یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب في رجم اليهوديين
باب: دو یہودیوں کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4447
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ قَدْ حُمِّمَ وَجْهُهُ وَهُوَ يُطَافُ بِهِ، فَنَاشَدَهُمْ: مَا حَدُّ الزَّانِي فِي كِتَابِهِمْ؟ قَالَ: فَأَحَالُوهُ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَنَشَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَدُّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ؟ فَقَالَ: الرَّجْمُ، وَلَكِنْ ظَهَرَ الزِّنَا فِي أَشْرَافِنَا، فَكَرِهْنَا أَنْ يُتْرَكَ الشَّرِيفُ وَيُقَامُ عَلَى مَنْ دُونَهُ، فَوَضَعْنَا هَذَا عَنَّا، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا مَا أَمَاتُوا مِنْ كِتَابِكَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کو ہاتھ منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ ان کی کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ ان لوگوں نے آپ کو اپنے میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے کے لیے کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ تو اس نے کہا: رجم ہے، لیکن زنا کا جرم ہمارے معزز لوگوں میں عام ہو گیا، تو ہم نے یہ پسند نہیں کیا کہ معزز اور شریف آدمی کو چھوڑ دیا جائے اور جو ایسے نہ ہوں ان پر حد جاری کی جائے، تو ہم نے اس حکم ہی کو اپنے اوپر سے اٹھا لیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کا حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیری کتاب میں سے اس حکم کو زندہ کیا ہے جس پر لوگوں نے عمل چھوڑ دیا تھا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4447]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کو لے کر گزرے، اس کا چہرہ کالا کیا ہوا تھا اور وہ اسے گھما پھرا رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم دے کر ان سے پوچھا: ”تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟“ انہوں نے یہ بات اپنے ایک آدمی کی طرف تحویل کر دی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قسم دے کر پوچھا: ”تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”سنگسار کرنا، لیکن جب ہمارے شرفاء میں زنا کاری عام ہو گئی، تو ہم نے نامناسب جانا کہ شریف (صاحب حیثیت) کو چھوڑ دیا جائے اور گھٹیا (غریب) پر حد قائم کی جائے، سو ہم نے اس کو ترک کر دیا۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ» ”اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جو تیری کتاب کے اس حکم کو زندہ کر رہا ہوں جسے انہوں نے مردہ کر چھوڑا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 6 (1700)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 10 (2327)، الحدود 10 (2558)، (تحفة الأشراف: 1771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/286، 290، 300) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1700)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4440
| هكذا تجدون حد الزاني في كتابكم قالوا نعم فدعا رجلا من علمائهم فقال أنشدك بالله الذي أنزل التوراة على موسى أهكذا تجدون حد الزاني في كتابكم قال لا ولولا أنك نشدتني بهذا لم أخبرك نجده الرجم |
سنن أبي داود |
4448
| اللهم إني أول من أحيا أمرك إذ أماتوه فأمر به فرجم فأنزل الله يأيها الرسول لا يحزنك الذين يسارعون في الكفر إلى قوله يقولون إن أوتيتم هذا فخذوه وإن لم تؤتوه فاحذروا |
سنن أبي داود |
4447
| اللهم إني أول من أحيا ما أماتوا من كتابك |
سنن ابن ماجه |
2558
| هكذا تجدون في كتابكم حد الزاني قالوا نعم فدعا رجلا من علمائهم فقال أنشدك بالله الذي أنزل التوراة على موسى أهكذا تجدون حد الزاني قال لا ولولا أنك نشدتني لم أخبرك نجد حد الزاني في كتابنا الرجم |
سنن ابن ماجه |
2327
| أنشدك بالله الذي أنزل التوراة على موسى |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4447 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4447
فوائد ومسائل:
کسی مردہ سنت کو زندہ کر نا اوراس پرعمل کرنا کرانا بہٹ بڑی عزیمت کا کام ہے اور اس کی فضیلت میں وارد ہے کہ بعد میں اس پر عمل کرنے والے سب لوگوں کے ثواب کے برابر اس پہلے آدمی کو ثواب ملتا ہے۔
کسی مردہ سنت کو زندہ کر نا اوراس پرعمل کرنا کرانا بہٹ بڑی عزیمت کا کام ہے اور اس کی فضیلت میں وارد ہے کہ بعد میں اس پر عمل کرنے والے سب لوگوں کے ثواب کے برابر اس پہلے آدمی کو ثواب ملتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4447]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4448
دو یہودیوں کے رجم کا بیان۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک یہودی گزارا گیا جس کے منہ پر سیاہی ملی گئی تھی، اسے کوڑے مارے گئے تھے تو آپ نے انہیں بلایا اور پوچھا: کیا تورات میں تم زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ نے ان کے علماء میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: ہم تم سے اس اللہ کا جس نے تورات نازل کی ہے واسطہ دے کر پوچھتے ہیں، بتاؤ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ اس نے اللہ کا نام لے کر کہا: نہیں، اور اگر آپ مجھے اتنی بڑی قسم نہ دیتے تو میں آپ کو ہرگز نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4448]
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک یہودی گزارا گیا جس کے منہ پر سیاہی ملی گئی تھی، اسے کوڑے مارے گئے تھے تو آپ نے انہیں بلایا اور پوچھا: کیا تورات میں تم زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ نے ان کے علماء میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: ہم تم سے اس اللہ کا جس نے تورات نازل کی ہے واسطہ دے کر پوچھتے ہیں، بتاؤ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ اس نے اللہ کا نام لے کر کہا: نہیں، اور اگر آپ مجھے اتنی بڑی قسم نہ دیتے تو میں آپ کو ہرگز نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4448]
فوائد ومسائل:
اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق عمل اور فیصلہ نہ کرنا اور صلاحیت ہوتے ہوئے معاشرے میں اس کی تنقید نہ کرنا کفر ہے، ظلم ہے اور فسق ہے۔
اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق عمل اور فیصلہ نہ کرنا اور صلاحیت ہوتے ہوئے معاشرے میں اس کی تنقید نہ کرنا کفر ہے، ظلم ہے اور فسق ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4448]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2558
یہودی مرد اور عورت کے رجم کا بیان۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور جس کو کوڑے لگائے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو بلایا اور پوچھا: ”کیا تم لوگ اپنی کتاب توریت میں زانی کی یہی حد پاتے ہو“؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کو بلایا، اور اس سے پوچھا: ”میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس نے موسیٰ پر توراۃ نازل فرمائی: کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد یہی پاتے ہو“؟ اس نے جواب دیا: نہیں، اور اگر آپ نے مجھے اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2558]
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور جس کو کوڑے لگائے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو بلایا اور پوچھا: ”کیا تم لوگ اپنی کتاب توریت میں زانی کی یہی حد پاتے ہو“؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کو بلایا، اور اس سے پوچھا: ”میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس نے موسیٰ پر توراۃ نازل فرمائی: کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد یہی پاتے ہو“؟ اس نے جواب دیا: نہیں، اور اگر آپ نے مجھے اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2558]
اردو حاشہ:
➊ اللہ کے قوانین کو تبدیل کر کے اپنے بنائے ہوئے قوانین کو اللہ کے قوانین کہنا یہودیوں کی صفت ہے۔ مسلمانوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
➋ جو رسم و رواج شریعت کے خلاف ہوں انہیں شریعت کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
➌ بائبل کے موجودہ نسخوں میں بھی زنا کے مجرم کے لیے سزائے موت کا ذکر موجود ہے۔ حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کتاب استثنا میں اس طرح درج ہے:
”اگر کوئی مرد کسی شوہر والی عورت سے زنا کرتے پکڑا جائے تو دونوں مار ڈالے جائیں یعنی وہ مرد بھی جس نے عورت سے صحبت کی اور وہ عورت بھی۔ یوں تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دفع کرنا، اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسوب ہو گئی ہو، دوسرا آدمی اسے شہر میں پا کر اس سے صحبت کرے تو تم ان دونوں کو اس شہر کے پھاٹک تک نکال لانا اور اسے سنگسار کر دینا کہ وہ مر جائیں۔“ [استثناء، باب: 22، فقرہ: 22 تا 24]
➍ قانون کا نفاذ امیر غریب سب پر یکساں ہونا چاہیے۔
➎ صحیح مسئلہ چھپا لینا یہودیوں کی عادت ہے۔
➏ غیر مسلم سے بھی غیر اللہ کی قسم لینا جائز نہیں، بلکہ اس سے اللہ کی صفت کا ذکر کر کے قسم لی جائے جس کا وہ بھی قائل ہو۔
➊ اللہ کے قوانین کو تبدیل کر کے اپنے بنائے ہوئے قوانین کو اللہ کے قوانین کہنا یہودیوں کی صفت ہے۔ مسلمانوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
➋ جو رسم و رواج شریعت کے خلاف ہوں انہیں شریعت کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
➌ بائبل کے موجودہ نسخوں میں بھی زنا کے مجرم کے لیے سزائے موت کا ذکر موجود ہے۔ حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کتاب استثنا میں اس طرح درج ہے:
”اگر کوئی مرد کسی شوہر والی عورت سے زنا کرتے پکڑا جائے تو دونوں مار ڈالے جائیں یعنی وہ مرد بھی جس نے عورت سے صحبت کی اور وہ عورت بھی۔ یوں تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دفع کرنا، اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسوب ہو گئی ہو، دوسرا آدمی اسے شہر میں پا کر اس سے صحبت کرے تو تم ان دونوں کو اس شہر کے پھاٹک تک نکال لانا اور اسے سنگسار کر دینا کہ وہ مر جائیں۔“ [استثناء، باب: 22، فقرہ: 22 تا 24]
➍ قانون کا نفاذ امیر غریب سب پر یکساں ہونا چاہیے۔
➎ صحیح مسئلہ چھپا لینا یہودیوں کی عادت ہے۔
➏ غیر مسلم سے بھی غیر اللہ کی قسم لینا جائز نہیں، بلکہ اس سے اللہ کی صفت کا ذکر کر کے قسم لی جائے جس کا وہ بھی قائل ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2558]
Sunan Abi Dawud Hadith 4447 in Urdu
عبد الله بن مرة الهمداني ← البراء بن عازب الأنصاري