سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب فيمن سقى رجلا سما أو أطعمه فمات أيقاد منه
باب: آدمی نے کسی کو زہر پلایا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 4513
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ أُمَّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ" مَا يُتَّهَمُ بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُ بِابْنِي شَيْئًا إِلَّا الشَّاةَ الْمَسْمُومَةَ الَّتِي أَكَلَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا لَا أَتَّهِمُ بِنَفْسِي إِلَّا ذَلِكَ، فَهَذَا أَوَانُ قَطَعَتْ أَبْهَرِي"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُبَّمَا حَدَّثَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُرْسَلًا، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُبَّمَا حَدَّثَ بِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَذَكَرَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ يُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مَرَّةً مُرْسَلًا فَيَكْتُبُونَهُ وَيُحَدِّثُهُمْ مَرَّةً بِهِ فَيُسْنِدُهُ فَيَكْتُبُونَهُ وَكُلٌّ صَحِيحٌ عِنْدَنَا، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: فَلَمَّا قَدِمَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَلَى مَعْمَرٍ، أَسْنَدَ لَهُ مَعْمَرٌ أَحَادِيثَ كَانَ يُوقِفُهَا.
کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مرض میں جس میں آپ نے وفات پائی کہا: اللہ کے رسول! آپ کا شک کس چیز پر ہے؟ میرے بیٹے کے سلسلہ میں میرا شک تو اس زہر آلود بکری پر ہے جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھائی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سلسلہ میں بھی میرا شک اسی پر ہے، اور اب یہ وقت آ چکا ہے کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کبھی اس حدیث کو معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور کبھی معمر نے اسے زہری سے اور، زہری نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ اور عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس حدیث کو ان سے کبھی مرسلاً روایت کرتے تو وہ اسے لکھ لیتے اور کبھی مسنداً روایت کرتے تو بھی وہ اسے بھی لکھ لیتے، اور ہمارے نزدیک دونوں صحیح ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: جب ابن مبارک معمر کے پاس آئے تو معمر نے وہ تمام حدیثیں جنہیں وہ موقوفاً روایت کرتے تھے ان سے متصلًا روایت کیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4513]
جناب عبدالرحمٰن اپنے والد سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جس بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ان دنوں میں ام مبشر رضی اللہ عنہا (زوجہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کیا گمان کرتے ہیں؟ میں اپنے بیٹے کے متعلق یہی سمجھتی ہوں کہ وہ زہر آلود بکری جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھائی تھی وہ اسی سے متاثر ہوا تھا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی اپنے متعلق اسی کا گمان ہے اور یہ وقت آ گیا ہے کہ میری شاہ رگیں کٹ رہی ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام عبدالرزاق رحمہ اللہ نے یہ روایت کئی بار بسندِ معمر بواسطہ زہری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل، اور کئی بار «الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ» ”زہری بحوالہ عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک“ کے واسطے سے موصول روایت کی ہے۔ عبدالرزاق رحمہ اللہ نے کہا: ”معمر جب یہ روایت مرسل بیان کرتے تو ہم اسی طرح لکھ لیتے تھے اور جب مسند روایت کرتے تو ہم اسی طرح لکھ لیتے اور ہمارے نزدیک یہ سب صحیح ہیں۔“ عبدالرزاق رحمہ اللہ نے بتایا کہ جب ابن مبارک رحمہ اللہ معمر کے ہاں گئے تو انہوں نے وہ تمام احادیث جو وہ موقوف بیان کیا کرتے تھے ابن مبارک رحمہ اللہ کو مسند روایت کیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11139، 19815، 18358، 18375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/18) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4512)
انظر الحديث السابق (4512)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4513
| لا أتهم بنفسي إلا ذلك فهذا أوان قطعت أبهري |
Sunan Abi Dawud Hadith 4513 in Urdu
عبد الله بن كعب الأنصاري ← حميمة بنت صيفي الأنصارية