یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب فيمن تطبب ولا يعلم منه طب فأعنت
باب: جس نے طب جانے بغیر کسی کا علاج کیا اور اس کو نقصان پہنچا دیا تو اس کی سزا کیا ہے؟
حدیث نمبر: 4587
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ الْوَفْد الَّذِينَ قُدِمُوا عَلَى أَبِي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا طَبِيبٍ تَطَبَّبَ عَلَى قَوْمٍ لَا يُعْرَفُ لَهُ تَطَبُّبٌ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَعْنَتَ فَهُوَ ضَامِنٌ"، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِالنَّعْتِ، إِنَّمَا هُوَ قَطْعُ الْعُرُوقِ وَالْبَطُّ وَالْكَيُّ.
عبدالعزیزبن عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں میرے والد کے پاس آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی قوم میں طبیب بن بیٹھے، حالانکہ اس سے پہلے اس کی طب دانی معروف نہ ہو اور مریض کا مرض بگڑ جائے اور اس کو نقصان لاحق ہو جائے تو وہ اس کا ضامن ہو گا“۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: «اعنت نعت» سے نہیں (بلکہ «عنت» سے ہے جس کے معنی) رگ کاٹنے، زخم چیرنے یا داغنے کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4587]
جناب عبدالعزیز بن عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک وفد کے لوگ جو میرے والد کے پاس آئے تھے ان میں سے ایک نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو معالج کسی قوم میں طبیب بنا پھرتا ہو، جب کہ اس سے پہلے وہ علم طب میں معروف نہ ہو اور کسی کا نقصان کر دے تو وہ ذمہ دار ہے۔“ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ ضمانت دوا بتانے میں نہیں بلکہ یہ رگ کاٹنے، چیرا دینے یا داغ دینے کی صورت میں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15631) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بعض الوفد مجھول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162
إسناده ضعيف
بعض الوفد مجھول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4587
| أيما طبيب تطبب على قوم لا يعرف له تطبب قبل ذلك فأعنت فهو ضامن |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4587 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4587
فوائد ومسائل:
لوگ بالعموم سنے سنائے نسخے بیا ن کرتے ہیں، اس صورت میں بتانے والے کا قصورنہیں سمجھا جاتا، بلکہ ایسی دوا استعمال کرنے والے کو خود دانا ہونا چاہیے، ہاں اگر کوئی اناڑی فصد کھولے یا داغ وغیرہ دے اور نقصان ہوجائے تو ذمہ دارہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ نوآموز ڈاکٹروں اور معالجین کے لئے پرانے ماہر طبیبوں کی زیر نگرانی طویل تربیت لازمی سمجھی جاتی ہے۔
لوگ بالعموم سنے سنائے نسخے بیا ن کرتے ہیں، اس صورت میں بتانے والے کا قصورنہیں سمجھا جاتا، بلکہ ایسی دوا استعمال کرنے والے کو خود دانا ہونا چاہیے، ہاں اگر کوئی اناڑی فصد کھولے یا داغ وغیرہ دے اور نقصان ہوجائے تو ذمہ دارہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ نوآموز ڈاکٹروں اور معالجین کے لئے پرانے ماہر طبیبوں کی زیر نگرانی طویل تربیت لازمی سمجھی جاتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4587]
Sunan Abi Dawud Hadith 4587 in Urdu
عبد العزيز بن عمر القرشي ← اسم مبهم