🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في الخلفاء
باب: خلفاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4641
حَدَّثَنَا أَبُو ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلَامِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ:" إِنَّ مَثَلَ عُثْمَانَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَقْرَؤُهَا وَيُفَسِّرُهَا: إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة آل عمران آية 55، يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ وَإِلَى أَهْلِ الشَّامِ".
عوف الا عرابی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا: عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» جب اللہ نے کہا کہ: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں (سورۃ آل عمران: ۵۵) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4641]
عوف (عوف ابی جمیلہ اعرابی) نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے حجاج (حجاج بن یوسف) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مثال اللہ کے ہاں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی طرح ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی: ﴿إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة آل عمران: 55] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ میں تمہیں (اس جہان سے) پورا پورا لے جانے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور ان کافروں کی صحبت سے تمہیں پاک کرنے والا ہوں۔ وہ یہ آیت پڑھتا جاتا تھا اور اس کی شرح کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے ہماری طرف اور اہل شام کی طرف اشارے کرتا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19183) (ضعیف) (عوف بن ابی جمیلة اعرابی اور حجاج کے درمیان انقطاع ہے)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ تفسیر بالرائے کی بدترین قسم ہے حجاج نے اس آیت کریمہ کو اپنے اور اپنے مخالفوں پر منطبق کر ڈالا جب کہ حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں، آج بھی بعض اہل بدعت آیات قرآنیہ کی من مانی تفسیر کرتے رہتے ہیں، اور اہل حق کو اہل باطل اور باطل پرستوں کو اہل حق باور کراتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
عبد السلام ھو ابن مطھر وجعفر ھو ابن سليمان الضبعي


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحجاج بن يوسف الثقفي، أبو محمدضعيف الحديث
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← الحجاج بن يوسف الثقفي
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥جعفر بن سليمان الضبعي، أبو سليمان
Newجعفر بن سليمان الضبعي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
صدوق يتشيع
👤←👥عبد السلام بن مطهر الأزدي، أبو ظفر
Newعبد السلام بن مطهر الأزدي ← جعفر بن سليمان الضبعي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4641 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4641
فوائد ومسائل:
مفہوم کلام یہ تھا کہ جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے متبعین کو اللہ تعالی نے کافروں پر غلبہ دیا اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متبعین ہیں جو شام میں پورے ملک پر حکومت کر رہے ہیں دوسرے جو ان کے مخالف ہیں مغلوب ہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4641]

Sunan Abi Dawud Hadith 4641 in Urdu