علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب في القرآن
باب: قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4735
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنبأنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ , قَالَتْ:" وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے جی میں میرا معاملہ اس سے کمتر تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی گفتگو فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4735]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ: ”میں اپنے آپ کو اس بات سے بہت ہیچ سمجھتی تھی کہ اللہ عزوجل میری برات کے سلسلے میں کوئی ایسا کلام فرمائے گا جس کی تلاوت کی جائے گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشھادت 15 (2661)، المغازي 12 (4025)، 34 (4141)، صحیح مسلم/التوبة 10 (2770)، (تحفة الأشراف: 16126، 16128، 16311، 16576، 17409، 17412) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کلام کرے، اور قرآن میں اس کو نازل فرما دے جو ہمیشہ تلاوت کیا جائے، ان کا اشارہ واقعہ افک کی طرف تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواه البخاري (7500) ومسلم (2770) مطولًا
رواه البخاري (7500) ومسلم (2770) مطولًا
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4735 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4735
فوائد ومسائل:
1: غزوہ نبی مصطلق 5 یا 6 ہجری میں منافقین نے سیدہ عائشہ رضی اللہ پر بہتان کا ایک بہت بڑا پہاڑ توڑ دیا تھا جو خود سیدہ کے لئے، رسولؐ اور دیگر تمام اہل ایمان کے لئے انتہائی کرب واذیت کا باعث بنا، مگر اس کا انجام اس اعتبار سے بہت مسرت افزا رہا کہ ان کی براءت میں سولہ آیتیں نازل ہوئیں (سورۃالنور آیت 11 سے 26) جو ان کی مدح وستائش میں قیامت تک تلاوت ہوتی رہیں گی۔
2: اس واقعہ اور روایت میں اللہ عزوجل کی صفت کلام کا ذکر کیا گیا ہے۔
3: مذکورہ واقعہ ایک حادثہ تھا، مگر کلام اللہ کا حادث نہیں ہے۔
1: غزوہ نبی مصطلق 5 یا 6 ہجری میں منافقین نے سیدہ عائشہ رضی اللہ پر بہتان کا ایک بہت بڑا پہاڑ توڑ دیا تھا جو خود سیدہ کے لئے، رسولؐ اور دیگر تمام اہل ایمان کے لئے انتہائی کرب واذیت کا باعث بنا، مگر اس کا انجام اس اعتبار سے بہت مسرت افزا رہا کہ ان کی براءت میں سولہ آیتیں نازل ہوئیں (سورۃالنور آیت 11 سے 26) جو ان کی مدح وستائش میں قیامت تک تلاوت ہوتی رہیں گی۔
2: اس واقعہ اور روایت میں اللہ عزوجل کی صفت کلام کا ذکر کیا گیا ہے۔
3: مذکورہ واقعہ ایک حادثہ تھا، مگر کلام اللہ کا حادث نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4735]
Sunan Abi Dawud Hadith 4735 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق