پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب في القدر
باب: تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4703
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُنَيْسَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ سورة الأعراف آية 172 قَالَ: قَرَأَ الْقَعْنَبِيُّ الْآيَةَ فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ، فَيُدْخِلَهُ بِهِ النَّارَ".
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت «وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم» کے متعلق پوچھا گیا ۱؎۔ (حدیث بیان کرتے وقت) قعنبی نے آیت پڑھی تو آپ نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا، اس سے اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے، اور یہ جنتیوں کے کام کریں گے، پھر ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے بھی اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جہنمیوں کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جہنم کے کام کریں گے“ تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! پھر عمل سے کیا فائدہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جنتیوں کے کام کراتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے، تو اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے، اور جب کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنمیوں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4703]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا﴾ [سورة الأعراف: 172] ”اور جب تیرے رب نے بنو آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی اور انہیں خود انہی پر گواہ ٹھہرایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔“ کی تفسیر پوچھی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر اپنا داہنا ہاتھ اس کی پشت پر پھیرا اور اس سے اس کی اولاد نکالی اور فرمایا: ان کو میں نے جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں والے عمل کریں گے۔ پھر اس کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور اس سے اس کی اولاد نکالی اور فرمایا: ان کو میں نے دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں والے عمل کریں گے۔“ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کیونکر ہیں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل نے جب بندے کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے تو اس سے اہل جنت والے عمل کرواتا ہے حتیٰ کہ وہ اہل جنت کے عمل کرتا ہوا مر جائے گا تو اللہ انہی اعمال کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرما دے گا اور جب کسی بندے کو آگ کے لیے پیدا کیا ہے تو اس سے دوزخیوں والے عمل کرواتا ہے حتیٰ کہ وہ دوزخیوں والے عمل کرتا ہوا مر جائے تو اللہ اسی کے سبب سے اسے آگ میں ڈال دے گا۔““ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر سورة الأعراف (3077)، (تحفة الأشراف: 10654)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القدر 1 (2)، مسند احمد (1/45) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور یاد کرو اس وقت کو جب تمہارے رب نے آدم کی اولاد کو اُن کی پشتوں سے نکالا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا مسح الظهر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3075)
مسلم بن يسار سمعه من نعيم بن ربيعة (وھو رجل مجهول،وثقه ابن حبان وحده) عن عمر رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165
إسناده ضعيف
ترمذي (3075)
مسلم بن يسار سمعه من نعيم بن ربيعة (وھو رجل مجهول،وثقه ابن حبان وحده) عن عمر رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3075
| الله خلق آدم ثم مسح ظهره بيمينه فاستخرج منه ذرية فقال خلقت هؤلاء للجنة وبعمل أهل الجنة يعملون ثم مسح ظهره فاستخرج منه ذرية فقال خلقت هؤلاء للنار وبعمل أهل النار يعملون فقال رجل يا رسول الله ففيم العمل قال فقال رسول الله إن الله إ |
سنن أبي داود |
4703
| الله خلق آدم ثم مسح ظهره بيمينه فاستخرج منه ذرية فقال خلقت هؤلاء للجنة وبعمل أهل الجنة يعملون ثم مسح ظهره فاستخرج منه ذرية فقال خلقت هؤلاء للنار وبعمل أهل النار يعملون فقال رجل يا رسول الله ففيم العمل فقال رسول الله إن الل |
مشكوة المصابيح |
95
| إن الله إذا خلق العبد للجنة استعمله بعمل اهل الجنة حتى يموت على عمل من اعمال اهل الجنة فيدخله الله الجنة وإذا خلق العبد للنار استعمله بعمل اهل النار حتى يموت على عمل من اعمال اهل النار فيدخله الله النار |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4703 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4703
فوائد ومسائل:
اولاد آدم کے ایک طبقے کا جنت کے لئے دوسرے کا جہنم کے لئے پیدا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علم کے مطابق ایک گروہ اچھے عمل کرتے کرتے جنت میں دوسرا برے عمل کرتے کرتے جہنم میں جائے گا۔
جس طرح اللہ کا علم یے یقینی اور حتمی طور پر ایساہی ہو گا۔
اس بات کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ایک جنت کے لئے اور دوسرا جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔
مگر اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ انسان مجبور محض ہے، کیونکہ انسان کو پورا اختیار اور عمل کی تمام تر صلاحیتیں دے کر پیدا کیا گیا ہے۔
انسان جو کچھ کرتا ہے وہ یقینا اللہ کی مشیت کے دائرے کے اند ررہ کر کرتا ہے، لیکن اپنے اس اختیار سے کرتا ہے جو اسے ودیعت کیا گیا ہے اور اسی پر جزا اور سزا مرتب ہونے والی ہے۔
بعض حضرات نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
اولاد آدم کے ایک طبقے کا جنت کے لئے دوسرے کا جہنم کے لئے پیدا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علم کے مطابق ایک گروہ اچھے عمل کرتے کرتے جنت میں دوسرا برے عمل کرتے کرتے جہنم میں جائے گا۔
جس طرح اللہ کا علم یے یقینی اور حتمی طور پر ایساہی ہو گا۔
اس بات کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ایک جنت کے لئے اور دوسرا جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔
مگر اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ انسان مجبور محض ہے، کیونکہ انسان کو پورا اختیار اور عمل کی تمام تر صلاحیتیں دے کر پیدا کیا گیا ہے۔
انسان جو کچھ کرتا ہے وہ یقینا اللہ کی مشیت کے دائرے کے اند ررہ کر کرتا ہے، لیکن اپنے اس اختیار سے کرتا ہے جو اسے ودیعت کیا گیا ہے اور اسی پر جزا اور سزا مرتب ہونے والی ہے۔
بعض حضرات نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4703]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 95
انسان کو وہی توفیق ہے جس کے لیے پیدا کیا گیا
«. . . وَعَن مُسلم بن يسَار قَالَ سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورهمْ) قَالَ عُمَرُ - [35] - بْنُ الْخَطَّابِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يسْأَل عَنْهَا فَقَالَ: «خلق آدم ثمَّ مسح ظَهره بِيَمِينِهِ فأاستخرج مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقَتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أهل الْجنَّة يعْملُونَ ثمَّ مسح ظَهره فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقَتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وبعمل أهل النَّار يعْملُونَ فَقَالَ رجل يَا رَسُول الله فَفِيمَ الْعَمَل يَا رَسُول الله قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ من أَعمال أهل الْجنَّة فيدخله الله الْجَنَّةَ وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعمال أهل النَّار فيدخله الله النَّار» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد . . .»
”. . . اور انہیں سیدنا مسلم بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت کریمہ «وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِيْ اٰدَمَ . . .» الخ کا مطلب دریافت کیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا پھر ان کی پیٹھ پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا، پھر ان کی پشت سے ان کی اولاد کو نکال کر فرمایا کہ ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں کے کام کریں گے پھر دوبارہ آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے ان کی اولاد کو نکال کر فرمایا کہ ان کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے یہ دوزخیوں کے کام کریں گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے تو جنتیوں کے کام اس سے کراتا ہے یہاں تک کہ وہ مرتے دم تک جنتیوں کے کام کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور جب کسی بندے کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے تو دوزخیوں کا کام اس سے کرواتا ہے اور مرتے دم تک دوزخیوں کے کام کرتا ہے اور انہیں عملوں کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کو مالک، ترمذی، اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 95]
«. . . وَعَن مُسلم بن يسَار قَالَ سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورهمْ) قَالَ عُمَرُ - [35] - بْنُ الْخَطَّابِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يسْأَل عَنْهَا فَقَالَ: «خلق آدم ثمَّ مسح ظَهره بِيَمِينِهِ فأاستخرج مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقَتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أهل الْجنَّة يعْملُونَ ثمَّ مسح ظَهره فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقَتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وبعمل أهل النَّار يعْملُونَ فَقَالَ رجل يَا رَسُول الله فَفِيمَ الْعَمَل يَا رَسُول الله قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ من أَعمال أهل الْجنَّة فيدخله الله الْجَنَّةَ وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعمال أهل النَّار فيدخله الله النَّار» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد . . .»
