سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 481
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَيْوَانَ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، قَالَ أَحْمَدُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: لَا يُصَلِّي لَكُمْ، فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں) کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ رہے تھے، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے“، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، (میں نے منع کیا ہے)“، صحابی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 481]
سیدنا ابوسہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، احمد (احمد بن صالح، امام ابوداؤد رحمہ اللہ کے استاد) کہتے ہیں کہ وہ (سائب رضی اللہ عنہ) ایک صحابی ہیں۔ ان سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی قوم کی امامت کرائی اور اس نے قبلے کی جانب تھوک دیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ جب وہ فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کی قوم سے) فرمایا: ”(آئندہ) یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔“ اس کے بعد اس نے انہیں نماز پڑھانا چاہی تو انہوں نے اس کو روک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا۔ تو اس نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3789)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/56) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (747)
مشكوة المصابيح (747)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
481
| لا يصلي لكم فأراد بعد ذلك أن يصلي لهم فمنعوه وأخبروه بقول رسول الله فذكر ذلك لرسول الله فقال نعم وحسبت أنه قال إنك آذيت الله ورسوله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 481 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 481
481۔ اردو حاشیہ:
اس توبیخ پر قیاس کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ شریعت میں بیان کردہ آداب و حدود کی خلاف ورزی اللہ اور رسول کو ایذا دینا ہے۔
اس توبیخ پر قیاس کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ شریعت میں بیان کردہ آداب و حدود کی خلاف ورزی اللہ اور رسول کو ایذا دینا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 481]
Sunan Abi Dawud Hadith 481 in Urdu
صالح بن خيوان السبأي ← السائب بن خلاد الأنصاري