یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب في السارق يسرق مرارا
باب: باربار چوری کرنے والے کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4410
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ الْهِلَالِيُّ، حَدَّثَنَا جَدِّي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: اقْطَعُوهُ، قَالَ: فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: اقْطَعُوهُ، قَالَ: فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ فَقَالَ: اقْطَعُوهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: اقْطَعُوهُ فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ فَقَتَلْنَاهُ ثُمَّ اجْتَرَرْنَاهُ فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ وَرَمَيْنَا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“ تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر اسی شخص کو دوسری بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“ لوگوں نے پھر یہی کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اس کا ہاتھ کاٹ دو“ تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر وہی شخص تیسری بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی تو کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اس کا ایک پیر کاٹ دو“ پھر اسے پانچویں بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم اسے لے گئے اور ہم نے اسے قتل کر دیا، اور گھسیٹ کر اسے ایک کنویں میں ڈال دیا، اور اس پر پتھر مارے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4410]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (ہاتھ) کاٹ دو۔“ چنانچہ اس کا (ہاتھ) کاٹ دیا گیا۔ پھر اسے دوبارہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (بایاں پاؤں) کاٹ دو۔“ چنانچہ کاٹ دیا گیا۔ پھر اسے تیسری بار لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (بایاں ہاتھ) کاٹ دو۔“ پھر چوتھی بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (دایاں پاؤں) کاٹ دو۔“ پھر اسے پانچویں بار لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر ڈالا، پھر اسے گھسیٹ کر ایک کنویں میں ڈال دیا اور اوپر سے پتھر مارے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 12 (4981)، (تحفة الأشراف: 3082) (ضعیف)» (اس کی سند میں مصعب کی نسائی نے تضعیف کی ہے، اور حدیث کو منکر کہا ہے، ابن حجر کہتے ہیں کہ اس بارے میں مجھے کسی سے صحیح حدیث کا علم نہیں ہے، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر: 2088، شیخ البانی نے اس کو حسن کہا ہے: صحیح ابی داود 3؍ 58)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3603)
مصعب بن ثابت: حسن الحديث، وله شاھد عند النسائي (4980 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (3603)
مصعب بن ثابت: حسن الحديث، وله شاھد عند النسائي (4980 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4410
| اقتلوه فقالوا يا رسول الله إنما سرق فقال اقطعوه قال فقطع ثم جيء به الثانية فقال اقتلوه فقالوا يا رسول الله إنما سرق فقال اقطعوه قال فقطع ثم جيء به الثالثة فقال اقتلوه فقالوا يا رسول الله إنما سرق فقال اقطعوه ثم أتي به الرابعة |
سنن النسائى الصغرى |
4981
| جيء بسارق إلى رسول الله فقال اقتلوه فقالوا يا رسول الله إنما سرق قال اقطعوه فقطع ثم جيء به الثانية فقال اقتلوه فقالوا يا رسول الله إنما سرق قال اقطعوه فقطع فأتي به الثالثة فقال اقتلوه قالوا يا رسول الله إنما سرق |
بلوغ المرام |
1063
| «اقتلوه» فقالوا: يا رسول الله إنما سرق؟ قال: «اقطعوه» فقطع ثم جيء به الثانية فقال: «اقتلوه» |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4410 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4410
فوائد ومسائل:
اس سزا کی توجیہ یہ ہے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حقیقت سے مطلع کردیا گیا تھا، اسی لیے آپ شروع ہی سے اس کوقتل کرنے کا کہتے رہے کہ یہ زمین میں فساد پھیلانے والا ہے اور ایسے آدمیوں کی یہی سزا ہوتی ہے۔
اس سزا کی توجیہ یہ ہے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حقیقت سے مطلع کردیا گیا تھا، اسی لیے آپ شروع ہی سے اس کوقتل کرنے کا کہتے رہے کہ یہ زمین میں فساد پھیلانے والا ہے اور ایسے آدمیوں کی یہی سزا ہوتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4410]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1063
چوری کی حد کا بیان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے قتل کر دو۔ “ لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تو پھر اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ “ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر دوبارہ اسے پیش کیا گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے مار ڈالو۔ “ پھر اسی طرح ذکر کیا گیا۔ پھر اس کو تیسری بار لایا گیا تو پھر اسی طرح ذکر کیا۔ پھر چوتھی مرتبہ گرفتار کر کے پیش کیا گیا تو اسی طرح ذکر کیا۔ پھر پانچویں مرتبہ گرفتار کے کے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے قتل کر دو۔ “ اس کو ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اسے منکر قرار دیا ہے اور نسائی نے حارث بن حاطب کی حدیث سے اسی طرح اور شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ پانچویں مرتبہ مار ڈالنا منسوخ ہے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 1063»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے قتل کر دو۔ “ لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تو پھر اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ “ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر دوبارہ اسے پیش کیا گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے مار ڈالو۔ “ پھر اسی طرح ذکر کیا گیا۔ پھر اس کو تیسری بار لایا گیا تو پھر اسی طرح ذکر کیا۔ پھر چوتھی مرتبہ گرفتار کر کے پیش کیا گیا تو اسی طرح ذکر کیا۔ پھر پانچویں مرتبہ گرفتار کے کے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے قتل کر دو۔ “ اس کو ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اسے منکر قرار دیا ہے اور نسائی نے حارث بن حاطب کی حدیث سے اسی طرح اور شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ پانچویں مرتبہ مار ڈالنا منسوخ ہے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 1063»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الحدود، باب في السارق يسرق مرارًا، حديث:4410، والنسائي، قطع السارق، حديث:4981، وحديث الحارث بن حاطب: أخرجه النسائي، قطع السارق، حديث:4980، وسنده صحيح.» تشریح:
علمائے کرام اس سزا کی (یہ) توجیہ بیان کرتے ہیں کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حقیقت سے مطلع کر دیا گیا تھا اسی لیے آپ شروع ہی سے اسے قتل کرنے کا کہتے رہے کہ یہ زمین میں فساد پھیلانے والا ہے اور ایسے آدمیوں کی یہی سزا ہوتی ہے۔
قرآن مقدس میں ارشاد باری ہے: ﴿ اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّـلُوْآ اَوْ یُصَلَّبُوْآ اَوْتُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلاَفٍ أَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ﴾ (المآئدۃ۵:۳۳) ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انھیں جلا وطن کر دیا جائے۔
“ اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی قاضی یا حاکم دو تین چوریوں پر اس قدر شدید حکم نہیں لگا سکتا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا معجزہ تھا کہ آپ نے ابتدا ہی سے اس کی سرشت اور عاقبت کے بارے میں خبر دے دی۔
واللّٰہ أعلم۔
راویٔ حدیث:
«حضرت حارث بن حاطب جمحی قرشی رحمہ اللہ» حبشہ میں پیدا ہوئے۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف سے مکہ میں ۶۶ ہجری میں والی مقرر ہوئے اور چھ سال ان کی امارت کے تحت کام کیا۔
مروان کی امارت مدینہ کے دوران میں ان کے ساتھ بھی کافی تعاون کیا۔
«أخرجه أبوداود، الحدود، باب في السارق يسرق مرارًا، حديث:4410، والنسائي، قطع السارق، حديث:4981، وحديث الحارث بن حاطب: أخرجه النسائي، قطع السارق، حديث:4980، وسنده صحيح.»
علمائے کرام اس سزا کی (یہ) توجیہ بیان کرتے ہیں کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حقیقت سے مطلع کر دیا گیا تھا اسی لیے آپ شروع ہی سے اسے قتل کرنے کا کہتے رہے کہ یہ زمین میں فساد پھیلانے والا ہے اور ایسے آدمیوں کی یہی سزا ہوتی ہے۔
قرآن مقدس میں ارشاد باری ہے: ﴿ اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّـلُوْآ اَوْ یُصَلَّبُوْآ اَوْتُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلاَفٍ أَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ﴾ (المآئدۃ۵:۳۳) ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انھیں جلا وطن کر دیا جائے۔
“ اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی قاضی یا حاکم دو تین چوریوں پر اس قدر شدید حکم نہیں لگا سکتا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا معجزہ تھا کہ آپ نے ابتدا ہی سے اس کی سرشت اور عاقبت کے بارے میں خبر دے دی۔
واللّٰہ أعلم۔
«حضرت حارث بن حاطب جمحی قرشی رحمہ اللہ» حبشہ میں پیدا ہوئے۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف سے مکہ میں ۶۶ ہجری میں والی مقرر ہوئے اور چھ سال ان کی امارت کے تحت کام کیا۔
مروان کی امارت مدینہ کے دوران میں ان کے ساتھ بھی کافی تعاون کیا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1063]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4981
چور کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹنے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اس نے صرف چوری کی ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”(اس کا دایاں ہاتھ) کاٹ دو“، تو کاٹ دیا گیا، پھر وہ دوسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دو“، چنانچہ کاٹ دیا گیا، پھر وہ ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4981]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اس نے صرف چوری کی ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”(اس کا دایاں ہاتھ) کاٹ دو“، تو کاٹ دیا گیا، پھر وہ دوسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دو“، چنانچہ کاٹ دیا گیا، پھر وہ ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4981]
اردو حاشہ:
(1) ”یہ حدیث منکر ہے“ یعنی اس کا روای ضعیف ہونےکےباوجود ثقہ راویوں کی مخالفت کرتا ہے۔
(2) ”ہاتھوں اور پاؤں پر“ یعنی جانوروں کی طرح۔
(3) محقق کتاب اور شیخ البانی رحمہ اللہ نےمذکورہ روایت کو دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
(1) ”یہ حدیث منکر ہے“ یعنی اس کا روای ضعیف ہونےکےباوجود ثقہ راویوں کی مخالفت کرتا ہے۔
(2) ”ہاتھوں اور پاؤں پر“ یعنی جانوروں کی طرح۔
(3) محقق کتاب اور شیخ البانی رحمہ اللہ نےمذکورہ روایت کو دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4981]
Sunan Abi Dawud Hadith 4410 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري