سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب فِي الْخُلَفَاءِ
باب: خلفاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 4632
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: مُحَمَّدٌ كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ ظُلَّةً يَنْطِفُ مِنْهَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَأَرَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَعَلَا بِهِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي وَأُمِّي لَتَدَعَنِّي فَلَأُعَبِّرَنَّهَا، فَقَالَ: اعْبُرْهَا، قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ: فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا مَا يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ: فَهُوَ الْقُرْآنُ لِينُهُ وَحَلَاوَتُهُ، وَأَمَّا الْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ: فَهُوَ الْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْهُ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ: فَهُوَ الْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ فَقَالَ: أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقْسِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور شخص نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر اسے جوڑا گیا، تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تعبیر بیان کرو“ وہ بولے: بادل کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے، اور ٹپکنے والے گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت (شیرینی) اور نرمی مراد ہے، کم اور زیادہ لینے والوں سے مراد قرآن کو کم یا زیادہ حاصل کرنے والے لوگ ہیں، آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ ہیں، آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں، اللہ آپ کو اٹھا لے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا، پھر ایک اور شخص پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا، پھر اسے ایک اور شخص پکڑے گا، تو وہ ٹوٹ جائے گی تو اسے جوڑا جائے گا، پھر وہ بھی اٹھ جائے گا، اللہ کے رسول! آپ مجھے بتائیے کہ میں نے صحیح کہا یا غلط، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ صحیح کہا اور کچھ غلط“ کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم نہ دلاؤ“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4632]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: ”میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ ایک بادل سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنی ہتھیلیاں پھیلائے ہوئے تھے، تو کچھ نے ان سے خوب خوب لیا اور کچھ نے کم لیا۔ اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اے اللہ کے رسول! آپ کو دیکھا کہ آپ نے اس کو پکڑا ہے اور اوپر چڑھ گئے ہیں۔ پھر ایک دوسرے آدمی نے اسے پکڑا وہ بھی اوپر چڑھ گیا۔ پھر ایک اور آدمی نے اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گیا۔ پھر ایک اور آدمی نے اسے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی۔ پھر جوڑ دی گئی تو وہ اوپر چڑھ گیا۔“ پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی تعبیر عرض کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تعبیر بیان کرو۔“ تو انہوں نے کہا: ”وہ بادل، اسلام کا سایہ ہے اور اس سے ٹپکنے والا گھی اور شہد، قرآن کی ملائمت اور شیرینی ہے۔ زیادہ یا کم لینے والے، تو وہ وہی ہیں جو قرآن سے اپنا حصہ زیادہ لے رہے ہیں یا کم۔ اور آسمان سے لٹکنے والی رسی، وہی حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ نے اسے پکڑا ہے تو اللہ آپ کو بلند فرمائے گا۔ پھر آپ کے بعد ایک آدمی پکڑے گا اور اس کے ذریعے سے اوپر چڑھ جائے گا۔ اس کے بعد دوسرا آدمی پکڑے گا تو وہ بھی اوپر چڑھ جائے گا۔ پھر تیسرا آدمی پکڑے گا تو وہ ٹوٹ جائے گی، پھر اسے اس کی خاطر جوڑ دیا جائے گا۔ تو پھر وہ اوپر چڑھ جائے گا۔ اے اللہ کے رسول! مجھے ضرور بتائیں کہ میں نے درست کہا ہے یا غلط؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ درست کہا ہے اور کچھ میں غلطی کی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں مجھے ضرور بتائیں کہ میں نے کیا غلطی کی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم مت دو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3268)، (تحفة الأشراف: 13575) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7046) صحيح مسلم (2269)
انظر الحديث السابق (3268)
انظر الحديث السابق (3268)
حدیث نمبر: 4633
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ آپ نے ان کو بتانے سے انکار کر دیا، (کہ انہوں نے کیا غلطی کی ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4633]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مذکورہ بالا قصہ بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غلطی کی وضاحت کرنے سے) انکار فرما دیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3269)، (تحفة الأشراف: 5838) (ضعیف الإسناد)» (سلیمان بن کثیر زہری سے روایت میں ضعیف ہیں، لیکن پچھلی سند سے یہ روایت صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4632)
انظر الحديث السابق (4632)
حدیث نمبر: 4634
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ:" مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ، وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ، فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟“ ایک شخص بولا: میں نے دیکھا: گویا ایک ترازو آسمان سے اترا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر کو تولا گیا، تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، پھر عمر اور ابوبکر کو تولا گیا تو ابوبکر بھاری نکلے، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر بھاری نکلے، پھر ترازو اٹھا لیا گیا، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں ناپسندیدگی دیکھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4634]
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دریافت فرمایا: ”تم میں سے خواب کس نے دیکھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: ”میں نے، میں نے دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ترازو اتری ہے، تو آپ کا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھاری ہو گئے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھاری ہو گئے۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھاری ہو گئے، پھر ترازو اٹھا لی گئی۔“ تو (اس بات پر) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الرؤیا10 (2287)، (تحفة الأشراف: 11662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/44، 50) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2287)
