یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب في إقامة الحد في المسجد
باب: مسجد میں حدود کا نفاذ ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 4490
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ زُفَرَ بْنِ وَثِيمَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُودُ".
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے، اشعار پڑھنے اور حد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4490]
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مسجد میں قصاص لینے، اشعار پڑھنے اور حدیں لگانے سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (4487)، (تحفة الأشراف: 3425)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/434) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
في سماع زفر بن وثيمة من حكيم بن حزام نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158
إسناده ضعيف
في سماع زفر بن وثيمة من حكيم بن حزام نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حكيم بن حزام القرشي، أبو خالد | صحابي | |
👤←👥زفر بن وثيمة النصري زفر بن وثيمة النصري ← حكيم بن حزام القرشي | ثقة | |
👤←👥محمد بن عبد الله الشعيثي، أبو عبد الله محمد بن عبد الله الشعيثي ← زفر بن وثيمة النصري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥صدقة بن خالد القرشي، أبو العباس صدقة بن خالد القرشي ← محمد بن عبد الله الشعيثي | ثقة | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← صدقة بن خالد القرشي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4490
| نهى رسول الله أن يستقاد في المسجد وأن تنشد فيه الأشعار وأن تقام فيه الحدود |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4490 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4490
فوائد ومسائل:
1) یہ روایات سندا ضعیف ہے، لیکن دیگر شواہد کی بنا پر حسن درجہ تک پہنچ جاتی ہے۔
ان شواہد کی وضاحت ہمارے فاضل محقق نے تخریج وتحقیق میں کی ہے، علاوہ ازیں شیخ البانی رحمتہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
2) مساجد اس غرض سے بنائی جاتی ہیں کہ ان میں نماز پڑھی جائے تلاوت قرآن ہواور اللہ کا ذکر کیا جائے۔
قصاص یا حدود اگرچہ شرعی امور ہیں، مگر ان سےمسجد کا ادب قائم نہیں رہتا ہے۔
اسی طرح لغو اور بے ہودہ اشعار پڑھنا بھی ناجائز ہے۔
البتہ اللہ کی حمدوثناء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور شرعی مضامین پر مشتمل اشعار پرھے اور سنے جا سکتے ہیں۔
1) یہ روایات سندا ضعیف ہے، لیکن دیگر شواہد کی بنا پر حسن درجہ تک پہنچ جاتی ہے۔
ان شواہد کی وضاحت ہمارے فاضل محقق نے تخریج وتحقیق میں کی ہے، علاوہ ازیں شیخ البانی رحمتہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
2) مساجد اس غرض سے بنائی جاتی ہیں کہ ان میں نماز پڑھی جائے تلاوت قرآن ہواور اللہ کا ذکر کیا جائے۔
قصاص یا حدود اگرچہ شرعی امور ہیں، مگر ان سےمسجد کا ادب قائم نہیں رہتا ہے۔
اسی طرح لغو اور بے ہودہ اشعار پڑھنا بھی ناجائز ہے۔
البتہ اللہ کی حمدوثناء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور شرعی مضامین پر مشتمل اشعار پرھے اور سنے جا سکتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4490]
Sunan Abi Dawud Hadith 4490 in Urdu
زفر بن وثيمة النصري ← حكيم بن حزام القرشي