Newالحجاج بن أرطاة النخعي ← مكحول بن أبي مسلم الشامي
صدوق كثير الخطأ والتدليس
👤←👥عمر بن علي المقدمي، أبو حفص، أبو جعفر
Newعمر بن علي المقدمي ← الحجاج بن أرطاة النخعي
ثقة وكان يدلس كثيرا
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عمر بن علي المقدمي
ثقة ثبت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4411 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4411
فوائد ومسائل:
بعض فقہاء عبرت کے لئے اس عمل کے قائل ہیں، جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
(نيل الأوطار:153/4)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4411]

Sunan Abi Dawud Hadith 4411 in Urdu