الحسن البصري مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
إسناده ضعيف
ترمذي (2287)
الحسن البصري مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
حدیث نمبر: 4635
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيه، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَ: فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَسَاءَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟“ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اور چہرے پر ناگواری دیکھنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ یوں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ (خواب) برا لگا، اور فرمایا: ”وہ نبوت کی خلافت ہے، پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا سلطنت عطا کرے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4635]
جناب عبدالرحمٰن اپنے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دریافت فرمایا: ”تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟“ تو مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی بیان کیا۔ مگر اس روایت میں «كَرَاهِيَة» کا ذکر نہیں، بلکہ «فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کیفیت پسند نہ آئی۔“ پھر فرمایا: ”یہ نبوت کی خلافت ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا اپنا ملک عنایت فرما دے گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11687) (صحیح)» (یہ روایت پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح ہے، ورنہ اس کے اندر علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
حدیث نمبر: 4636
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ، وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ، قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا تَنَوُّطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ يُونُسُ، وَشُعَيْبٌ، لَمْ يَذْكُرَا عَمْرَو بْنَ أَبَانَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کی رات ایک صالح شخص کو خواب میں دکھایا گیا کہ ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ دیا گیا ہے، اور عمر کو ابوبکر سے اور عثمان کو عمر سے“۔ جابر کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر آئے تو ہم نے کہا: مرد صالح سے مراد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور بعض کا بعض سے جوڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہی لوگ اس امر (دین) کے والی ہوں گے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس اور شعیب نے بھی روایت کیا ہے، لیکن ان دونوں نے عمرو بن ابان کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4636]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات ایک نیک بندے کو خواب دکھایا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معلق کیا گیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ معلق کیا گیا ہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ معلق کیا گیا ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے اٹھے تو ہم نے کہا: صالح آدمی تو وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ معلق کرنا، اس لیے کہ یہی لوگ اس امر کے ذمہ دار ہیں جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو یونس اور شعیب نے روایت کیا ہے، مگر ان دونوں نے سند میں عمرو (عمرو بن ابان) کا ذکر نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2502)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/355) (ضعیف)» (اس کے راوی عمرو بن ابان لین الحدیث ہیں، نیز جابر رضی اللہ عنہ سے ان کے سماع میں اختلاف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزهري عنعن ومع ذلك صححه الحاكم (71/3،72) ووافقه الذهبي(!)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
إسناده ضعيف
الزهري عنعن ومع ذلك صححه الحاكم (71/3،72) ووافقه الذهبي(!)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
حدیث نمبر: 4637
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَجُلًا، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ شُرْبًا ضَعِيفًا، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَانْتَشَطَتْ وَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے دیکھا گویا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا پہلے ابوبکر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑ کر اس میں سے تھوڑا سا پیا، پھر عمر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا، پھر عثمان آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور خوب سیر ہو کر پیا، پھر علی آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں، تو وہ چھلک گیا اور اس میں سے کچھ ان کے اوپر بھی پڑ گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4637]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے دیکھا ہے جیسے ایک ڈول آسمان سے لٹکایا گیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ہیں اور اس کو اس کے دونوں طرف کے کناروں سے پکڑ لیا اور اس سے پانی پیا، مگر کمزوری کے ساتھ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اس کو اس کے دونوں کناروں سے پکڑا اور پیا اور خوب سیر ہو کر پیٹ بھر کر پیا۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اس کے دونوں کناروں سے پکڑا اور پیا حتیٰ کہ پیٹ بھر کر پیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اس کے دونوں کناروں سے پکڑا تو وہ ہلا اور اس سے کچھ پانی ان پر گر گیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4628)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/21) (ضعیف)» (اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
عبد الرحمن أبو أشعث حسن الحديث
عبد الرحمن أبو أشعث حسن الحديث
حدیث نمبر: 4638
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ:" لَتَمْخُرَنَّ الرُّومُ، الشَّامَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، لَا يَمْتَنِعُ مِنْهَا إِلَّا دِمَشْقَ، وَعَمَّانُ".
مکحول نے کہا رومی شام میں چالیس دن تک لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں گے اور سوائے دمشق اور عمان کے کوئی شہر بھی ان سے نہ بچے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4638]
جناب مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ضرور ایسا ہو گا کہ رومی لوگ چالیس دن تک شامیوں کے گھروں میں گھسے رہیں گے۔ اس (فتنے) سے سوائے دمشق اور عمان کے کوئی شہر نہ بچے گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19464) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
إسناده ضعيف
الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
حدیث نمبر: 4639
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ الْمُرِّيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَعْيَسِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَلْمَانَ، يَقُولُ:"سَيَأْتِي مَلِكٌ مِنْ مُلُوكِ الْعَجَمِ يَظْهَرُ عَلَى الْمَدَائِنِ كُلِّهَا إِلَّا دِمَشْقَ".
عبدالعزیز بن علاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو الأ عیس عبدالرحمٰن بن سلمان کو کہتے سنا کہ عجم کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تمام شہروں پر غالب آ جائے گا سوائے دمشق کے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4639]
جناب ابواَعْیَس عبدالرحمٰن بن سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ”ایک عجمی بادشاہ سارے شہروں پر غالب آ جائے گا اور صرف دمشق محفوظ رہے گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4639]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18962) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبدالعزيز : لم أجد له ترجمة،ولعله عبد اللّٰه بن العلاء كما يظهر من تهذيب الكمال وغيره فالسند صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
إسناده ضعيف
عبدالعزيز : لم أجد له ترجمة،ولعله عبد اللّٰه بن العلاء كما يظهر من تهذيب الكمال وغيره فالسند صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
حدیث نمبر: 4640
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلَاحِمِ: أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ".
مکحول کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کا خیمہ لڑائیوں کے وقت ایک ایسی سر زمین میں ہو گا جسے غوطہٰ ۱؎ کہا جاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4640]
جناب مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگوں (اور فتنوں) کے دنوں میں مسلمان ایک ایسی جگہ پر خیمہ زن ہوں گے جسے غوطہ کہتے ہوں گے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19459) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دمشق کے پاس ملک شام میں ایک جگہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شاھد صحيح انظر الحديث السابق (4298)
وله شاھد صحيح انظر الحديث السابق (4298)
حدیث نمبر: 4641
حَدَّثَنَا أَبُو ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلَامِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ:" إِنَّ مَثَلَ عُثْمَانَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَقْرَؤُهَا وَيُفَسِّرُهَا: إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة آل عمران آية 55، يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ وَإِلَى أَهْلِ الشَّامِ".
عوف الا عرابی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا: عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» ”جب اللہ نے کہا کہ: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں“ (سورۃ آل عمران: ۵۵) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4641]
عوف (عوف ابی جمیلہ اعرابی) نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے حجاج (حجاج بن یوسف) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا: ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مثال اللہ کے ہاں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی طرح ہے۔“ پھر یہ آیت پڑھی: ﴿إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة آل عمران: 55] ”جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ میں تمہیں (اس جہان سے) پورا پورا لے جانے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور ان کافروں کی صحبت سے تمہیں پاک کرنے والا ہوں۔“ وہ یہ آیت پڑھتا جاتا تھا اور اس کی شرح کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے ہماری طرف اور اہل شام کی طرف اشارے کرتا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19183) (ضعیف) (عوف بن ابی جمیلة اعرابی اور حجاج کے درمیان انقطاع ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہ تفسیر بالرائے کی بدترین قسم ہے حجاج نے اس آیت کریمہ کو اپنے اور اپنے مخالفوں پر منطبق کر ڈالا جب کہ حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں، آج بھی بعض اہل بدعت آیات قرآنیہ کی من مانی تفسیر کرتے رہتے ہیں، اور اہل حق کو اہل باطل اور باطل پرستوں کو اہل حق باور کراتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
عبد السلام ھو ابن مطھر وجعفر ھو ابن سليمان الضبعي
عبد السلام ھو ابن مطھر وجعفر ھو ابن سليمان الضبعي