🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب في الحلم وأخلاق النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور تحمل و بردباری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4773
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشُّعَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا، فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَذهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَابِضٌ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: يَا أُنَيسُ، اذْهَبْ حَيْثُ أَمَرْتُكَ"، قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا أَذّهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ أَنَسٌ: وَاللَّهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ، مَا عَلِمْتُ قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ وَلَا لِشَيْءٍ تَرَكْتُ: هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے بہتر اخلاق والے تھے، ایک دن آپ نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا تو میں نے کہا: قسم اللہ کی، میں نہیں جاؤں گا، حالانکہ میرے دل میں یہ بات تھی کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، اس لیے ضرور جاؤں گا، چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ جب میں کچھ بچوں کے پاس سے گزر رہا تھا اور وہ بازار میں کھیل رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑ لی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مڑ کر دیکھا، آپ ہنس رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ننھے انس! جاؤ جہاں میں نے تمہیں حکم دیا ہے میں نے عرض کیا: ٹھیک ہے، میں جا رہا ہوں، اللہ کے رسول، انس کہتے ہیں: اللہ کی قسم، میں نے سات سال یا نو سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کبھی میرے کسی ایسے کام پر جو میں نے کیا ہو یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا اور ایسا کیوں کیا؟ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جسے میں نے نہ کیا ہو یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا اور ایسا کیوں نہیں کیا؟۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4773]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سے سب بڑھ کر عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز مجھے کسی کام کے لیے بھیجا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جاؤں گا، حالانکہ میرے دل میں تھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی فرمایا ہے میں اس کے لیے جاؤں گا۔ کہتے ہیں: پس میں نکلا حتیٰ کہ بچوں کے پاس سے میرا گزر ہوا جو بازار میں کھیل رہے تھے۔ تو اچانک (کیا دیکھتا ہوں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرے پیچھے سے میری گدی پکڑے ہوئے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انیس! ادھر جاؤ جہاں کا میں نے تمہیں کہا ہے۔ میں نے عرض کیا: ہاں اے اللہ کے رسول! جا رہا ہوں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے سات سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے یا نو سال، مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے مجھے کسی کام پر جو میں نے کیا ہو، کبھی یوں کہا ہو: تو نے ایسے کیوں کیا؟ یا کوئی کام جو میں نے چھوڑ دیا ہو، تو کہا ہو کہ ایسے ایسے کیوں نہیں کیا؟ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الفضائل 13 (2310)، (تحفة الأشراف: 184)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوصایا 25 (2768)، الأدب 39 (6038)، الدیات 27 (6911)، سنن الترمذی/البر والصلة 69 (2015) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2310)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
صدوق يغلط
👤←👥عمر بن يونس الحنفي، أبو حفص
Newعمر بن يونس الحنفي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة
👤←👥مخلد بن خالد الشعيري، أبو محمد
Newمخلد بن خالد الشعيري ← عمر بن يونس الحنفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6038
خدمت النبي عشر سنين فما قال لي أف ولا لم صنعت ولا ألا صنعت
صحيح البخاري
6911
خدمته في الحضر والسفر فوالله ما قال لي لشيء صنعته لم صنعت هذا هكذا ولا لشيء لم أصنعه لم لم تصنع هذا هكذ
صحيح البخاري
2768
خدمته في السفر والحضر ما قال لي لشيء صنعته لم صنعت هذا هكذا ولا لشيء لم أصنعه لم لم تصنعه
صحيح مسلم
6011
خدمت رسول الله عشر سنين والله ما قال لي أفا قط ولا قال لي لشيء لم فعلت كذا وهلا فعلت كذا
صحيح مسلم
6014
خدمت رسول الله تسع سنين فما أعلمه قال لي قط لم فعلت كذا وكذا ولا عاب علي شيئا قط
صحيح مسلم
6013
خدمته في السفر والحضر والله ما قال لي لشيء صنعته لم صنعت هذا هكذا ولا لشيء لم أصنعه لم لم تصنع هذا هكذا
صحيح مسلم
6016
خدمته تسع سنين ما علمته قال لشيء صنعته لم فعلت كذا وكذا أو لشيء تركته هلا فعلت كذا وكذا
سنن أبي داود
4774
خدمت النبي عشر سنين بالمدينة وأنا غلام ليس كل أمري كما يشتهي صاحبي أن أكون عليه ما قال لي فيها أف قط وما قال لي لم فعلت هذا أو ألا فعلت هذا
سنن أبي داود
4773
خدمته سبع سنين أو تسع سنين ما علمت قال لشيء صنعت لم فعلت كذا وكذا ولا لشيء تركت هلا فعلت كذا وكذا
سنن الدارمي
63
خدمت رسول الله فما قال لي أف قط ولا قال لي لشيء صنعته لم صنعت كذا وكذا أو هلا صنعت كذا وكذا والله ما مسست بيدي ديباجا ولا حريرا ألين من يد رسول الله ولا وجدت ريحا قط أو عرفا كان أطيب من عرف أو ريح رسول الله
المعجم الصغير للطبراني
893
اكتم سري تكن مؤمنا ، فما أخبرت بسره أحدا ، وإن كانت أمي ، وأزواج النبى صلى الله عليه وآله وسلم يسألنني أن أخبرهن بسره فلا أخبرهن ولا أخبر بسره أحدا أبدا ، ثم قال : يا بني أسبغ الوضوء يزد فى عمرك ويحبك حافظاك ، ثم قال : يا بني ، إن استطعت أن لا تبيت إلا على وضوء فافعل ، فإنه من أتاه الموت وهو على وضوء أعطي الشهادة ، ثم قال : يا بني ، إن استطعت أن لا تزال تصلي فافعل فإن الملائكة لا تزال تصلي عليك ما دمت تصلي ، ثم قال : يا بني ، إياك والالتفات فى الصلاة ، فإن الالتفات فى الصلاة هلكة ، فإن كان لا بد ففي التطوع لا فى الفريضة ، ثم قال لي : يا بني ، إذا ركعت فضع كفيك على ركبتيك ، وافرج بين أصابعك ، وارفع يديك على جنبيك ، فإذا رفعت رأسك من الركوع فكن لكل عضو موضعه ، فإن الله لا ينظر يوم القيامة إلى من لا يقيم صلبه فى ركوعه وسجوده ، ثم قال : يا بني ، إذا سجدت فلا تنقر كما ينقر الديك ، ولا تقع كما يقعي الكلب ، ولا تفترش ذراعيك افتراش السبع ، وافرش ظهر قدميك الأرض ، وضع إليتيك على عقبيك فإن ذلك أيسر عليك يوم القيامة فى حسابك ، ثم قال : يا بني بالغ فى الغسل من الجنابة تخرج من مغتسلك ليس عليك ذنب ولا خطيئة ، قلت : بأبي وأمي ، ما المبالغة ؟ ، قال : تبل أصول الشعر ، وتنقي البشرة ، ثم قال لي : يا بني ، إن إذا قدرت أن تجعل من صلواتك فى بيتك شيئا فافعل فإنه يكثر خير بيتك ، ثم قال لي : يا بني ، إذا دخلت على أهلك فسلم يكن بركة عليك وعلى أهل بيتك ، ثم قال : يا بني ، إذا خرجت من بيتك فلا يقعن بصرك على أحد من أهل القبلة ، إلا سلمت عليه ترجع وقد زيد فى حسناتك ، ثم قال لي : يا بني ، إن قدرت أن تمسي وتصبح وليس فى قلبك غش لأحد فافعل ، ثم قال لي : يا بني ، إذا خرجت من أهلك فلا يقعن بصرك على أحد من أهل القبلة ، إلا ظننت أن له الفضل عليك ، ثم قال لي : يا بني ، إن حفظت وصيتي فلا يكونن شيء أحب إليك من الموت ، ثم قال لي : يا بني إن ذلك من سنتي ومن أحيا سنتي فقد أحبني ومن أحبني كان معي فى الجنة
المعجم الصغير للطبراني
906
دعوه ، فإنه لا يكون إلا ما أراد الله ، وما رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم انتقم لنفسه من شيء قط إلا أن تنتهك لله حرمة ، فإذا انتهكت لله حرمة ، كان أشد الناس غضبا لله عز وجل ، وما عرض عليه أمران قط إلا اختار أيسرهما ما لم يكن لله فيه سخط ، فإن كان لله فيه سخط كان أبعد الناس منه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4773 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4773
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلم اور اخلاقِ حسنہ کی شاندار تصویر تھے اور بچوں کی نفسیات سے خوب آگاہ تھے۔
نیز حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا موقع نہیں دیا تھا جو آپ کے ذوق اور مزاج کے لیئے گرانی کا باعث بنتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4773]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4774
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور تحمل و بردباری کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں ایک کمسن بچہ تھا، میرا ہر کام اس طرح نہ ہوتا تھا جیسے میرے آقا کی مرضی ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے اف تک نہیں کہا اور نہ مجھ سے یہ کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ یا تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4774]
فوائد ومسائل:
بعض نوخیز بچے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کو ان کے کاموں میں حوصلہ اور اعتماد دیا جائے تو اس طرح سے انکی عملی زندگی بڑ ی کامیاب رہتی ہے۔
تاہم سارے بچے اس طرح ذہین ہی ہوتے ہیں نہ زیادہ سمجھدار ہی انکو آداب سکھانے کے لیئے کچھ نہ کچھ سرزنش بھی کرنی پڑتی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ اول الذکر قسم کے بچے تھے وہ بچہ ہونے کے با وجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکائیت کا مو قع نہی دیتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو تھے سراپا شفقت اور مجسمِ رحمت۔
آپ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہمیشہ شفقت و پیار والا معاملہ ہی کیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4774]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6011
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، اللہ کی قسم! آپ نے کبھی مجھے کبھی اُف تک نہیں کہا اور نہ نہ مجھے کسی چیز کے بارے میں کہا تو نے اس طرح کیوں کیا اور تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟ ابو ربیع اضافہ کرتے ہیں، جو کام خادم نہیں کرتا اور کلمہ اللہ کی قسم کا ذکر نہیں کیا- [صحيح مسلم، حديث نمبر:6011]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ انتہائی حلیم اور بردبار تھے،
دس سال کا ایک نوخیز لڑکا آپ کا خادم تھا اور وہ اپنے لڑکپن کی بنا پر یقینا ایسا کام کرتا ہو گا،
جو آپ کے شایان شان نہیں ہو گا،
کبھی اس میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ بھی کرتا ہو گا،
جیسا کہ آنے والی روایات سے معلوم ہوتا ہے،
لیکن آپ نے کبھی اکتاہٹ اور بیزاری کا اظہار نہیں فرمایا اور نہ ہی سرزنش و توبیخ سے کام لیا بلکہ اس کی دل داری فرمائی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6011]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6013
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے کر چل پڑے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! انس ایک سمجھدار لڑکا ہے، آپ کی خدمت کرے گا سو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفر اور حضر میں خدمت کی، اللہ کی قسم! جو کام میں نے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کہا، یہ کام تو نے اس طرح کیوں کیا، اور جو کام میں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6013]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت انس رضی اللہ عنہ،
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے لخت جگر ہیں اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی تھی اور حضرت ام سلیم کے مشورہ ہی سے حضرت انس کو آپ کی خدمت کے لیے لے گئے تھے،
اس لیے بعض جگہ لے جانے کی نسبت حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کی طرف کی گئی ہے،
نیز جنگ خیبر کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ سے کسی ایسے خادم کا مطالبہ کیا،
جو سفر میں آپ کی خدمت کرے تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے بھی،
حضرت انس ہی کو پیش کیا،
اس لیے حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں،
میں نے آپ کی سفر و حضر میں خدمت کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6013]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6014
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نوسال خدمت کی تو میں نہیں جانتا، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے کبھی فرمایا ہو، یہ کام تونے کیوں کیا؟اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کام پر نکتہ چینی فرمائی ((نہ کسی کام میں عیب نکالا) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6014]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نو سال کچھ ماہ گزارے تھے،
اس لیے کبھی کسر کو پورا کرتے ہوئے دس سال کہہ دیا اور کبھی اس کو نظر انداز کرتے ہوئے 9 سال کہہ لیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6014]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2768
2768. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ کا کوئی خدمت گزار نہیں تھا۔ حضرت ابوطلحہ ؓ میرا ہاتھ پکڑ کر آپ کی خدمت میں لے آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یقینا!انس ایک زیرک بچہ ہے۔ یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سفر و حضر میں آپ کی خدمت کا فریضہ سر انجام دیا۔ آپ نے مجھے کسی کام کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ کبھی نہ فرمایا: تم نے اس طرح کیوں کیا؟ اسی طرح کسی ایسے کام کے متعلق جو میں نہ کر سکا، آپ نے کبھی سر زنش نہ کی تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2768]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابو طلحہ نے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سوتیلے باپ تھے‘ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے وقف کردیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ کے لئے نکل رہے تھے‘ اسی سے مقصد باب ثابت ہوا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ قابل صد مبارک باد ہیںکہ ان کو سفر و حضر میں پورے دس سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا موقع حاصل ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا بہت قریب سے انہوں نے معائنہ کیا اور قیامت تک کے لئے وہ خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے دنیا میں یادگار رہ گئے (رضی اللہ عنہ وارضاہ)
یہ ابو طلحہ زید بن سہل انصاری شوہر ام سلیم (والدہ انس)
کے ہیں اوراس حدیث کے جملہ راوی بصری ہیں جس طرح کہ قسطلانی نے بیان کیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2768]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6038
6038. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا ہوں لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6038]
حدیث حاشیہ:
دس سال کی مدت کافی طویل ہوتی ہے مگر اس ساری مدت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی نہیں ڈانٹا نہ دھمکایا نہ کبھی آپ نے ان سے سخت کلامی فرمائی۔
یہ آپ کے حسن اخلاق کی دلیل ہے اور حقیقت ہے کہ آپ سے زیادہ دنیا میں کوئی شخص نرم دل خوش اخلاق پیدا نہیں ہوا۔
