🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب الإمام يأمر بالعفو في الدم
باب: امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4501
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَبَشِيٍّ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا قَتَلَ ابْنَ أَخِي، قَالَ: كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: ضَرَبْتُ رَأْسَهُ بِالْفَأْسِ وَلَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ، قَالَ: هَلْ لَكَ مَالٌ تُؤَدِّي دِيَتَهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ أَرْسَلْتُكَ تَسْأَلُ النَّاسَ تَجْمَعُ دِيَتَهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَوَالِيكَ يُعْطُونَكَ دِيَتَهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ لِلرَّجُلِ: خُذْهُ، فَخَرَجَ بِهِ لِيَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّهُ إِنْ قَتَلَهُ كَانَ مِثْلَهُ، فَبَلَغَ بِهِ الرَّجُلُ حَيْثُ يَسْمَعُ قَوْلَهُ، فَقَالَ: هُوَ ذَا فَمُرْ فِيهِ مَا شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْسِلْهُ، وَقَالَ مَرَّةً: دَعْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِ صَاحِبِهِ وَإِثْمِهِ فَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ، قَالَ: فَأَرْسَلَهُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک حبشی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے، آپ نے اس سے پوچھا: تم نے اسے کیسے قتل کر دیا؟ وہ بولا: میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مر گیا، میرا ارادہ اس کے قتل کا نہیں تھا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس مال ہے کہ تم اس کی دیت ادا کر سکو اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: بتاؤ اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم لوگوں سے مانگ کر اس کی دیت اکٹھی کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے مالکان اس کی دیت ادا کر دیں گے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ نے اس شخص (مقتول کے وارث) سے فرمایا: اسے لے جاؤ جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے کر چلا تو آپ نے فرمایا: اگر یہ اس کو قتل کر دے گا تو اسی کی طرح ہو جائے گا وہ آپ کی بات سن رہا تھا جب اس کے کان میں یہ بات پہنچی تو اس نے کہا: وہ یہ ہے، آپ جو چاہیں اس کے سلسلے میں حکم فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، وہ اپنا اور تمہارے بھتیجے کا گناہ لے کر لوٹے گا اور جہنمیوں میں سے ہو گا چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4501]
جناب علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص ایک حبشی کو پکڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اس نے میرے بھتیجے کو قتل کر ڈالا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے اس کو کس طرح قتل کیا تھا؟ اس نے بتایا: میں نے اس کے سر پر کلہاڑا مارا تھا، لیکن میرا اسے قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے پاس مال ہے کہ تو اس کی دیت دے سکے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اگر میں تجھے چھوڑ دوں، اور تو لوگوں سے مانگے اور اس کی دیت جمع کر لے (تو کیا ایسے کر سکتا ہے؟) اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے مالک (یا تیری قوم والے) تجھے اس کی دیت دے سکتے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے کہا: اس کو پکڑ لے۔ چنانچہ وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے چلا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اگر اس نے اس کو قتل کر دیا تو اسی کی مانند ہو جائے گا۔ تو وہ (مقتول کا ولی) قاتل کو لے کر اس جگہ پہنچ گیا جہاں سے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی تھی اور بولا: لیجیے! یہ رہا اور جو چاہیں اس کے متعلق حکم فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، یہ اپنے اور اپنے مقتول کے گناہ اپنے سر لے کر جہنمیوں میں سے ہو گا۔ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ اس نے اس کو چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4499)، (تحفة الأشراف: 11769) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديثين السابقين (4499، 4500)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وائل بن حجر الحضرمي، أبو هنيد، أبو هنيدةصحابي
👤←👥علقمة بن وائل الحضرمي
Newعلقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي
ثقة
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← علقمة بن وائل الحضرمي
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥يزيد بن عطاء اليشكري، أبو خالد
Newيزيد بن عطاء اليشكري ← سماك بن حرب الذهلي
مقبول
👤←👥عبد القدوس بن الحجاج الخولاني، أبو المغيرة
Newعبد القدوس بن الحجاج الخولاني ← يزيد بن عطاء اليشكري
ثقة
👤←👥محمد بن عوف الطائي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن عوف الطائي ← عبد القدوس بن الحجاج الخولاني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4501
هذا قتل ابن أخي قال كيف قتلته قال ضربت رأسه بالفأس ولم أرد قتله قال هل لك مال تؤدي ديته قال لا قال أفرأيت إن أرسلتك تسأل الناس تجمع ديته قال لا قال فمواليك يعطونك ديته قال لا قال للرجل خذه قال فخرج به ليقتله فقال له رسول الله أما إنه إن قتله كان مثله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4501 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4501
فوائد ومسائل:
1: قتل کی یہ نوعیت خطا شبہ العمد تھی اوراس میں دیت آتی ہے، قصاص نہیں۔

2: اگر قاتل یا اس کے اولیاء دیت دینے سے قاصرہوں تو امام (امیر) قاتل کو مقتول کے اولیاء کے حوالے کرسکتا ہے۔

3:  مسلمان کا قتل کبیرہ گناہ ہے اور اس کی سزا ابدی جہنم ہے، اللہ معاف فرما دے تو الگ بات ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4501]

Sunan Abi Dawud Hadith 4501 in Urdu