یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب في الدجال
باب: دجال کا بیان۔
حدیث نمبر: 4755
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حدثهم، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ، فَبَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يُبْكِيكِ؟ , قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ، فَبَكَيْتُ، فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ، فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا عِنْدَ الْمِيزَانِ، حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَوْ يَثْقُلُ، وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ: هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ، أَفِي يَمِينِهِ، أَمْ فِي شِمَالِهِ، أَمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ؟ وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضِعَ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ"، قَالَ يَعْقُوبُ، عَنْ يُونُسَ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِهِ.
حسن بصری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جہنم کا ذکر کیا تو رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں روتی ہو؟“، وہ بولیں: مجھے جہنم یاد آ گئی تو رونے لگی، کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین جگہوں پر تو وہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: ایک میزان کے پاس یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا میزان ہلکا ہے یا بھاری ہے، دوسرے کتاب کے وقت جب کہا جائے گا: آؤ پڑھو اپنی اپنی کتاب یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کی کتاب کس میں دی جائے گی آیا دائیں ہاتھ میں یا بائیں ہاتھ میں، یا پھر پیٹھ کے پیچھے سے اور تیسرے پل صراط کے پاس جب وہ جہنم پر رکھا جائے گا“۔ یعقوب نے «عن يونس» کے الفاظ سے روایت کی اور یہ حدیث اسی کے الفاظ میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4755]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے جہنم کا ذکر کیا اور رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے رلایا ہے؟“ کہنے لگیں: ”مجھے جہنم یاد آئی ہے تو رونے لگی ہوں۔ تو کیا بھلا آپ قیامت کے روز اپنے گھر والوں کو یاد رکھیں گے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مقامات ایسے ہیں جہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: ترازو کے پاس حتیٰ کہ اسے پتا چل جائے کہ اس کا تول ہلکا ہوا یا بھاری، نامہ اعمال ملنے کے وقت، جب کہا جائے گا ﴿هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ﴾ [سورة الحاقة: 19] ”آؤ میرا نامہ اعمال پڑھو۔“ حتیٰ کہ جان لے کہ اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں آتا ہے یا بائیں میں یا کمر کے پیچھے سے، اور (تیسرا مقام) پل صراط ہے جب اسے جہنم پر عین وسط میں ٹکایا جائے گا۔“ یعقوب نے «عَنْ يُونُسَ» کے الفاظ سے روایت کی اور یہ حدیث اسی کے الفاظ میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16058)، وقد أخرجہ: حم (6/101) (ضعیف)» (اس کے راوی حسن بصری مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحسن البصري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
إسناده ضعيف
الحسن البصري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4755
| هل تذكرون أهليكم يوم القيامة فقال رسول الله أما في ثلاثة مواطن فلا يذكر أحد أحدا عند الميزان حتى يعلم أيخف ميزانه أو يثقل عند الكتاب حين يقال هاؤم اقرءوا كتابيه حتى يعلم أين يقع كتابه أفي يمينه أم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4755 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4755
فوائد ومسائل:
یہ روایت سنداضعیف ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ محشر کے سارے ہی مراحل وہشت ناک ہیں، مگر یہ مذکورہ احوال زیادہ سخت ہوں گے۔
یہ روایت سنداضعیف ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ محشر کے سارے ہی مراحل وہشت ناک ہیں، مگر یہ مذکورہ احوال زیادہ سخت ہوں گے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4755]
Sunan Abi Dawud Hadith 4755 in Urdu
يعقوب بن إبراهيم العبدي ← يونس بن عبيد العبدي