🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. باب فِي الرَّجْمِ
باب: شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4413
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا سورة النساء آية 15، وَذَكَرَ الرَّجُلَ بَعْدَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ جَمَعَهُمَا، فَقَالَ: وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا سورة النساء آية 16، فَنَسَحَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْجَلْدِ، فَقَالَ: الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ سورة النور آية 2".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے (سورۃ النساء: ۱۵) اور مرد کا ذکر عورت کے بعد کیا، پھر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا فرمایا: «واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما» تم میں دونوں جو ایسا کر لیں انہیں ایذا دو اور اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو (سورۃ النساء: ۱۶)، پھر یہ «جَلْد»  والی آیت «الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة» زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے مارو (سورۃ النور: ۲) منسوخ کر دی گئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4413]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ ﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 15] تمہاری عورتوں میں سے جو کوئی بدکاری (زنا) کا ارتکاب کریں تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔ کے سلسلے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آیت کریمہ میں مرد کا بیان عورت کے بعد ہے۔ پھر ان دونوں (مرد اور عورت) کو جمع کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا﴾ [سورة النساء: 16] اور تم میں سے جو یہ کام کریں تو انہیں ایذا دو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ پھر یہ حکم (سورۃ النور کی) اس آیت سے منسوخ کر دیا گیا جس میں سو کوڑے مارنے کا بیان ہے: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ [سورة النور: 2] زانی عورت اور زانی مرد ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6267) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4414
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنْ شِبْلٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجِاهِدٍ، قَالَ: السَّبِيلُ الْحَدُّ، قَالَ سُفْيَانُ فَآذُوهُمَا سورة النساء آية 16 الْبِكْرَانِ،فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ سورة النساء آية 15 الثَّيِّبَاتُ.
مجاہد کہتے ہیں کہ «سبیل» سے مراد حد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: «فآذوهما» سے مراد کنوارا مرد اور کنواری عورت ہے، اور «فأمسكوهن في البيوت» سے مراد غیر کنواری عورتیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4414]
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ نے جناب مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ «سَبِيل» (راستے) سے مراد حد کا نازل کرنا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ﴿وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا﴾ [سورة النساء: 16] ان دونوں کو سزا دو سے مراد غیر شادی شدہ مرد و عورت ہیں، اور ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ﴾ [سورة النساء: 15] ان کو گھر میں روکے رکھو سے مراد شادی شدہ عورتیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19267) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن أبي نجيح عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4415
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حَطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَرَمْيٌ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سیکھ لو، مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راہ نکال دی ہے غیر کنوارہ مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور رجم ہے اور کنوارا مرد کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے۔   [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4415]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے لے لو، مجھ سے لے لو، تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے راہ نکال دی ہے، اگر شادی شدہ، شادی شدہ کے ساتھ (ملوث ہو اور بدکاری) کرے تو سو کوڑے ہیں اور پتھر مارنا ہے، اور کنوارا کنواری کے ساتھ کرے تو سو کوڑے ہیں اور ایک سال کے لیے شہر بدری ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 3 (1690)، سنن الترمذی/الحدود 8 (1434)، سنن ابن ماجہ/الحدود 7 (2550)، (تحفة الأشراف: 5083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/475، 5/313، 317، 318، 320)، سنن الدارمی/الحدود 19 (2372) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1690)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4416
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَسَنِ، بِإِسْنَادِ يَحْيَى، وَمَعْنَاهُ قَالَ: جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ.
اس طریق سے بھی حسن سے یحییٰ والی سند ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے (جب غیر کنوارا مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو) سو کوڑے اور رجم ہے۔   [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4416]
جناب حسن بصری رحمہ اللہ نے بسندِ یحییٰ اس روایت کے ہم معنی بیان کرتے ہوئے کہا: سو کوڑے ہیں (غیر شادی شدہ کو) اور رجم کرنا ہے (شادی شدہ کو)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5083) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1690)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4417
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَهْبِيَّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِت، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ نَاسٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: يَا أَبَا ثَابِتٍ قَدْ نَزَلَتِ الْحُدُودُ لَوْ أَنَّكَ وَجَدْتَ مَعَ امْرَأَتِكَ رَجُلًا كَيْفَ كُنْتَ صَانِعًا؟ قَالَ: كُنْتُ ضَارِبَهُمَا بِالسَّيْفِ حَتَّى يَسْكُتَا أَفَأَنَا أَذْهَبُ فَأَجْمَعُ أَرْبَعَةَ شُهَدَاءٍ فَإِلَى ذَلِكَ قَدْ قَضَى الْحَاجَةَ فَانْطَلَقُوا فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى أَبِي ثَابِتٍ؟ قَالَ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِالسَّيْفِ شَاهِدًا، ثُمَّ قَالَ: لَا لَا أَخَافُ أَنْ يَتَتَابَعَ فِيهَا السَّكْرَانُ وَالْغَيْرَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى وَكِيعٌ أَوَّلَ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا هَذَا إِسْنَادُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُحَبَّقِ: أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ لَيْسَ بِالْحَافِظِ كَانَ قَصَّابًا بِوَاسِطَ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ کچھ لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: اے ابوثابت! حدود نازل ہو چکے ہیں اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو کیا کریں، انہوں نے کہا: ان دونوں کا کام تلوار سے تمام کر دوں گا، کیا میں چار گواہ جمع کرنے جاؤں گا تب تک تو وہ اپنا کام پورا کر چکے گا، چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور ان لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوثابت کو نہیں سنا وہ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ازروئے گواہ تلوار ہی کافی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، اسے قتل مت کرنا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ غصہ ور، اور غیرت مند پیچھے پڑ کر (بغیر اس کی تحقیق کئے کہ اس سے زنا سرزد ہوا ہے یا نہیں محض گمان ہی پر) اسے قتل نہ کر ڈالیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے، فضل نے حسن سے، حسن نے قبیصہ بن حریث سے، قبیصہ نے سلمہ بن محبق سے سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، یہ سند جس کا ذکر وکیع نے کیا ہے ابن محبق والی روایت کی سند ہے جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مجامعت کر لی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فضل بن دلہم حافظ حدیث نہیں تھے، وہ واسط میں ایک قصاب تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4417]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: اے ابوثابت! حدود نازل ہوئی ہیں، اگر تم اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاؤ تو کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا: میں تلوار سے ان دونوں کا کام تمام کر دوں گا حتیٰ کہ دونوں ٹھنڈے ہو جائیں۔ کیا بھلا میں چار گواہ ڈھونڈنے جاؤں گا؟ تب تک وہ اپنا کام کر جائیں گے (بدکاری کر کے بھاگ جائے گا)۔ چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوثابت کو دیکھا کہ ایسے ایسے کہتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایسے موقع پر) تلوار کی گواہی کافی ہے۔ پھر فرمایا: نہیں، نہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی (ویسے ہی) بحالت نشہ یا بوجہ غیرت اس کے درپے نہ ہو جائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے، انہوں نے جناب حسن سے، انہوں نے قبیصہ بن حریث سے، انہوں نے سلمہ بن محبق سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ حالانکہ یہ سند ابن محبق کی اس روایت کی ہے جس میں ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر بیٹھا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فضل بن دلہم حافظ نہیں ہے۔ یہ واسط میں قصاب تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5088)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/476) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2606)
الفضل بن دلھم : لين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَر يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا، وَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِهِ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ الزَّمَانُ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ تَعَالَى، فَالرَّجْمُ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا كَانَ مُحْصَنًا إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ حَمْلٌ أَوِ اعْتِرَافٌ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَتَبْتُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اس میں آپ نے کہا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، تو جو آیتیں آپ پر نازل ہوئیں ان میں آیت رجم بھی ہے، ہم نے اسے پڑھا، اور یاد رکھا، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں آیت رجم نہیں پاتے، تو وہ اس فریضہ کو جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے چھوڑ کر گمراہ ہو جائے، لہٰذا مردوں اور عورتوں میں سے جو زنا کرے اسے رجم (سنگسار) کرنا برحق ہے، جب وہ شادی شدہ ہو اور دلیل قائم ہو چکی ہو، یا حمل ہو جائے یا اعتراف کرے، اور قسم اللہ کی اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں زیادتی کی ہے تو میں اسے یعنی آیت رجم کو مصحف میں لکھ دیتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4418]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: تحقیق اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل کی۔ اس نازل کردہ (کتاب) میں رجم کی آیت بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا اور یاد کیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ہے اور ان کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ رجم والی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے ہیں، اس طرح وہ اللہ کے نازل کردہ فریضہ کو ترک کر کے گمراہ نہ ہو جائیں۔ پس جس کسی مرد یا عورت نے زنا کیا ہو اور وہ شادی شدہ ہو اور گواہی ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا اعتراف ہو، تو اس پر رجم حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے تو میں اس آیت کو کتاب اللہ میں درج کر دیتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحدود 30 (6829)، صحیح مسلم/الحدود 4 (1691)، سنن الترمذی/الحدود 7 (1432)، سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2553)، (تحفة الأشراف: 10508)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 1 (8)، مسند احمد (1/23، 24، 40، 47، 55)، سنن الدارمی/الحدود 16 (2368) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6829) صحيح مسلم (1691)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں