سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب فِي الْخُلَفَاءِ
باب: خلفاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 4642
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ:" رَسُولُ أَحَدِكُمْ فِي حَاجَتِهِ أَكْرَمُ عَلَيْهِ أَمْ خَلِيفَتُهُ فِي أَهْلِهِ؟ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لِلَّهِ: عَلَيَّ أَلَّا أُصَلِّيَ خَلْفَكَ صَلَاةً أَبَدًا، وَإِنْ وَجَدْتُ قَوْمًا يُجَاهِدُونَكَ لَأُجَاهِدَنَّكَ مَعَهُمْ، زَادَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: فَقَاتَلَ فِي الْجَمَاجِمِ حَتَّى قُتِلَ".
ربیع بن خالد ضبی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ دیتے سنا، اس نے اپنے خطبے میں کہا: تم میں سے کسی کا پیغام بر جو اس کی ضرورت سے (پیغام لے جا رہا) ہو زیادہ درجے والا ہے، یا وہ جو اس کے گھربار میں اس کا قائم مقام اور خلیفہ ہو؟ تو میں نے اپنے دل میں کہا: اللہ کا میرے اوپر حق ہے کہ میں تیرے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھوں، اور اگر مجھے ایسے لوگ ملے جو تجھ سے جہاد کریں تو میں ضرور ان کے ساتھ تجھ سے جہاد کروں گا۔ اسحاق نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: چنانچہ انہوں نے جماجم میں جنگ کی یہاں تک کہ مارے گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4642]
ربیع بن خالد ضبی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے حجاج (حجاج بن یوسف) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، اس نے اپنے خطبے میں کہا: ”ہم میں سے کسی کا قاصد جو اس کے کسی کام میں مشغول ہو، وہ اس کے لیے زیادہ محترم ہوتا ہے یا اس کا وہ نائب جو اس کے اہل میں ٹھہرا ہوا ہو؟“ پس میں نے اپنے دل میں کہا: ”مجھ پر اللہ کے لیے یہ نذر ہے کہ اب تیرے پیچھے کبھی نماز نہیں پڑھوں گا، اور اگر مجھے کچھ لوگ مل گئے جو تیرے خلاف جہاد کرتے ہوں تو میں ان کے ساتھ مل کر بالضرور جہاد کروں گا۔“ اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں مزید کہا: چنانچہ اس نے (ربیع بن خالد نے حجاج کے خلاف دیر) جماجم کے قتال میں حصہ لیا حتیٰ کہ قتل ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18632) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مغيرة بن مقسم الضبي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
إسناده ضعيف
مغيرة بن مقسم الضبي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4642 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4642
فوائد ومسائل:
حجاج کی طرف منسوب اس کلام کا مفہوم یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جس طرح کسی کا نائب اور جو اس کے اہل میں رہ کر انکی خدمت کر رہا ہو اس کے قاصد کی نسبت زیادہ افضل ہوتا ہے۔
اسی طرح انبیاء جو فقط اللہ عزوجل کے احکام پہنچانے والے تھے، نعوذ باللہ ان کی نسبت امراء بنو امیہ جو اس زمین میں اللہ کے خلیفہ ہیں بہتر ہیں اور یہ کہ خلیفہ قاصد سے افضل ہوا کرتا ہے۔
یہ کلام مفہوم اگر درست ہو تو صریح کفر ہے، مگر یہ روایت ضعیف ہے۔
حجاج کی طرف منسوب اس کلام کا مفہوم یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جس طرح کسی کا نائب اور جو اس کے اہل میں رہ کر انکی خدمت کر رہا ہو اس کے قاصد کی نسبت زیادہ افضل ہوتا ہے۔
اسی طرح انبیاء جو فقط اللہ عزوجل کے احکام پہنچانے والے تھے، نعوذ باللہ ان کی نسبت امراء بنو امیہ جو اس زمین میں اللہ کے خلیفہ ہیں بہتر ہیں اور یہ کہ خلیفہ قاصد سے افضل ہوا کرتا ہے۔
یہ کلام مفہوم اگر درست ہو تو صریح کفر ہے، مگر یہ روایت ضعیف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4642]
Sunan Abi Dawud Hadith 4642 in Urdu
المغيرة بن مقسم الضبي ← الحجاج بن يوسف الثقفي