یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب في الرجم
باب: شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4417
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَهْبِيَّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِت، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ نَاسٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: يَا أَبَا ثَابِتٍ قَدْ نَزَلَتِ الْحُدُودُ لَوْ أَنَّكَ وَجَدْتَ مَعَ امْرَأَتِكَ رَجُلًا كَيْفَ كُنْتَ صَانِعًا؟ قَالَ: كُنْتُ ضَارِبَهُمَا بِالسَّيْفِ حَتَّى يَسْكُتَا أَفَأَنَا أَذْهَبُ فَأَجْمَعُ أَرْبَعَةَ شُهَدَاءٍ فَإِلَى ذَلِكَ قَدْ قَضَى الْحَاجَةَ فَانْطَلَقُوا فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى أَبِي ثَابِتٍ؟ قَالَ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِالسَّيْفِ شَاهِدًا، ثُمَّ قَالَ: لَا لَا أَخَافُ أَنْ يَتَتَابَعَ فِيهَا السَّكْرَانُ وَالْغَيْرَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى وَكِيعٌ أَوَّلَ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا هَذَا إِسْنَادُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُحَبَّقِ: أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ لَيْسَ بِالْحَافِظِ كَانَ قَصَّابًا بِوَاسِطَ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ کچھ لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: اے ابوثابت! حدود نازل ہو چکے ہیں اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو کیا کریں، انہوں نے کہا: ان دونوں کا کام تلوار سے تمام کر دوں گا، کیا میں چار گواہ جمع کرنے جاؤں گا تب تک تو وہ اپنا کام پورا کر چکے گا، چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور ان لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوثابت کو نہیں سنا وہ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ازروئے گواہ تلوار ہی کافی ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں، اسے قتل مت کرنا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ غصہ ور، اور غیرت مند پیچھے پڑ کر (بغیر اس کی تحقیق کئے کہ اس سے زنا سرزد ہوا ہے یا نہیں محض گمان ہی پر) اسے قتل نہ کر ڈالیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے، فضل نے حسن سے، حسن نے قبیصہ بن حریث سے، قبیصہ نے سلمہ بن محبق سے سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، یہ سند جس کا ذکر وکیع نے کیا ہے ابن محبق والی روایت کی سند ہے جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مجامعت کر لی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فضل بن دلہم حافظ حدیث نہیں تھے، وہ واسط میں ایک قصاب تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4417]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: ”اے ابوثابت! حدود نازل ہوئی ہیں، اگر تم اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاؤ تو کیا کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ”میں تلوار سے ان دونوں کا کام تمام کر دوں گا حتیٰ کہ دونوں ٹھنڈے ہو جائیں۔ کیا بھلا میں چار گواہ ڈھونڈنے جاؤں گا؟ تب تک وہ اپنا کام کر جائیں گے (بدکاری کر کے بھاگ جائے گا)۔“ چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوثابت کو دیکھا کہ ایسے ایسے کہتا ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ایسے موقع پر) تلوار کی گواہی کافی ہے۔“ پھر فرمایا: ”نہیں، نہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی (ویسے ہی) بحالت نشہ یا بوجہ غیرت اس کے درپے نہ ہو جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے، انہوں نے جناب حسن سے، انہوں نے قبیصہ بن حریث سے، انہوں نے سلمہ بن محبق سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ حالانکہ یہ سند ابن محبق کی اس روایت کی ہے جس میں ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر بیٹھا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فضل بن دلہم حافظ نہیں ہے۔ یہ واسط میں قصاب تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5088)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/476) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2606)
الفضل بن دلھم : لين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2606)
الفضل بن دلھم : لين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4417 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4417
فوائد ومسائل:
یہ حدیث اپنے مفہوم میں صیح احادیث کے خلاف ہے۔
صحیح احادیث کی رو سے شادی شدہ زانی کی سزا بہر صورت (رجم) پتھروں سے مارنا ہے نہ کہ تلوارسے اور گواہوں کے عین صریح گواہی کے بغیرایسا نہیں کیا جا سکتا اور یہ کام بھی قاضی اور عدالت کے ذمے ہے۔
یہ حدیث اپنے مفہوم میں صیح احادیث کے خلاف ہے۔
صحیح احادیث کی رو سے شادی شدہ زانی کی سزا بہر صورت (رجم) پتھروں سے مارنا ہے نہ کہ تلوارسے اور گواہوں کے عین صریح گواہی کے بغیرایسا نہیں کیا جا سکتا اور یہ کام بھی قاضی اور عدالت کے ذمے ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4417]
Sunan Abi Dawud Hadith 4417 in Urdu
قبيصة بن حريث الأنصاري ← سلمة بن المحبق الهذلي