یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب في حسن العشرة
باب: حسن معاشرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4789
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَ: لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ ذَا عَنْهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَلْمٌ لَيْسَ هُوَ عَلَوِيًّا، كَانَ يُبْصِرُ فِي النُّجُومِ، وَشَهِدَ عِنْدَ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ، فَلَمْ يُجِزْ شَهَادَتَهُ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس پر زردی کا نشان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ بہت کم کسی ایسے شخص کے روبرو ہوتے، جس کے چہرے پر کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند کرتے تو جب وہ نکل گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش تم لوگ اس سے کہتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلم علوی (یعنی اولاد علی میں سے) نہیں تھا بلکہ وہ ستارے دیکھا کرتا تھا ۱؎ اور اس نے عدی بن ارطاۃ کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے اس کی گواہی قبول نہیں کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4789]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ اس پر زرد رنگ کا کچھ نشان تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو اس کے منہ پر بہت کم ایسی بات کہتے تھے جو اس کو ناگوار ہو (یعنی اس کی غلطی پر اس کو نہ ٹوکتے تھے)۔ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ہی اس کو کہہ دو کہ اس (رنگ) کو دھو ڈالے (تو بہتر ہو)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس کا راوی ”سلم علوی“ حقیقت میں اولادِ علی رضی اللہ عنہ میں سے نہیں (یہ دوسرا شخص ہے، اس کا نام سلم بن قیس ہے اور یہ بصری ہے چونکہ ستارے اوپر ہوتے ہیں) ستاروں پر نظر رکھنے کی وجہ سے اسے علوی کہا جانے لگا، اس نے سیدنا عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ کے سامنے چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے قبول نہ کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4789]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4182)، (تحفة الأشراف: 867) (ضعیف)» (اس میں سلم العلوی ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی علو (بلندی) کی طرف دیکھتا تھا کیونکہ ستارے بلندی ہی میں ہوتے ہیں، اسی وجہ سے علو کی طرف نسبت کر کے اسے علوی کہا جاتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4182)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4182)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥سلم بن قيس العلوي سلم بن قيس العلوي ← أنس بن مالك الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← سلم بن قيس العلوي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥عبيد الله بن عمر الجشمي، أبو سعيد عبيد الله بن عمر الجشمي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4789
| لو أمرتم هذا أن يغسل ذا عنه |
سنن أبي داود |
4182
| لو أمرتم هذا أن يغسل هذا عنه |
Sunan Abi Dawud Hadith 4789 in Urdu
سلم بن قيس العلوي ← أنس بن مالك الأنصاري