🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب إذا تتابع في شرب الخمر
باب: جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4482
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَرِبُوا الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاقْتُلُوهُمْ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو انہیں قتل کر دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحدود 15 (1444)، سنن ابن ماجہ/الحدود 17 (2573)، (تحفة الأشراف: 11412)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/95، 96، 100) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3619)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن أبي سفيان الأموي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← معاوية بن أبي سفيان الأموي
ثقة ثبت
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← أبو صالح السمان
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد
Newأبان بن يزيد العطار ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← أبان بن يزيد العطار
ثقة ثبت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4482 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4482
فوائد ومسائل:
امام ترمذی رحمتہ اللہ کتاب العلل میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث کے ترک یعنی منسوخ ہونے پر علماء کا اجماع ہے۔
اور اس حدیث کی تاویل یہ ہے کہ اس سے مراد سخت مار ہے۔
اور اگلی حدیث(4485) کو اس کا ناسخ سمجھا جاتا ہے۔
علامہ زیلعی رحمۃاللہ علیہ نے بحوالہ ابن حبان لکھا ہے کہ قتل کا حکم اس کے لیے ہے جو اس کی حلت کا قائل ہو اور حرمت کوقبول نہ کرتا ہو۔
(عون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4482]