علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب في القرآن
باب: قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4734
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأنا إِسْرَائِيلُ، أخبرنا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْقِفِ، فَقَالَ: أَلَا رَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو موقف (عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ) میں لوگوں پر پیش کرتے تھے اور فرماتے: ”کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے چلے، قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4734]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ابتدائی بعثت کے دنوں میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے اور کہتے تھے: ”سنو! کوئی مجھے اپنی قوم کی طرف لے جائے، بلاشبہ قریش نے مجھے اپنے رب کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل القرآن 24 (2925)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (201)، (تحفة الأشراف: 2241)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/390)، دی/فضائل 5 (3397) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موسم حج میں مختلف قبائل کے پاس جاتے اور ان میں دین اسلام کی تبلیغ کرتے تھے، اسی کی طرف اشارہ ہے، اس حدیث میں قرآن کو کلام اللہ فرمایا گیا ہے جس سے معتزلہ وغیرہ کی تردید ہوتی ہے جو کلام اللہ کو اللہ کی صفت نہ مان کر اس کو مخلوق کہتے تھے، سلف صالحین نے قرآن کو مخلوق کہنے والے گروہ کی تکفیر کی ہے، جب کہ قرآنی نصوص، احادیث شریفہ اور آثار سلف سے قرآن کا کلام اللہ ہونا، اور کلام اللہ کا صفت باری تعالیٰ ہونا ثابت ہے، اور اس پر سلف کا اجماع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (2925 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (2925 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2925
| يعرض نفسه بالموقف فقال ألا رجل يحملني إلى قومه فإن قريشا قد منعوني أن أبلغ كلام ربي |
سنن أبي داود |
4734
| يعرض نفسه على الناس في الموقف فقال ألا رجل يحملني إلى قومه فإن قريشا قد منعوني أن أبلغ كلام ربي |
سنن ابن ماجه |
201
| يعرض نفسه على الناس في الموسم فيقول ألا رجل يحملني إلى قومه فإن قريشا قد منعوني أن أبلغ كلام ربي |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4734 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4734
فوائد ومسائل:
1: اللہ عزوجل صفت کلا م سے موصوف ہے جس کا رسول ؐ نے اپنی اولین دعوت میں اظہار فرمایا اور لوگوں نے بھی اسکے ظاہری معنی ہی سمجھے۔
اس پر ہمارا ایمان ہے، مگر کلام کرنے کی کیفیت سے ہم آگاہ نہیں اور قرآن مجید بھی اسی کا کلام ہے جو جبرائیل امین ؑلے کر آئے اور حضرت محمد رسول ؐ کے سینے میں اتارا، مسلمان اسے پڑھتے، یاد کرتے اور مصحف کے اوراق میں لکھتے ہیں۔
2: اللہ تعالی کی ذات جس طرح قدیم ہے، اسی طرح اس کی تمام صفات بھی قدیم ہیں، بنا بریں قرآن مجید اللہ تعالی کا کلام ہے، تو یہ بھی اس کی قدیم اور غیر حادث صفت ہوئی۔
اسی لیے امام احمد بن حنبل اور دیگر محدثین ؒ اسے غیر مخلوق کہتے تھے اور معتزلہ اسے مخلوق قرار دیتے تھے۔
اس مسئلے میں امام احمد ؒ کی استقامت اور اس کی خاطر قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا، مشہور معروف ہے۔
3: عالم اسباب میں رسول ؐ کو بھی افراد کے تعاون کی ضرورت تھی جو اس تبلیغ حق میں آپ ؐ کے معاون بنتے جو بالآخر مہاجرین وانصار کی صورت میں آپ کو مل گئے۔
اسی طرح ہر داعی کی بھی ضرورت ہے۔
سوسعادت مند ہیں وہ عظیم لو گ ہیں جو داعیان حق کے دست وبازوبنتے ہیں۔
4: ظاہری اسباب کے مطابق ایک دوسرے سے مدد مانگنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا فرض ہے، اسی لیے نبی کریم ؐ نے بھی تبلیغ ودعوت کے کام میں لوگوں سے تعاون طلب کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ تعاون کیا۔
البتہ ماورائے اسباب طریقے سے کسی سے مدد طلب کرنا شرک ہے، کیو نکہ اسطرح اللہ تعالئ کے سوا کوئی بھی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے۔
1: اللہ عزوجل صفت کلا م سے موصوف ہے جس کا رسول ؐ نے اپنی اولین دعوت میں اظہار فرمایا اور لوگوں نے بھی اسکے ظاہری معنی ہی سمجھے۔
اس پر ہمارا ایمان ہے، مگر کلام کرنے کی کیفیت سے ہم آگاہ نہیں اور قرآن مجید بھی اسی کا کلام ہے جو جبرائیل امین ؑلے کر آئے اور حضرت محمد رسول ؐ کے سینے میں اتارا، مسلمان اسے پڑھتے، یاد کرتے اور مصحف کے اوراق میں لکھتے ہیں۔
2: اللہ تعالی کی ذات جس طرح قدیم ہے، اسی طرح اس کی تمام صفات بھی قدیم ہیں، بنا بریں قرآن مجید اللہ تعالی کا کلام ہے، تو یہ بھی اس کی قدیم اور غیر حادث صفت ہوئی۔
اسی لیے امام احمد بن حنبل اور دیگر محدثین ؒ اسے غیر مخلوق کہتے تھے اور معتزلہ اسے مخلوق قرار دیتے تھے۔
اس مسئلے میں امام احمد ؒ کی استقامت اور اس کی خاطر قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا، مشہور معروف ہے۔
3: عالم اسباب میں رسول ؐ کو بھی افراد کے تعاون کی ضرورت تھی جو اس تبلیغ حق میں آپ ؐ کے معاون بنتے جو بالآخر مہاجرین وانصار کی صورت میں آپ کو مل گئے۔
اسی طرح ہر داعی کی بھی ضرورت ہے۔
سوسعادت مند ہیں وہ عظیم لو گ ہیں جو داعیان حق کے دست وبازوبنتے ہیں۔
4: ظاہری اسباب کے مطابق ایک دوسرے سے مدد مانگنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا فرض ہے، اسی لیے نبی کریم ؐ نے بھی تبلیغ ودعوت کے کام میں لوگوں سے تعاون طلب کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ تعاون کیا۔
البتہ ماورائے اسباب طریقے سے کسی سے مدد طلب کرنا شرک ہے، کیو نکہ اسطرح اللہ تعالئ کے سوا کوئی بھی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4734]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث201
جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دنوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور فرماتے: ”کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے؟ اس لیے کہ قریش نے مجھے اپنے رب کے کلام کی تبلیغ سے روک دیا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 201]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دنوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور فرماتے: ”کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے؟ اس لیے کہ قریش نے مجھے اپنے رب کے کلام کی تبلیغ سے روک دیا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 201]
اردو حاشہ:
(1)
لوگوں سے ملاقاتیں کرنے کا مطلب ہے کہ حج کے ایام میں عرب کے ہر علاقے سے لوگ مکے آتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امید رکھتے تھے کہ شاید ان میں سے کوئی شخص یا قبیلہ ایسا ہو جو تبلیغ کے کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرے اور مخالفین کو مخالفت سے منع کرے تاکہ لوگ حق کو سمجھ کر قبول کر سکیں۔
(2)
دنیوی معاملات میں، اسباب کی حد تک، کسی سے تعاون اور مدد مانگنا توحید کے منافی نہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرَّ وَالتَّقْوىٰ﴾ (المائدہ: 2)
”نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔“
(3)
اس سے اللہ کی صفت کلام کا ثبوت ملتا ہے اور یہ کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے جبرئیل ؑ کا یا کسی اور کا نہیں۔
اس سے معتزلہ کی تردید ہو جاتی ہے۔
(1)
لوگوں سے ملاقاتیں کرنے کا مطلب ہے کہ حج کے ایام میں عرب کے ہر علاقے سے لوگ مکے آتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امید رکھتے تھے کہ شاید ان میں سے کوئی شخص یا قبیلہ ایسا ہو جو تبلیغ کے کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرے اور مخالفین کو مخالفت سے منع کرے تاکہ لوگ حق کو سمجھ کر قبول کر سکیں۔
(2)
دنیوی معاملات میں، اسباب کی حد تک، کسی سے تعاون اور مدد مانگنا توحید کے منافی نہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرَّ وَالتَّقْوىٰ﴾ (المائدہ: 2)
”نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔“
(3)
اس سے اللہ کی صفت کلام کا ثبوت ملتا ہے اور یہ کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے جبرئیل ؑ کا یا کسی اور کا نہیں۔
اس سے معتزلہ کی تردید ہو جاتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 201]
Sunan Abi Dawud Hadith 4734 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري