سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب الإمام يأمر بالعفو في الدم
باب: امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4503
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضُمَيْرَةَ الضُّمَرِيَّ. ح وأَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ، وَهَذَا حَدِيثُ وَهْبٍ وَهُوَ أَتَمُ، يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مُوسَى، وَجَدِّهِ، وَكَانَا شَهِدَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى حَدِيثِ وَهْبٍ: أَنْ مُحَلِّمَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ فِي الْإِسْلَامِ وَذَلِكَ أَوَّلُ غِيَرٍ قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ عُيَيْنَةُ فِي قَتْلِ الْأَشْجَعِيِّ لِأَنَّهُ مِنْ غَطَفَانَ وَتَكَلَّمَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ دُونَ مُحَلِّمٍ لِأَنَّهُ مِنْ خِنْدِفَ، فَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُيَيْنَةُ أَلَا تَقْبَلُ الْغِيَرَ؟ فَقَالَ عُيَيْنَةُ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُدْخِلَ عَلَى نِسَائِهِ مِنَ الْحَرْبِ وَالْحُزْنِ مَا أَدْخَلَ عَلَى نِسَائِي، قَالَ: ثُمَّ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عُيَيْنَةُ أَلَا تَقْبَلُ الْغِيَرَ؟ فَقَالَ عُيَيْنَةُ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا، إِلَى أَنْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ عَلَيْهِ شِكَّةٌ وَفِي يَدِهِ دَرِقَةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَجِدْ لِمَا فَعَلَ هَذَا فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ مَثَلًا إِلَّا غَنَمًا وَرَدَتْ فَرُمِيَ أَوَّلُهَا فَنَفَرَ آخِرُهَا اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسُونَ فِي فَوْرِنَا هَذَا وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ وَذَلِكَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَمُحَلِّمٌ رَجُلٌ طَوِيلٌ آدَمُ وَهُوَ فِي طَرَفِ النَّاسِ، فَلَمْ يَزَالُوا حَتَّى تَخَلَّصَ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي بَلَغَكَ وَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَتَلْتَهُ بِسِلَاحِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ! اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ بِصَوْتٍ عَالٍ، زَادَ أَبُو سَلَمَةَ: فَقَامَ وَإِنَّهُ لَيَتَلَقَّى دُمُوعَهُ بِطَرَفِ رِدَائِهِ"، قَالَ ابْنُ إِسْحَاق: فَزَعَمَ قَوْمُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: الْغِيَرُ الدِّيَةُ.
زبیر بن عوام اور ان والد عوام رضی اللہ عنہما (یہ دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے) سے روایت ہے کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اسلام کے زمانے میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو قتل کر دیا، اور یہی پہلی دیت ہے جس کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، تو عیینہ نے اشجعی کے قتل کے متعلق گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ عطفان سے تھا، اور اقرع بن حابس نے محلم کی جانب سے گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ خندف سے تھا تو آوازیں بلند ہوئیں، اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے؟“ عیینہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اس وقت تک نہیں جب تک میں اس کی عورتوں کو وہی رنج و غم نہ پہنچا دوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچایا ہے، پھر آوازیں بلند ہوئیں اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے؟“ عیینہ نے پھر اسی طرح کی بات کہی یہاں تک کہ بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکیتل کہا جاتا تھا، وہ ہتھیار باندھے تھا اور ہاتھ میں سپر لیے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شروع اسلام میں اس نے جو غلطی کی ہے، اسے میں یوں سمجھتا ہوں جیسے چند بکریاں چشمے پر آئیں اور ان پر تیر پھینکے جائیں تو پہلے پہل آنے والیوں کو تیر لگے، اور پچھلی انہیں دیکھ کر ہی بھاگ جائیں، آج ایک طریقہ نکالئے اور کل اسے بدل دیجئیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچاس اونٹ ابھی فوراً دے دو، اور پچاس مدینے لوٹ کر دینا“۔ اور یہ واقعہ ایک سفر کے دوران پیش آیا تھا، محلم لمبا گندمی رنگ کا ایک شخص تھا، وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا، آخر کار جب وہ چھوٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ بیٹھا، اور اس کی آنکھیں اشک بار تھیں اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے گناہ کیا ہے جس کی خبر آپ کو پہنچی ہے، اب میں توبہ کرتا ہوں، آپ اللہ سے میری مغفرت کی دعا فرمائیے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ آواز بلند فرمایا: ”کیا تم نے اسے ابتداء اسلام میں اپنے ہتھیار سے قتل کیا ہے، اے اللہ! محلم کو نہ بخشنا“ ابوسلمہ نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ سن کر محلم کھڑا ہوا، وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں: محلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کا کہنا ہے کہ «غير» کے معنی دیت کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4503]
زیاد بن سعد بن ضمیرہ سلمی رحمہ اللہ سے منقول ہے اور یہ وہب بن بیان کی روایت ہے اور زیادہ کامل ہے۔ وہ (زیاد بن سعد) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے اپنے والد کے واسطہ سے روایت بیان کرتے ہیں، اور موسیٰ بن اسماعیل کی سند میں ہے کہ زیاد نے اپنے والد سے اور اپنے دادا (ضمیرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا اور یہ دونوں (سعد اور ضمیرہ رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معرکہ حنین میں حاضر تھے؛ ہم وہب بن بیان کی طرف لوٹتے ہیں کہ محلم بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے قبول اسلام کے بعد قبیلہ اشجع کے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔ اور یہ دیت کا پہلا مقدمہ تھا جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا۔ چنانچہ عیینہ رضی اللہ عنہ نے مقتول اشجعی کے بارے میں بات شروع کی کیونکہ اس کا تعلق قبیلہ غطفان سے تھا اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے محلم رضی اللہ عنہ کی جانب سے بات کی کیونکہ وہ قبیلہ خندف سے تھا۔ ان لوگوں کی آوازیں اونچی ہو گئیں اور بہت شوروغل اور جھگڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کرتے ہو؟“ عیینہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! جب تک میں اس کی عورتوں کو بھی وہی دکھ اور اذیت نہ پہنچا لوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچایا ہے۔“ پھر آوازیں اونچی ہو گئیں، بڑا شوروغل اور جھگڑا ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کرتے ہو؟“ تو عیینہ رضی اللہ عنہ نے پہلے کی طرح جواب دیا۔ حتیٰ کہ بنو لیث کا ایک آدمی کھڑا ہوا جس کا نام مکیتل رضی اللہ عنہ تھا۔ وہ ہتھیار بند تھا اور ڈھال اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اس واقعے میں جو ابتدائے اسلام میں رونما ہوا ہے، اور کوئی مثال نہیں ملتی کہ گھاٹ پر آتی بکریوں میں پہلی کو پتھر مار دیا جائے تو آخری بھی بھاگ جاتی ہے۔ اور (دوسری مثال) آج ایک طریقہ اختیار کرو تو کل اسے بدل دو۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچاس اونٹ تو فوری طور پر ابھی ادا ہوں اور پچاس جب ہم مدینہ لوٹیں۔“ اور یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر کا ہے۔ (صاحب معاملہ) محلم رضی اللہ عنہ ایک دراز قد گندم گوں آدمی تھا، وہ لوگوں کی ایک جانب میں بیٹھا ہوا تھا۔ لوگ اسی حالت پر تھے کہ وہ جگہ بناتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ بیٹھا، جبکہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھ سے یہ کام ہو گیا جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی ہے، میں اللہ کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ سے استغفار فرمائیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسلام لاتے ہی اپنے ہتھیار سے قتل کر ڈالا، «اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ» ”اے اللہ! محلم کی بخشش نہ فرما۔““ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے کہا۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ نے مزید کہا: پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی چادر کے پلو سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں اس کے لیے استغفار فرمایا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نضر بن شمیل رحمہ اللہ نے «الْغِيَرُ» کا مفہوم ”دیت“ بتایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدیات 4 (2625)، (تحفة الأشراف: 3824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/112، 6/10) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (2625 وسنده حسن) زياد بن ضميرة حسن الحديث علي الراجح
أخرجه ابن ماجه (2625 وسنده حسن) زياد بن ضميرة حسن الحديث علي الراجح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4503
| أقتلته بسلاحك في غرة الإسلام اللهم لا تغفر لمحلم بصوت عال زاد أبو سلمة فقام وإنه ليتلقى دموعه بطرف ردائه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4503 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4503
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا مثالوں سے اپنے مخاطب کو اپنے مطلب کی بات پر لانے کے لئے برانگیختہ کرنا مطلوب تھا۔
پہلی مثال میں یہ ہے کہ اگر آج اس پہلے قاتل سے قصاصلے لیا جائے تو دوسروں کو عبرت اور نصیحت ہو جائے گی۔
اور کو ئی کسی کو قتل کرنے کی جرات نہیں کرے گا اور اگر قصاص نہ لیا جائے تو دوسری مثال ہے کہ یہ بات حکمت کے خلاف ہو گی کہ آج ایک اصول بنائیں اور کل اسے بدل دیں چاہیے کہ اٹل موقف اپنایا جائے اگر آج آپ نے قصاص نہ لیا اور دیت ہی راضی ہو گئے تو لوگ آئندہ دیت پر راضی نہ ہوں گے قصاص ہی لیا کریں گے۔
مذکورہ بالا مثالوں سے اپنے مخاطب کو اپنے مطلب کی بات پر لانے کے لئے برانگیختہ کرنا مطلوب تھا۔
پہلی مثال میں یہ ہے کہ اگر آج اس پہلے قاتل سے قصاصلے لیا جائے تو دوسروں کو عبرت اور نصیحت ہو جائے گی۔
اور کو ئی کسی کو قتل کرنے کی جرات نہیں کرے گا اور اگر قصاص نہ لیا جائے تو دوسری مثال ہے کہ یہ بات حکمت کے خلاف ہو گی کہ آج ایک اصول بنائیں اور کل اسے بدل دیں چاہیے کہ اٹل موقف اپنایا جائے اگر آج آپ نے قصاص نہ لیا اور دیت ہی راضی ہو گئے تو لوگ آئندہ دیت پر راضی نہ ہوں گے قصاص ہی لیا کریں گے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4503]
Sunan Abi Dawud Hadith 4503 in Urdu
سعد الضمري ← ضميرة الضمري