اللہ پاک اس پیارے رسول پر ہزارہا ہزار درود وسلام نازل فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6038]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2768
2768. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ کا کوئی خدمت گزار نہیں تھا۔ حضرت ابوطلحہ ؓ میرا ہاتھ پکڑ کر آپ کی خدمت میں لے آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یقینا!انس ایک زیرک بچہ ہے۔ یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سفر و حضر میں آپ کی خدمت کا فریضہ سر انجام دیا۔ آپ نے مجھے کسی کام کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ کبھی نہ فرمایا: تم نے اس طرح کیوں کیا؟ اسی طرح کسی ایسے کام کے متعلق جو میں نہ کر سکا، آپ نے کبھی سر زنش نہ کی تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2768]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب یتیم میں خدمت کرنے کی صلاحیت ہو تو اسے سفر میں ساتھ لے جانا جائز ہے۔
حضرت ابو طلحہ ؓ حضرت انس ؓ کے سوتیلے باپ تھے کیونکہ ان کی والدہ ام سلیم ؓ سے انہوں نے نکاح کر لیا تھا۔
حضرت انس ؓ کی عمر دس سال تھی جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے وقف کر دیا گیا، پھر انہیں دس سال تک سفر و حضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا موقع ملا۔
انہوں نے بہت قریب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا مطالعہ کیا اور قیامت تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت گزار کی حیثیت سے پہچانے جائیں گے۔
جب حضرت انس ؓ فوت ہوئے تو ان کی عمر سو سال سے زیادہ تھی۔
(2)
حضرت انس ؓ کے خادم بننے کی تفصیل اس طرح ہے کہ ان کی والدہ ام سلیم نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے پیش کیا تھا۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1982)
پھر حضرت ابو طلحہ ؓ نے ان کی اجازت سے غزوۂ خیبر کے لیے جاتے وقت دوران سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے ان کا انتخاب کیا۔
(صحیح البخاري، الجھادوالسیر، حدیث: 2893)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2768]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6038
6038. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا ہوں لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6038]
حدیث حاشیہ:
(1)
دس سال کی مدت کافی طویل ہوتی ہے، مگر اس مدت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کبھی نہیں ڈانٹا اور نہ کبھی آپ نے سخت کلامی کی۔
یہ آپ کے حسن اخلاق کی واضح دلیل ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر کوئی شخص نرم دل، خندہ جبیں اور خوش کلام پیدا نہیں ہوا۔
(2)
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی عظمت ظاہر ہوتی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دینی معاملات میں کبھی مداہنت نہیں کرتے تھے کیونکہ یہ معاملات امر بالمعروف اور نہی اعن المنکر کی قبیل سے ہیں۔
بہرحال آپ اپنے خادموں سے حسن سلوک سے پیش آتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6038]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6911
6911. حضرت انس ؓ سے ہے انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدنیہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت ابو طلحہ ؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سفر حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزاری کا فریضہ ادا کیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے متعلق جو میں نے کیا یہ نہیں کہا: تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور نہ ہی کسی کام کے متعلق جو میں نے کیا، یہ کہا تو نے وہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا؟۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6911]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنی والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کی کفالت میں تھے۔
انھوں نے اس بات کو سعادت خیال کیا کہ ان کا بیٹا رات دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرے کیونکہ اس میں دنیا وآخرت کی بھلائیاں تھیں۔
اس جذبے سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور اس وقت ان کے ہمراہ شوہر نامدار حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، اس لیے واقعے کی نسبت کبھی والدہ اور کبھی ان کے شوہر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی۔
(2)
ایک دوسرا واقعہ بھی اس طرح کا منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے خیبر جاتے ہوئے فرمایا:
میرے لیے کوئی بچہ تلاش کرو جو میری دوران سفر میں خدمت کرے تو انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پیش کیا۔
(فتح الباري: 316/12)
بہرحال غلاموں اور بچوں سے خدمت لی جا سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ مدرسے کے اساتذہ کو بچوں سے خدمت لینے سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ فتنے وفساد کا دور ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6911]

Sunan Abi Dawud Hadith 4773 in Urdu