”. . . اور انہیں سیدنا مسلم بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت کریمہ «وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِيْ اٰدَمَ . . .» الخ کا مطلب دریافت کیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا پھر ان کی پیٹھ پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا، پھر ان کی پشت سے ان کی اولاد کو نکال کر فرمایا کہ ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں کے کام کریں گے پھر دوبارہ آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے ان کی اولاد کو نکال کر فرمایا کہ ان کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے یہ دوزخیوں کے کام کریں گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے تو جنتیوں کے کام اس سے کراتا ہے یہاں تک کہ وہ مرتے دم تک جنتیوں کے کام کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور جب کسی بندے کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے تو دوزخیوں کا کام اس سے کرواتا ہے اور مرتے دم تک دوزخیوں کے کام کرتا ہے اور انہیں عملوں کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کو مالک، ترمذی، اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 95]
تخریج:
[سنن ترمذي 3075]
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ مسلم بن یسار نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔
اس روایت کی دوسری سند میں نعیم بن ربیعہ مجہول الحال راوی ہے جسے صرف ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے۔
↰ دیکھئے میری کتاب [انوار الصحيفة فى الاحاديث الضعيفة د: 4703]
[سنن ترمذي 3075]
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ مسلم بن یسار نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔
اس روایت کی دوسری سند میں نعیم بن ربیعہ مجہول الحال راوی ہے جسے صرف ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے۔
↰ دیکھئے میری کتاب [انوار الصحيفة فى الاحاديث الضعيفة د: 4703]
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 95]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3075
سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر۔
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے آیت «وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم وأشهدهم على أنفسهم ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين» ۱؎ کا مطلب پوچھا گیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے اسی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ نے آدم کو پیدا کیا پھر اپنا داہنا ہاتھ ان کی پیٹھ پر پھیرا اور ان کی ایک ذریت (نسل) کو نکالا، اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ جنت ہی کا کام کریں گے، پھر (دوبارہ ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3075]
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے آیت «وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم وأشهدهم على أنفسهم ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين» ۱؎ کا مطلب پوچھا گیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے اسی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ نے آدم کو پیدا کیا پھر اپنا داہنا ہاتھ ان کی پیٹھ پر پھیرا اور ان کی ایک ذریت (نسل) کو نکالا، اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ جنت ہی کا کام کریں گے، پھر (دوبارہ ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3075]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جب تمہارے رب نے بنی آدم کی ذریت کو ان کی صلب سے نکلا اور انہیں کو ان پر (اس بات کا) گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ لوگوں نے کہا:
کیوں نہیں،
(آپ ہمارے رب ہیں) ہم اس کے گواہ ہیں۔
(یہ گواہی اس لیے لی ہے کہ) کہیں تم قیامت کے دن یہ کہنے نہ لگو کہ ہمیں تو اس کی کچھ خبر نہیں نہ تھی (الأعراف: 172)
2؎:
یعنی جب جہنمی اورجنتی کا فیصلہ پہلے ہی کر دیا گیا ہے تو اس کو لامحالہ،
چاروناچار وہیں پہنچنا ہے جہاں بھیجنے کے لیے اللہ نے اسے پیدا فرمایا ہے۔
تو پھرعمل کی کیا ضرورت ہے؟
نوٹ:
(سند میں مسلم بن یسار اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے،
اور ابوداؤد وغیرہ کی دوسری سند میں ان دونوں کے درمیان جو نعیم بن ربیعہ راوی ہے وہ مجہول ہے)
وضاحت:
1؎:
جب تمہارے رب نے بنی آدم کی ذریت کو ان کی صلب سے نکلا اور انہیں کو ان پر (اس بات کا) گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ لوگوں نے کہا:
کیوں نہیں،
(آپ ہمارے رب ہیں) ہم اس کے گواہ ہیں۔
(یہ گواہی اس لیے لی ہے کہ) کہیں تم قیامت کے دن یہ کہنے نہ لگو کہ ہمیں تو اس کی کچھ خبر نہیں نہ تھی (الأعراف: 172)
2؎:
یعنی جب جہنمی اورجنتی کا فیصلہ پہلے ہی کر دیا گیا ہے تو اس کو لامحالہ،
چاروناچار وہیں پہنچنا ہے جہاں بھیجنے کے لیے اللہ نے اسے پیدا فرمایا ہے۔
تو پھرعمل کی کیا ضرورت ہے؟
نوٹ:
(سند میں مسلم بن یسار اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے،
اور ابوداؤد وغیرہ کی دوسری سند میں ان دونوں کے درمیان جو نعیم بن ربیعہ راوی ہے وہ مجہول ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3075]
Sunan Abi Dawud Hadith 4703 in Urdu
مسلم بن يسار الجهني ← عمر بن الخطاب العدوي