سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب أيقاد المسلم بالكافر
باب: کیا کافر کے بدلے مسلمان سے قصاص لیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 4531
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَلِيٍّ، زَادَ فِيهِ: وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَيَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّيهِمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: … پھر راوی نے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4531]
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور مذکورہ بالا روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مانند ذکر کی، اس میں اضافہ ہے: ”ان کا (مسلمانوں کا) بعید ترین فرد بھی امان دے سکتا ہے، اور ان کا تنومند اور قوی رفتار اپنے ضعیف اور سست رفتار کو بھی ساتھ ملائے (مال غنیمت میں اس کو شریک کرے) اور چھوٹے دستے میں جانے والا بڑے لشکر میں رہ جانے والوں کو بھی شریک سمجھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، وقد مضی بتمامہ 2751، (تحفة الأشراف: 8815)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 31 (2685) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3496)
أخرجه ابن ماجه (2685 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (2751)
مشكوة المصابيح (3496)
أخرجه ابن ماجه (2685 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (2751)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4531 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4531
فوائد ومسائل:
آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جہاد میں شریک ہونے والے تمام مجاہد مال غنیمت میں حصے دار ہوں گے، حتی کہ اگر ایک چھوٹا دستہ، بڑے لشکر سے الگ ہو کر کوئی جہاد معرکہ سر کرے اور وہاں سے مال غنیمت حاصل کرے تو اس میں بڑے لشکر والے بھی جو اپنے امیر کے ساتھ بیٹھے رہے، شریک ہوں گے۔
آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جہاد میں شریک ہونے والے تمام مجاہد مال غنیمت میں حصے دار ہوں گے، حتی کہ اگر ایک چھوٹا دستہ، بڑے لشکر سے الگ ہو کر کوئی جہاد معرکہ سر کرے اور وہاں سے مال غنیمت حاصل کرے تو اس میں بڑے لشکر والے بھی جو اپنے امیر کے ساتھ بیٹھے رہے، شریک ہوں گے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4531]
Sunan Abi Dawud Hadith 4531 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي