سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب في حسن العشرة
باب: حسن معاشرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4788
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي الْحِمَّانِيَّ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَلَغَهُ عَنِ الرَّجُلِ الشَّيْءُ، لَمْ يَقُلْ: مَا بَالُ فُلَانٍ يَقُولُ، وَلَكِنْ يَقُولُ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے: ”فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے؟“ بلکہ یوں فرماتے: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا اور ایسا کہتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4788]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کے متعلق کوئی (نامناسب) خبر ملتی تو یوں نہ کہتے: ”فلاں کو کیا ہوا ہے کہ یوں کہتا ہے یا کرتا ہے؟“ بلکہ یوں فرماتے: ”لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایسے ایسے کہتے ہیں یا کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4788]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17640) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6101) صحيح مسلم (2356)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4788
| إذا بلغه عن الرجل الشيء لم يقل ما بال فلان يقول ولكن يقول ما بال أقوام يقولون كذا وكذا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4788 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4788
فوائد ومسائل:
نصیحت کا پہلا اور عمدہ ترین ادب یہی ہے کہ اشارے اور کنائے سے بات ہو اور ایسے ہی خطیب کو بھی کسی فرد کی بصراحت نشاندہی سے بچنا چاہیے۔
نصیحت کا پہلا اور عمدہ ترین ادب یہی ہے کہ اشارے اور کنائے سے بات ہو اور ایسے ہی خطیب کو بھی کسی فرد کی بصراحت نشاندہی سے بچنا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4788]
Sunan Abi Dawud Hadith 4788 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق